Book Name:Guldasta e Durood o Salam

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی اپنی دعاؤں کی حفاظت ، ربّ تعالیٰ کی رِضاوخُوشنودی اور اپنے اعمال کی پاکیزگی حاصل کرنے کیلئے نبیِّ رَحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ بابَرَکت پر دُرُودوسلام کی کثرت کی عادت بنالینی چاہیے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی برکت سے روزِ محشر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شَفاعت اور آپ کی زِیارت کاشرف حاصل ہوگا ۔  لہٰذا جب بھی حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذِکرِخَیرخود کریں یا سُنیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات پر بَصد عَقیدت ومَحَبَّت دُرُود شریف ضَروربِالضَّرور پڑھ لیا کریں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری ذرا سی غَفْلَت کل بروزِ قِیامت ہماری حَسرت اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت سے مَحرومی کا باعِث بن جائے ۔

کچھ ایسا کردے میرے کردگار آنکھوں میں             ہمیشہ نَقْش رہے رُوئے یار آنکھوں میں

                                   انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں                    کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں                       (سامانِ بخشش، ص۱۲۹)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی ایک اُمَّتِی کے لئے بہت بڑی مَحرومی کی بات ہے کہ جن آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی غُلامی میں اپنی زِندَگانی بسر کی ان کی نہ تو دُنیا میں زِیارت کر سکا اور نہ ہی آخرت میں آپ کی شفاعت وزیارت سے بہرہ مند ہوپایا، ہاں !اگردیگر عِبادات کے ساتھ ساتھ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ طیِّبہ پر دُرُودِ پاک پڑھنے کی عادت ہوگی تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنظرِ کرم فرماہی دیں گے بلکہ احادیثِ مُبارکہ سے پتا چلتا ہے کہ روزِ محشر، خَلق کے رہبر، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے عاشِقوں کو کثرتِ دُرُودِ پاک کی بدولت پہچانیں گے ۔ چُنانچہ

          نبیِّ رحمت، شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ رحمت نشان ہے  :  ’’لَیَرِدَنَّ الْحَوْضَ عَلَیَّ اَقْوَامٌ مَّا اَعْرِفُہُمْ اِلَّا بِکَثْرَۃِ الصَّلَاۃِ عَلَیّ، حوضِ کوثر پر کچھ لوگ آئیں گے جنہیں میں کثرتِ دُرُود کے سبب پہچان لوں گا ۔ ‘‘(القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ الخ، ص ۲۶۴)

حوضِ کوثر کی شان

            سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ!حوضِ کوثر کی بھی کیا شان ہے ! چُنانچِہدعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 176 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بِہِشت کی کُنجیاں ‘‘ صَفْحَہ15تا16پر ہے  : جنَّت میں شیریں (یعنی میٹھے ) پانی، شَہد، دُودھ اور شراب کی نہریں بہتی ہیں ۔ ( ترمذی ، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ماجاء فی صفۃ انہار الجنۃ، ۴ / ۲۵۷، حدیث  : ۲۵۸۰ ) جب جنّتی پانی کی نَہَر میں سے پئیں گے تو انہیں ایسی حَیات ملے گی کہ کبھی موت نہ آئے گی اور جب دُودھ کی نَہَرمیں سے نوش کریں گے تو ان کے بدن میں ایسی فَربہی پیدا ہو گی کہ پھر کبھی لاغر(یعنی کمزور)نہ ہوں گے اور جب شہد کی نہر میں سے پی لیں گے تو انہیں ایسی صِحَّت وتَندرستی مل جائے گی کہ پھر کبھی وہ بیمار نہ ہوں گے اور جب شراب کی نہر میں سے پئیں گے تو انہیں ایسا نَشاط اور خُوشی کا سُرورحاصِل ہو گا کہ پھر کبھی وہ غمگین نہ ہوں گے ۔ یہ چاروں نَہریں ایک حوض میں گر رہی ہیں جس کا نام حوضِ کوثر ہے یِہی حوض، حُضُورِ اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وہ حوضِ کوثر ہے جو ابھی جنَّتکے اندر ہے لیکن قِیامت کے دن میدانِ محشر میں لایا جائے گا ۔  جہاں حُضُورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اس حوض سے اپنی اُمَّت کو سیراب فرمائیں گے ۔ (روح البیان، پ۱، البقرۃ، تحت الآیۃ : ۲۵، ۱ / ۸۲، ۸۳)

یا الٰہی گرمیٔ محشر سے جب بھڑکیں بدن                       دامنِ محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو

یا الٰہی جب زبانیں باہر آئیں پیاس سے                         صاحبِ کوثر شہِ جود و عطا کا ساتھ ہو                     (حدائقِ بخشش، ص۱۳۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مَطَالِعُ الْمَسَرَّات میں ہے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی گئی : ’’ اَرَاَیْتَ صَلَاۃَ الْمُصَلِّیْنَ عَلَیْکَ مِمَّنْ غَابَ عَنْکَ وَ مَنْ یَّاتِیْ بَعْدَکَ، یارسُولَ اللّٰہ! ان لوگوں کے مُتعلِّق خَبر دیجئے جو آپ پر دُرُود شریف بھیجتے ہیں اور آپ سے غائب ہیں ، (یعنی آپ کی حیاتِ مُبارکہ میں )  اور ان لوگوں کے مُتعلِّق بھی خَبر دیجئے جو آپ کے بعد ہوں گے ( یعنی آپ کے وِصال کے بعد) اس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’اَسْمَعُ صَلَاۃَ اَہْلِ مَحَبَّتِیْ وَاَعْرِفُہُمْ‘‘ میں اَہلِ مَحَبَّتکا دُرُود بِلاواسطہ سنتا ہوں اور انہیں پہچانتا بھی ہوں ۔ ‘‘ ’’وَتُعْرَضُ صَلَاۃُ غَیْرِہِمْ عَرْضًااور اَہلِ مَحَبَّتکے علاوہ دُرُود بھیجنے والوں کا دُرُود شریف فِرِشتوں کے واسطے سے پیش کیا جاتاہے ۔ (مطالع المسرات (مترجم)، ص۱۶۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نظرِ عِنایت پرقُربان جائیے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے عاشِقوں پر کس قَدر مہربان ہیں کہ نہ صِرف ان کی جانب توَجُّہ رکھتے ہیں بلکہ اَہلِ مَحَبَّت کا دُرُود و سَلام بھی بَنفسِ نَفیس سَماعت فرماتے ہیں ۔

وَسْوَسہ اور اُس کا جَواب

وَسْوَسہ :  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہوسکتا ہے شَیْطان کسی کے ذِہن میں یہ وَسْوَسہ ڈالے کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو اس دُنیا سے پردہ فرماچکے ہیں لہٰذا اب کسی اُ مَّتِی کا دُرُود سُننا کیونکر مُمکن ہوسکتا ہے ؟

جَوابِ وَسْوَسہ :

جَلاء الْاَفْہَاممیں ایک رِوایت بیان کی گئی ہے جس میں اس شیطانی وَسوسے کی کاٹ خُودحُضُورنبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمائی ہے ۔ چُنانچہ

حضرت سَیِّدُنا ابُو دَرداء رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا  :  ’’لَیْسَ مِنْ عَبْدٍ یُّصَلِّیْ عَلَیَّ اِلَّا بَلَغَنِیْ صَوْتُہٗ حَیْثُ کَانَ، یعنی میراکوئی بھی غُلام مجھ پر دُرُود بھیجتا ہے تو مجھے اس کی آواز پہنچتی ہے ، وہ جہاں بھی ہو ۔ ‘‘ عرض کی گئی :  ’’وَ بَعْدَ وَفَاتِکَ؟ ، یارسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !کیاآپ کی وَفات کے بعد (بھی اسی طرح ہوگا؟) ارشاد فرمایا :  ’’وَبَعْدَ وَفَاتِیْ ، ہاں



Total Pages: 141

Go To