Book Name:Guldasta e Durood o Salam

            سیّدُ المُرسَلِین، جنابِ رحمۃٌ لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے  :  ’’جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کیلئے دس نیکیا ں لکھ دیتا ہے ، دس گُناہ مُعاف فرمادیتا ہے اور اس کے دس دَرَجات بُلند فرمادیتا ہے اور یہ دس غُلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔ ‘‘ (الترغیب والترھیب، کتاب الذکر والدعاء ، الترغیب فی اکثار الصلاۃ علی النبی، ۲ / ۳۲۲، حدیث  : ۲۵۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰے ، شبِ اسریٰ کے دُولہاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ذاتِ مُبارکہ پردُرُود وسَلام پڑھنے کے بے شُمار فَضائل وبَرکات ہیں ۔ ہمیں بھی اپنا ذِہن بنانا چاہئے کہ اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، ذَوق وشوق کے ساتھ، ادب واِحتِرام کے ساتھ دُرُود وسَلام کی کثرت کریں کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذِکرِ خَیرکرنا باعثِ نُزُولِ رَحمت ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُناسُفْیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  :  ’’عِنْدَ ذِکْرِالصَّالِحِیْنَ تَنَزَّلُ الرَّحْمَۃ جہاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے نیک بندوں کا ذِکرِخَیر ہوتا ہے وہاں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رَحمتوں کا نزول ہوتا ہے ۔

(حلیۃ الاولیاء ، سفیان بن عیینۃ ، ۷ / ۳۳۵، حدیث : ۱۰۷۵۰)

جب نیک بندوں کا ذِکر سببِ نُزُولِ رحمت ہے تو پھر اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے ذِکر کا کیا عالم ہوگا اور پھر شاہِ خَیرُالْاَنامصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکرِ خَیر کے تو کیا ہی کہنے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذِکرِ خَیرکے وَقت یقینا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رَحمتوں کا نُزول ہو گا اور اس کی رَحمتوں کی چَھماچَھم برسات ہوگی کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو سیِّدُالْاَنْبِیَائِ وَالْمُرْسَلِیْنہیں ۔

اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسُنّت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے مشہور ومعروف نعتیہ کلام ’’حَدَائِق بَخْشِش‘‘ میں کیا خُوب فرماتے ہیں  :

خَلق سے اَولیاء، اَولیاء سے رُسُل                              اور رسولوں سے اَعلیٰ ہمارا نبی

ملک کونین میں انبیا تاجدار                                          تاجداروں کا آقا ہمَارا نبی                (حدائقِ بخشش، ص۱۳۸)

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اپنے پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے حد دَرَجہمَحَبَّت ہے اور کیوں نہ ہوکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحَبَّت کمالِ ایمان کے لئے شَرط ہے اس لئے ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کثرت سے ذِکرِ خَیر کرتے ہیں ، دُرُودِ پاک پڑھتے ہیں کیونکہ انسان کو جس سے مَحَبَّت ہوتی ہے اس کا ذِکر کثرت سے کرتا ہے ۔ چُنانچہ ہادیٔ راہِ نَجات، سر ورِ کائنا ت، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مَنْ اَحَبَّ شَیْأً اَکْثَرَ ذِکْرَہُ، یعنی انسان کو جس سے مَحَبَّت ہوتی ہے اس کا ذِکر کثرت سے کرتا ہے  ۔ ‘‘(زرقانی علی المواہب) اور پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود و سَلام کی کثرت کرنا تو اَہلِ سُنَّت کی علامت بھی ہے ۔ چُنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا علی بن حُسین بن علی رَضی اﷲ تعالٰی عَنْہُم فرماتے ہیں  :  ’’عَلَامَۃُ اَھْلِ السُّنَّۃِ کَثْرَۃُ الصَّلٰوۃِ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ یعنیرَسُو ل اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُود کی کثرت کرنا اَہلِ سُنَّت کی عَلامت اور ان کا شعار ہے  ۔ ‘‘(القول البدیع، الباب الاول فی الامر بالصلاۃ علی رسول اللّٰہالخ، ص ۱۳۱ )

ہم کو اللّٰہ اور نبی سے پیارے ہے

اِنْ شَآءَ اللّٰہ دو جہاں میں اپنا بیڑاپار ہے   (وسائلِ بخشش، ص۶۰۰)

ذِکرِ رسُول ذِکرِخُداہے

یادرکھئے !آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر دُرُود پڑھنا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کا ذِکر کرنا ہے کیونکہ دُرُود شریف اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے ذِکر پرمُشتمل ہے جیسا کہ حَنفِیوں کے عَظِیْم پیشوا حضرت علَّامہعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْباری فرماتے ہیں  : ’ ’لِاَنَّ الصَّلَاۃَعَلَیْہِ مُشْتَمِلَۃٌ عَلٰی ذِکْرِاللّٰہ وَتَعْظِیْمِ الرَّسُوْلِ، یعنی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامپر دُرُود پڑھنا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ذِکر اورنبیِّ کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسْلِیم کی تَعْظِیم پر مُشتمِل ہے  ۔ ‘‘(مرقاۃ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ علی النبی وفضلہا، ۳ / ۱۷، تحت الحدیث : ۹۲۹)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا اپنے پیارے حبیب پر اِتنا کَرم ہے کہ اپنے پیارے مَحبوب کے ذِکر کوخُود اپناذِکر قرار دیتا ہے جیسا کہ حدیثِ قُدسی میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  فرماتا ہے  :  ’’اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِیَ، اے مَحبوب !جب بھی میرا ذِکر ہوگا میرے ساتھ ساتھ تیرا بھی ذِکر ہوگا ۔ اِبنِ عطا اس حدیث کا مَطلب ان اَلفاظ میں بیان کرتے ہیں  :  ’’جَعَلْتُ تَمَامَ الْاِیْمَانِ بِذِکْرِکَ مَعِیَ، یعنی میں نے ایمان کا مُکمل ہونا اس بات پر مَوقُوف کر دیا ہے کہ میرے ذِ کر کے ساتھ تمہا را ذِکر بھی ہوگا  ۔ ‘‘ابن عطا مزید فرماتے ہیں  :  ’’جَعَلْتُکَ ذِکْراً مِنْ ذِکْرِیْ، میں نے آپ کے ذِکر کو اپنا ذِکر ٹھہرا دیا ہے  ۔ ‘‘فَمَنْ ذَکَرَکَ ذَکَرَنِیْ، توجس نے آپ کا ذِکر کیا اس نے میر اذِکر کیا ۔ ‘‘(الشفابتعریف حقوق المصطفیٰ، ص۲۰)

حضرتِ سَیِّدُناابُو سعیدخُدْری رَضِی اﷲ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہ سرکارِ مدینۂ مُنوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’میرے پاس جبرائیل عَلَیْہِ السّلام آئے اور کہا، اِنَّ رَبَّکَ یَقُوْلُ تَدْرِیْ کَیْفَ رَفَعْتُ ذِکْرَکَ؟ ‘‘آپ کا رَبّ فرماتا ہے  : کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہارا ذِکر کس طرح بُلَنْد کیاہے ’’قُلْتُ اَللّٰہُ اَعْلَمُ‘‘ میں نے کہا :  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خُوب جا نتا ہے ۔ ’’قَالَ اِذَا ذُکِرْتُ ذُکِرْتَ مَعِی، فرمایا :  جب میرا ذِکر ہو گا تو میرے ذِکر کے ساتھ تمہارا ذِکر بھی ہو گا ۔ ‘‘(درمنثور، پ۳۰، الانشراح ، تحت الآیۃ : ۴، ۸ / ۵۴۹)

وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ کا ہے سایہ تجھ پر

                  بول بالا ہے تیرا ذِکر ہے اُونچا تیرا  (حدائقِ بخشش، ص۲۸)



Total Pages: 141

Go To