Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کثرت ۔ (2) والِدین کی تابعداری اور ان کی خِدْمت ۔ (3)حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودو سلام کی کثرت ۔  

ماہِ رَمَضانُ المُبارَک میں عِبادت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان میں سے پہلی چیز’’ رَمَضانُ الْمُبارَک‘‘ ہے ۔ خُدائے رَحْمٰنعَزَّوَجَلَّ کا کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں ماہِ رَمَضَان جیسی عَظیْم ُالشَّان نِعمت سے سَرفَراز فرمایا ۔ ماہِ رَمَضَان کے فَیضَان کے کیا کہنے ! اِس کی تو ہر گھڑی رَحمت بھری ہے  ۔ اِس مہینے میں اَجْر و ثَوا ب بَہُت ہی بڑھ جاتا ہے اس ماہِ مُبارک کا ہردن اور ہر رات اپنے اندر بے شُمار بَرَکتیں سمیٹے ہوئے ہے  ۔ چُنانچہ

اللّٰہ تعالیٰ کی عِنایتوں ، رَحمتوں اور بَخشِشوں کا تذکِرہ کرتے ہوئے ایک موقع پر سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار، شَہَنْشاہِ اَبرارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا  :  ’’جب رَمَضان کی پہلی رات ہوتی ہے تَو اَللّٰہ تَعالٰیاپنی مَخلوق کی طرف نَظَر فرماتا ہے اور جب اَللّٰہ تَعَالٰی کسِی بندے کی طرف نظر فرمائے تو اُسے کبھی عذاب نہ دے گا ۔ اور ہر رَوز دس لاکھ (گُنہگاروں ) کو جہنَّم سے آزاد فرماتا ہے اور جب اُنتیسویں رات ہوتی ہے تَو مہینے بھر میں جتنے آزاد کیے اُن کے مَجْمُوعَہ کے برابر اُس ایک رات میں آزاد فرماتا ہے  ۔ (کنز العمال، کتاب الصوم، الباب الاول  فی صوم الفرض، ۴،  / ۲۱۹، الجزء الثامن، حدیث : ۲۳۷۰۲)

نِیز  شبِ جُمُعہاور روزِجُمُعہ(یعنی جُمعرات کو غُروبِ آفتاب سے لے کر جُمُعہکو غُروبِ آفتاب تک )کی ہر ہر گھڑی میں ایسے دس دس لاکھ گُنہگاروں کو جہنَّم سے آزاد کیا جاتا ہے جو عذاب کے حَقْدار قرار دئیے جاچُکے ہوتے ہیں ۔ (کنز العمال، کتاب الصوم، ۴ / ۲۲۳، الجزء الثامن، حدیث  : ۲۳۷۱۶)

عِصیاں سے کبھی ہم نے کَنارہ نہ کیا                                                پَر تُونے دِل آزُرْدَہ ہمارا نہ کِیا

ہم نے تَو جہنَّم کی بَہُت کی تجویز                                     لیکن تِری رَحمت نے گوارا نہ کِیا

        حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللّٰہبن اَبی اَوْفٰی رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، نُورِمُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے   ارشاد فرمایا :  ’’روزہ دار کا سونا عِبادت اور اسکی خاموشی تَسْبِیْح کرنا اور اسکی دُعا قَبول او راسکا عَمل مَقبول ہوتا ہے  ۔ ‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ۳ / ۴۱۵، حدیث : ۳۹۳۸)

امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات ، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اﷲ ُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  :   ’’اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کواُمَّتِ مُحَمَّدِیہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرعَذاب کرنامَقْصُود ہوتا تَو ان کو رَمَضان اور سُورۂ قُلْ ھُوَ اللّٰہ شریف ہرگِز عِنایت نہ فرماتا  ۔ ‘‘ (نزہۃ المجالِس، ۱ / ۲۱۶)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہعَزَّوَجَلَّکو اُمَّتِ محمدیہ سے کس قَدر پیار ہے کہ اس نے بَخشِش و مَغْفِرت کے لئے انہیں رَمَضَانُ الْمُبارَکعطا فرمایا اس کے باوجود بھی اگر کوئی شخص اس ماہِ مُبارک کو پائے اور اس میں نماز و روزہ کا اِہتِمام کرکے اپنی بَخشِش و مَغْفِرت نہ کروا سکے توواقعی وہ بہت بڑا بَدبَخت اوربَد نصیب ہے ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّہمیں رَمَضَانُ الْمُبارَک کا اَدب و اِحتِرام کرنے کی توفیق عطافرمائے اور اپنے کرم سے ہمیں خُوش بَختوں میں داخل فرمائے ۔ آمین

ڈر تھا کہ عِصیاں کی سَزا اب ہوگی یا روزِ جَزا

دی ان کی رَحمت نے صَدایہ بھی نہیں وہ بھی نہیں (حدائقِ بخشش، ص۱۱۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

والدین کی تابِعداری اوراُن کی خِدْمَت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیث پاک کے ضمن میں اَہَمِّیَّت و اَفْضَلِیَّتکی حامل دوسری چیز’’ والدین کی تابعداری اور ان کی خدمت‘‘ کرنا ہے اور اس کی عَظْمَت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے قُرآنِ پاک میں جہاں اپنی عِبادت کا حکم ارشاد فرمایا وہیں والدین کے ساتھ بھلائی اور اِحسان کا حکم بھی اِرشاد فرمایا  :  چُنانچہ پارہ15سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 23میں اِرشاد ہوتا ہے  :

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ۱۵، بنی اسرائیل : ۲۳)

ترجمۂکنزالایمان : اور تمہارے رَبّ نے حکم فرمایا کہ اس کے سِوا کسی کو نہ پُوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سُلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تَعْظِیم کی بات کہنا  ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ماں یا باپ کودُور سے آتا دیکھ کر تعظیماً کھڑے ہو جایئے ، ان سے آنکھیں مِلاکر بات مت کیجئے ، بُلائیں توفوراً لَبَّیک(یعنی حاضِرہُوں ) کہئے ، تمیز کے ساتھ ’آپ جناب‘‘ سے بات کیجئے ، ان کی آواز پر ہرگز اپنی آواز بُلند نہ ہونے دیجئے  ۔ خُوب ہمدردی اور پیار ومَحَبَّت سے ماں باپ کادِیدار کیجئے ،  ماں باپ کی طرف بَنظر رَحمت دیکھنے کے بھی کیا کہنے ! جنابِ رَحمتِ عالمیان ، مکّی مَدَنی سلطانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ رَحمت نشان ہے  : ’’ جب اَولاد اپنے ماں باپ کی طرف رَحمت کی نظر کرے تواللّٰہ تعالیٰ اُس کیلئے ہر نظر کے بدلے حجِ مَبْرُوْر(یعنی مقبول حج )کا ثواب لکھتا ہے ۔ صَحابۂ کرام عَلیْہمُ الرضوان نے عرض کی :  اگرچِہ دن میں سومرتبہ نظر کرے  ۔ !فرمایا  :   ’’نَعَمْ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَ اَطْیَبُیعنی ’’ہاں ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسب سے بڑا ہے اورسب سے زِیادہ پاک ہے ۔ ‘‘ (شعب الایمان، فی برالوالدین، ۶ /  ۱۸۶، حدیث :  ۷۸۵۶ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ والدین کے ساتھ اِحسان و بھلائی اور ان کی تَعْظِیم وتَوقِیربہت ضَروری ہے توجن خُوش نصیب اسلامی بھائیوں کے  والدین زِندہ ہیں اُنہیں چاہیے کہ ان کا اَدب و



Total Pages: 141

Go To