Book Name:Guldasta e Durood o Salam

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حُصولِ برکت ، ترقیٔ معرِفت اور حُضُور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قُربت پانے کیلئے کثرتِ دُرُودو سلام سے بڑھ کرکوئی ذَرِیعہ نہیں ہے ۔ یقینا سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود و سلام بھیجنے کے بے شُمارفَضائِل وبَرَکات ہیں جنہیں اِحَاطَۂ تحریرمیں لانامُمْکن نہیں ہے ۔

            صلاۃ وسلام  کے مَوضُوع پربے شُمار کُتُب تَصْنِیف کی جاچُکی ہیں ۔ اس کے فَضائِل و ثَمرات عُلمائے کرام بیان فرماتے رہتے ہیں ۔ قَلَم کی رَوشنائی تو خَتم ہوسکتی ہے ، بیان کے اَلفاظ بھی خَتم ہوسکتے ہیں ، مگر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود وسلام کا اِحَاطَہ نہیں ہوسکتا ۔ یادرکھئے ! دُرُودِپاک ایسا عمل ہے کہ خود رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ بھی کرتاہے  ۔ چُنانچہ قُرآنِ مَجیدفُرقانِ حَمید میں اِرشادِ باری تَعالیٰ ہے  :  

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ۲۲، الاحزاب : ۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان  : بیشک اللّٰہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی)پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو ۔

            اِس آیتِ مُبارکہ کے نازِل ہونے کے بعدمحبوبِ ربِّ ذُوالجَلال، شَہنشاہِ خوش خِصال  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا چہرۂ اَنورخُوشی سے نُور کی کِرنیں لُٹانے لگا اور فرمایا :  ’’مجھے مُبارکباد پیش کرو کیونکہ مجھے وہ آیتِ مُبارکہ عطا کی گئی ہے جو مجھے ’’دُنْیاوَما فِیْہا‘‘ (یعنی دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس)سے زِیادہ مَحبوب ہے  ۔ ‘‘(روحُ البیان، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ۵۶، ۷  / ۲۲۳)

پوشِیدہ عِلْم

            ایک مرتبہ صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی  : ’’ یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی کیا رائے ہے اس فرمانِ باری عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں ’’ اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ       ‘‘نبیِّ اَکرَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا  : ’’اِنَّ ہٰذَا لَمِنَ الْمَکْتُوْمِ، لَوْلَااَنَّکُمْ سَاَلْتُمُوْنِیْ عَنْہُ مَا اَخْبَرْتُکُمْ بِہٖیعنی بے شک یہ پوشیدہ عِلْم سے متعلق بات ہے اگر تم لوگ مجھ سے اِس بارے میں سُوال نہ کرتے تو میں تُمہیں کُچھ نہ بتاتا ۔ ‘‘اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَکَّلَ بِیْ مَلَکَیْنِ لَا اُذْکَرُ عِنْدَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ فَیُصَلِّیْ عَلَیَّ اِلَّا بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے میرے لیے دو فِرِشتے مُقرَّر فرمادیئے ہیں ، جس مُسلمان کے سامنے میرا ذِکر کیا جائے اور وہ مجھ پر دُرُود بھیجے ، قَالَ ذَاناکَ الْمَلَکَانِ  : غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ وَقَالَ اللّٰہُ وَمَلَائِکَتُہٗ جَوَابًا لِذَیْنِکَ الْمَلَکَیْنِ : آمِیْن، تو وہ دونوں فِرِشتے کہتے ہیں  :  ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتیری مَغْفِرت فرمائے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے فِرِشتے ان کے جواب میں آمین کہتے ہیں  ۔ ‘‘ (کنزالعمال ، کتاب الاذکار، الباب السابع فی القرآن وفضائلہ، ۱ /   ۱۷، الجزء الثانی، حدیث :  ۳۰۲۴)

            حضرتِ سیِّدُناعلّامہ جلالُ الدِّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ’’تفسیر دُرِّ مَنثور ‘‘ میں اِبنِ نَجَّار اور اِبنِ مَرْدَوَیْہ کے حوالے سے بیان کردَہ رِوایت میں مزید اِضافہ نقل فرماتے ہیں  :  ’’وَلَا اُذْکَرُ عِنْدَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ فَلاَ یُصَلِّیْ عَلَیَّ اِلَّااور جس مسلمان کے سامنے میرا ذِکر کیا جائے اور وہ مجھ پر دُرُود نہ بھیجے  قَالَ ذٰلِکَ الْمَلَکَانِ :  لَا غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ ، وَقَالَ اللّٰہُ وَمَلَائِکَتُہٗ لِذَیْنِکَ الْمَلَکَیْنِ :  اٰمِیْنتو وہ دونوں فِرِشتے کہتے ہیں  : اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتیری مَغْفِرت نہ فرمائے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے فِرِشتے ان کے جواب میں ’’آمین‘‘ فرماتے ہیں  ۔ ‘‘(درمنثور، پ۲۲، الاحزاب، تحت الآیہ۵۶، ۶  /  ۶۵۲ )

            مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہ رَحْمۃُ الْحنَّان فرماتے ہیں  : ’’ مذکورہ آیتِ کریمہ (یعنی آیتِ دُرُود) سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صَرِیح نعت ہے ۔ اِس میں اِیمان والوں کو پیارے مصطفیٰ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود و سلام بھیجنے کا حُکم دیا گیا ہے ۔ لُطف کی بات یہ ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ کریم میں کافی اَحکامات صادِر فرمائے مثلاً نَماز، روزہ، حج ، وغیرہ وغیرہ مگر کسی جگہ یہ اِرشاد نہیں فرمایا کہ یہ کام ہم بھی کرتے ہیں ،  ہمارے فِرِشتے بھی کرتے ہیں اور اِیمان والو ! تُم بھی کیا کرو، صرف دُرُودشریف کیلئے ہی ایسا فرمایا گیا ہے ۔ اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے ، کیونکہ کوئی کام بھی ایسا نہیں جو خُدا عَزَّوَجَلَّکا بھی ہو اور بندے کا بھی ۔  یقینا اللّٰہتَبَارَکَ وَتَعَالٰیکے کام ہم نہیں کرسکتے اور ہمارے کاموں سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بُلَند و بالا ہے  ۔ ‘‘

            اگر کوئی کام ایسا ہے جو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا بھی ہو، مَلائکہ بھی کرتے ہوں اور مسلمانوں کو بھی اُس کا حُکم دیا گیا ہوتو وہ صِرف اورصرف آقائے دوجَہان  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پردُرُود بھیجنا ہے ۔ جس طرح ہِلالِ عید پر سب کی نظریں جمع ہوجاتی ہیں اِسی طرح مَدینہ کے چاند پر ساری مَخلُوق کی اور خُودخالقکی بھی نظر ہے ۔ (شانِ حبیب الرحمن، ص۱۸۳ ملخصاً)

            برادرِاعلی حضرت، شہنشاہِ سُخَن ، حضرت مَولانا حسن رضا خان عَلَیْہ رَحْمۃُ الرَّحمٰن اپنے نعتیہ دِیوان ’’ذَوقِ نعت‘‘میں کیا خُوب اِرشاد فرماتے ہیں  :

جِنکے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حسُن و جَمال

اے حَسِیں ! تیری اَدا اُس کو پسند آئی ہے  (ذوقِ نعت، ص۱۷۵)

ایسا تجھے خالِق نے طَرَح دار بنایا

یُوسُف کو تِرا طالِبِ دِیدار بنایا   (ذوقِ نعت، ص ۳۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ آیتِ کریمہ میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّاور فِرِشتوں کے دُرُود بھیجنے کا ذِکر کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی دُرُودوسلام بھیجنے کا حکم دیاگیا ۔  یہ بات ذِہن نشین رہے کہ اگرچہ ایک ہی لَفْظ کی نِسبت اللّٰہ تعالیٰ، فِرِشتوں اورمُومنین کی طرف کی گئی ہے لیکن مَنسُوب اِلیہ کے اِعتبار سے اسکا معنی مختلف ہے ۔ چنانچہ امام بَغَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں  : ’’اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ)کا دُرُود ہے رَحمت نازِل فرمانا، جبکہ فِرِشتوں کا اور ہمارا دُرُود دُعائے رَحمت کرنا ہے  ۔ ‘‘ (شرح السنۃ للامام بغوی، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ علی النبی، ۲ /  ۲۸۰)

        اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے مذکورہ آیتِ مُبارکہ میں یہ خبر دی ہے کہ ہم ہر آن اور ہر گھڑی اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر رَحمتوں کی بارِش برساتے ہیں ۔ یہاں ایک سُوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّخُود ہی رَحمتیں نازِل فرمارہا ہے تو ہمیں