Book Name:Guldasta e Durood o Salam

سفید پرندہ

            دُرَّۃُ النَّاصِحِینمیں ہے ، اَمیرُ المؤمنین حضرت ِسَیِّدُنا فارُوقِ اَعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے دورِ خِلافت میں ایک مالدار شخص تھا جس کا کردار اچھا نہیں تھا،  مگر اُسے دُرُود شریف پڑھنے کا بہت شوق تھا ۔  اُٹھتے بیٹھتے دُرُود شریف پڑھتا رہتا ۔  جب اس کی موت کا وَقت قریب آیا تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ گیا اورمَسْخ ہو کر اس قَدر بھیانک ہوگیا کہ جو دیکھتا خَوفزدہ ہوجاتا ۔  اس کسمپرسی کے عالَم میں اس نے فریاد کی :  ’’یاحبیبَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحَبَّت رکھتا ہوں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُود و سَلام پڑھتا ہوں  ۔ ‘‘ا بھی اس نے اتنا ہی عرض کیا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک سفید پرندہ اُترا اور اُس نے اپنا پَر اُس شخص کے چہرے پر پھیر دیا ۔  دیکھتے ہی دیکھتے اس کا چہرہ چَمک اُٹھا پھر فَضا مُشکبار ہوگئی اور اس کی زبان پر کلمۂ طَیبہ جاری ہوگیا اور اس کی رُوح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کر گئی ۔  جب اس کوقَبر میں اُتارا جارہا تھا غیب سے یہ آواز آئی : ’’ ہم نے اس بندے کوقَبر میں رکھنے سے پہلے ہی کِفایت کی اور ہمارے محبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر پڑھے ہوئے دُرُود شریف نے اسے قَبر سے اُٹھا کر جَنَّت میں پہنچا دیا ہے  ۔ ‘‘ رات کسی نے خواب میں یہ منظر دیکھا کہ مرحوم فَضا میں چل رہا ہے اور اس کی زبان پر یہ آیتِ کریمہ جاری ہے  :  اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (پ۲۲، الاحزاب : ۵۶) ترجمۂ کنز الایمان  : ’’ بے شک اللّٰہ  اور اُس کے فِرِشتے دُرُود بھیجتے ہیں اُس غیب بتانے  والے (نبی) پر، اے ایمان والو! ان پر دُرُود اور خُوب سَلام بھیجو ۔ ‘‘(درۃ الناصحین ، المجلس السابع والاربعون فی فضیلۃ القران، ص۱۸۱)

            دُرُود وسَلام پڑھنے والے اِسلامی بھائیو! آپ کو مُبارک ہو،  حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ القوی ’’جَذْبُ القُلُوب ‘‘ میں فرماتے ہیں  : ’’ جب تم ایک بار دُرُود شریف پڑھتے ہو تو اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) دس بار رَحمت بھیجتا ہے ، دس گناہ مِٹاتا ہے ، دس دَرَجات بُلند کرتا ہے ، دس نیکیاں عطا فرماتا ہے ، دس گناہ مِٹاتا ہے ، دس غُلام آزاد کرنے کا ثواب (الترغیب والترھیب، کتاب الذکر والدعاء، الترغیب فی اکثارالصلاۃ علی النبی، ۲ /  ۳۲۲، حدیث :  ۲۵۷۴)  اور بیس غَزْوات میں شُمُولیت کا ثواب عطا فرماتا ہے ۔ (فردوس الاخبار، باب الحاء، ۱ / ۳۴۰ ، حدیث : ۲۴۸۴) دُرُود ِ پاک سببِ قَبُولیتِ دُعا ہے ، (فردوس الاخبار، باب الصاد، ۲ / ۲۲، حدیث : ۳۵۵۴)  اِس کے پڑھنے سے شَفاعتِ مُصْطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمواجب ہوجاتی ہے ۔ (معجم الاوسط، من اسمہ بکر، ۲ /  ۲۷۹، حدیث :  ۳۲۸۵) مُصْطفیٰ جانِ رَحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کابابِ جنّت پر قُرب نصیب ہوگا، دُرُود پاک تمام پَریشانیوں کو دُور کرنے کے لیے اور تمام حاجات کی تَکمیل کے لیے کافی ہے ، (درمنثور، پ ۲۲، الاحزاب، تحت الآیۃ : ۵۶، ۶ /  ۶۵۴ ملخصاً) دُرُودِپاک گُناہوں کا کَفَّارہ ہے  ۔ (جلاء الافہام، ص۲۳۴) صَدَقہ کا قائم مَقام بلکہ صدقہ سے بھی اَفْضَل ہے  ۔ ‘‘ (جذبُ القلوب، ص۲۲۹)

          حضرتِ سیِّدُناعلّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی مزید فرماتے ہیں  : ’’ دُرُود شریف سے مُصیبتیں ٹَلتی ہیں ، بِیماریوں سے شِفاء حاصل ہوتی ہے ، خوف دُور ہوتا ہے ، ظُلم سے نَجات حاصل ہوتی ہی، دُشمنوں پرفتح حاصل ہوتی ہے ، اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ)کی رِضا حاصل ہوتی ہے اور دل میں اُس کی مَحَبَّتپیدا ہوتی ہے ، فِرِشتے اُس کا ذِکر کرتے ہیں ، اَعمال کی تَکمیل ہوتی ہے ، دل و جان اور اَسباب ومال کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے ، پڑھنے والاخُوشحال ہوجاتا ہے ، بَرَکتیں حاصل ہوتی ہیں ، اَولاد دَر اَولاد چار نسلوں تک بَرَکت رہتی ہے  ۔ ‘‘(جذبُ القلوب، ص۲۲۹)

          دُرُود شریف پڑھنے سے قِیامت کی ہولناکیوں سے نَجات حاصل ہوتی ہے ، سَکَراتِ موت میں آسانی ہوتی ہے ، دُنیا کی تَباہ کاریوں سے خَلاصی (یعنی نَجات) ملتی ہے ، تَنگدَستی دُور ہوتی ہے ، بھولی ہوئی چیزیں یاد آجاتی ہیں ، مَلائکہ دُرُودِ پاک پڑھنے والے کو گھیر لیتے ہیں ، دُرُود شریف پڑھنے والا جب پُل صِراط سے گزرے گا تو نُور پھیل جائے گا اور وہ اُس میں ثابِت قَدم ہو کر پلک جھپکنے میں نَجات پاجائے گااورعَظِیْم تَرسَعادت یہ ہے کہ دُرُود شریف پڑھنے والے کا نام تاجدار ِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے ، رحمتِ عالمیان ، سرورِ ذیشان  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامکی مَحَبَّت بڑھتی ہے ، محَاسِن نَبوِیَّہ دل میں گھر کر جاتی ہیں اور کثرتِ دُرُود شریف سے صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تَصَوُّر ذِہن میں قائم ہوجاتا ہے اورخُوش نصیبوں کو دَرَجۂ قُربتِ مُصْطفوِی حاصل ہوجاتا ہے اورخَواب میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دیدار ِ فیضِ آثار نصیب ہوتا ہے ۔ روزِ قیامت مَدنی تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مُصافَحہ کی سَعادت نصیب ہوگی، فِرِشتے مرحبا کہتے ہیں اور مَحَبَّت رکھتے ہیں ، فِرِشتے اُس کے دُرُود کو سونے کے قَلموں سے چاندی کی تختیوں پر لکھتے ہیں اور اُس کے لیے دُعائے مَغْفِرت کرتے ہیں اور فِرِشْتْگانِ سیّاحِین (زمین پر سیر کرنے والے فِرِشتے ) اُس کے دُرُود شریف کومَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بے کس پناہ میں پڑھنے والے اور اس کے باپ کے نام کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔ (جذبُ القلوب، ص۲۲۹)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حُضُورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردُرُودِپاک پڑھنے کے دُنْیَوِی  اور اُخْرَوِی  فَوائدِ کثیرہ سُن کر یقینا ہم بھی اس بات کے مُتَمنّی ہونگے کہ ان فُیوض و بَرَکات سے ہمیں بھی حصّہ ملے ، تو آئیے اپنی اس نیک خَواہش میں کامیابی پانے کیلئے تبلیغِ قُرآن و سُنَّت کی عالمگیرغَیر سیاسی تَحریک دعوتِ اسلامی کے مَہکے مَہکے مُشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیں اور نِیَّت کرلیں کہ ہم بھی دُنیاوعُقْبیٰ کی کامرانیوں کے حُصُول کے لئے سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں خُوب خُوب دُرُودِپاک پڑھنے کی عادت بنائیں گے ۔

            اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام کی ذاتِ طَیبہ پرکثرت سے  دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمااور ہمیں دُرُود وسَلام کی بَرَکتوں سے مالا مال فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 15

دُرُودِ پاک کی رَسائی

            امامُ الانصاروَالمُہاجِرین ، مُحِبُّ الفُقَرائِ وَالْمَساکِین، جنابِ