Book Name:Guldasta e Durood o Salam

آتے ہیں تو ان لوگوں کو گھیر لیتے ہیں  ۔ ‘‘پھر اپنے میں سے ایک گُروہ کو قاصِد بناکر آسمان کی طرف اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے دَربار عالی میں بھیجتے ہیں ، وہ فِرِشتے جاکر عرض کرتے ہیں  :  ’’رَبَّنَا اَتَیْنَا عَلٰی عِبَادٍ مِّنْ عِبَادِکَ یُعَظِّمُوْنَ اٰلَائِکَ وَیَتْلُوْنَ کِتَابَکَ وَ یُصَلُّوْنَ عَلٰی نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ، یعنی یا الٰہ العالمین! ہم تیرے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو تیرے اِنعامات کی تَعْظِیم کرتے ہیں ، تیری کتاب پڑھتے ہیں اور تیرے نبیِّ کریم حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک بھیجتے ہیں  ۔ ‘‘ ’’وَیَسْئَلُوْنَکَ لِاٰخِرَتِہِمْ وَ دُنْیَاہُمْ، اور تجھ سے اپنی آخرت اور دُنیا کے لئے دُعاکرتے ہیں  ۔ ‘‘اس پر اللّٰہ تبارَک وتَعالٰیفرماتا ہے ان کو میری رَحمت سے ڈھانپ دو، (ایک روایت میں ہے کہ اس پر ان میں سے ایک فِرِشتہ عرض کرتا ہے  : ) ’’فُلاَنٌ لَیْسَ مِنْہُمْ اِنَّمَا جَائَ لِحَاجَۃٍ، اے ہمارے ربِّ کریم !اِن میں فُلاں فُلاں شخص شرکائے مَحفِل میں سے نہیں تھا وہ تومَحض کسی کام کی غرض سے آیا ہوا تھا (اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟) اللّٰہتعالیٰ کا دَریائے رَحمت مزید جوش میں آتا ہے ، فرماتا ہے  : ’’ غَشُّوْہُمْ رَحْمَتِیْ فَہُمُ الْجُلَسَائُ لَایَشْقٰی بِہِمْ جَلِیْسُہُمْ، یعنی ان کو میری رَحمت سے ڈھانپ دو کہ یہ آپس میں مل بیٹھنے والے ایسے لوگ ہیں کہ ان کی صُحبت کی بَرَکت سے ان کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والا بھی بَد نصیب ومَحروم نہیں رہتا ۔ ‘‘ (درمنثور، پ۲، البقرۃ ، تحت الآیۃ۱۵۲، ۱ / ۳۶۷)

سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ عَلٰی غَضَبِیْ                                                                                تُو نے جب سے سنا دیا  یارَبّ!

آسرا ہم گُناہ گاروں کا                                        اور مَضْبُوط ہو گیا یارَبّ!(ذوقِ نعت، ص۶۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں سلطانِ انبیائے کرام، شاہِ خیرُالْاَنامصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عِشْق ومَحَبَّت کے جام توپلائے ہی جاتے ہیں ساتھ ہی ساتھ سنَّتوں بھرے اِجتماعات میں کثرت سے ذِکر اللّٰہ کرنے ، سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سُنَّتیں سیکھنے سکھانے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ بابَرَکات پر دُرُودِ پاک پڑھنے پڑھانے کی عَملی طور پر ترغیب دِلانے کا اِلْتِزَامبھی کیا جاتا ہے بلکہ آغازِ بیان میں ہی تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ  نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ بابَرَکت پر دُرُودِ پاک کے چار صیغے اِن اَلفاظ کے ساتھ پڑھائے جاتے ہیں ۔

اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ                                                                                          وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحَابِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہ

اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہ                                                                                             وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحَابِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ

            دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ عاشِقانِ رسول کی صُحبت کی بَدولت اگرہم دُرُودِ پاک کی کثرت کے عادی بن گئے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے ہمارے تو وارے ہی نیارے ہو جائیں گے ۔ چنانچہ اس ضِمن میں ایک ایمان اَفروز حکایت سنئے اورجُھوم جایئے ۔ چنانچہ

            حضرت سَیِّدُناشیخ احمد بن ثابت مَغربی عَلیْہ رحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’ایک رات خَواب میں مَیں نے کسی مُنادِی کی نِداسُنی کہ’’جو شخص رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زِیارت کرنا چاہتا ہے وہ ہمارے ساتھ آجائے ‘‘ اس کے ساتھ ہی میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ دوڑے آرہے ہیں لہٰذا میں بھی ان کے ساتھ ہولیا ۔ کچھ دیر چلنے کے بعد میں نے دیکھا کہ سرورِ دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک بالا خانہ میں جَلوہ اَفروز ہیں میں بائیں طرف کو بڑھاتاکہ دروازہ مل جائے تو لوگوں نے بُلَنْد آواز سے کہا دَروازہ دائیں جانب ہے لہٰذا میں دائیں مُڑا تو دَروازہ مل گیا اور میں داخل ہو گیا ، جب میں قریب ہوا تو میرے اور حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دَرمیان ایک بادل حائل ہوگیا جس کی وَجہ سے میں کسی کا چہرہ نہ دیکھ سکا ۔ میں نے بے ساختہ یہ پڑھنا شروع کر دیا ۔ ’’اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ‘‘اور عرض گزار ہوا : ’’ یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا یہی میری عادت نہیں ہے ؟‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  : ’’میرے اور تیرے دَرمیان دُنیا کے حجاب (پردے ) حائل ہوگئے ہیں  ۔ ‘‘ مجھے سرکار زَجْر (یعنی ڈانٹ ڈپٹ) فرماتے رہے کہ’’ ہم تجھے مَنْع کرتے ہیں کہ دُنیا اور دُنیا کے اِہْتِمام سے باز آجا اور تو باز نہیں آتا ۔ ‘‘ میں نے دل میں سوچا کہ یہ میری شامتِ اَعمال ہی کا نتیجہ ہے ، ساتھ ہی ساتھ میری آنکھیں  اَشکبار ہوگئیں میں نے عرض کی :  ’’یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ میرے ضامن نہیں ہیں ؟‘‘ فرمایا  :  ’’ہاں تو جنتی ہے ۔ ‘‘ پھرحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دُعافرمائی تو وہ بادل آہستہ آہستہ اُٹھنا شُروع ہواحتّٰی کہ میں نے سَیّدِ دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوان کی زِیارت سے اپنی آنکھوں کی پیاس بُجھائی ۔ (سعادۃ الدارین، الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی والحکایاتالخ، ص۱۲۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !ہمیں اپنے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی غُلامی تادمِ زِندَگانی اور دعوتِ اسلامی سے وابستہ عاشِقانِ رسول کی صُحبتِ جاوِدانی کے ساتھ ساتھ کثرتِ دُرُود خوانی کی توفیق  مرحمت فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 16

بدنصیب کون...؟

حضرت ِ سَیِّدُنا جابِر بن عبدُاللّٰہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے مَروی ہے کہ سرکارِ مدینۂ منوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے  :   ’’مَنْ اَدْرَکَ شَہْرَ رَمَضَانَ وَلَمْ یَصُمْہُ فَقَدْ شَقِیَیعنی جس نے ماہِ رَمَضان کو پایا اورا سکے روزے نہ رکھے وہ شخص شَقِی (یعنی بَد بَخت) ہے  ۔ ‘‘ ’’ وَمَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَوْ اَحَدَہُمَا فَلَمْ یَبِرَّہُ فَقَدْ شَقِیَیعنی جس نے اپنے والِدین یا کسی ایک کو پایا اور ان کے ساتھ اچّھا سُلوک نہ کیا وہ بھی شَقِی (یعنی بَدبَخت) ہے  ۔ ‘‘  ’’ وَمَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فَقَدْ شَقِیَ اور جس کے پاس میرا ذِکر ہوا اور اُس نے مجھ پر دُرُود نہ پڑھا وہ بھی شقِی (یعنی بَدبَخت) ہے ۔ ‘‘(مجمعُ الزوائد ، کتاب الصیام ، باب فیمن ادرک شہررمضانالخ، ۳ / ۳۴۰، حدیث : ۴۷۷۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اس حدیثِ پاک میں تین قسم کے اَشخاص کی بد بختی وشَقاوَت کا ذِکر کیا گیا ہے جس سے ان تین چیزوں کی اَہَمِّیَّت و اَفْضَلِیَّت کا بَخُوبی اَندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ (1) ماہِ رَمَضانُ المُبارَکمیں عِبادت کی



Total Pages: 141

Go To