Book Name:Guldasta e Durood o Salam

ذات ِوالا صِفات ہی توہے ۔ توکیوں نہ ہو کہ ایسی عَظِیْم ہَسْتی پر دُرُودِ پاک کی کثرت کر کے ہم بھی دُنیاو آخرت کی دِیگر سَعادَتوں کے ساتھ ساتھ روزِ قِیامت ان کی قُربت کے حَقْدار ہوجائیں ۔

عزیز بچے کو ماں جس طرح تَلاش کرے           قَسم خُداکی یہی حال آپ کا ہوگا

                               کہیں گے اَور نبی اِذْھَبُو اِلٰی غَیْرِی                                             میرے حُضُورکے لب پر اَنَالَھَاہوگا                    (ذوقِ نعت، ص ۳۵)

            اللّٰہعَزَّوَجَلَّہمیں قِیامت کی ہولناکیوں اور دُشوار گزار گھاٹیوں سے نَجات عطافرمائے اورقِیامت کے دن شفیعِ روزِ شُمار، حبیبِ پَرْوَرْدَگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاقُربِ خاص اور جَنَّتُ الْفِردوس میں ان کا پَڑوس عطافرمائے  ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 

بیان نمبر : 14

100حاجتیں پُوری ہونے کا وَظِیفَہ

            رَحمتِ عالمیان ، سَرورِذِیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ رَحمت نشان ہے  : ’’مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ فِیْ یَوْمٍ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، یعنی جو شخص یومیہ مجھ پر 100مرتبہ دُرُود بھیجے گا‘‘ قَضَی اللّٰہُ لَہُ مِائَۃَ حَاجَۃٍ، یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّاس کی 100حاجات پُوری فرمائے گا، سَبْعِیْنَ مِنْہَا لِاٰخِرَتِہٖ وَ ثَلاَثِیْنَ مِنْہَا لِدُنْیَاہُیعنی ان میں سے ستّر آخرت کی اور تیس دُنیا کی حاجات ہوں گی ۔ ‘‘ (کنز العمال ، کتاب الاذکار، الباب السادس فی الصلاۃ علیہ وعلی آلہ، ۱  / ۲۵۵، الجزء الاول ، حدیث :  ۲۲۲۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر ہم غور کریں تو ہمیں اس بات کا بَخُوبی اَندازہ ہوسکتا ہے کہ فِی زَمانہ ہم میں سے تقریباً ہر شخص ہی ہَمہ وَقت نجانے کتنی پَریشانیوں میں گِھرا ہوا ہوتا ہے مگر قربان جائیے ، مَحبوبِ ربُّ العلمین، خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپرکہ جن کا فرمانِ دِلنشین آپ نے سَماعت فرمایاکہ’’جوشخص دن بھر میں سو بار میری ذات پردُرُودِ پاک پڑھ لیا کرے گاتواس کی بَرَکت سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کی سو حاجتیں پُوری فرمادے گا ۔ ‘‘ تو کیوں نہ ہوکہ ہم بھی اپنی حاجات کی تکمیل کیلئے اپنے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرکثرت کے ساتھ دُرُودِ پاک پڑھ لیا کریں  ۔

            مگر یاد رہے کہ جب بھی حُضُور پر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود شریف پڑھا جائے ، مَحَبَّت و شوق کے ساتھ پڑھا جائے کیونکہ دُرَّۃُ النَّاصِحین میں ہے ’’ ثَلٰثَۃُ اَشْیَاء لَا تَزِنُ عِنْدَاللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ ، یعنی تین چیزیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے نَزدیک مچھر کے پَر کے برابر بھی وَزْن نہیں رکھتیں ، اَحَدُھَاالصَّلٰوۃُ بِغَیْرِ خُضُوْعٍ وَّ خُشُوْعٍ ، ان میں سے ایک یہ کہ نمازخُشُوع و خُضُوع کے بغیر پڑھی جائے ، وَالثَّانِیَ الذِّکْرُ بِالْغَفْلَۃِ لِاَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی لَایَسْتَجِیْبُ دُعَاء قَلْبٍ غَافِلٍ، دوسری یہ کہ ذِکر، غَفْلَت کے ساتھ کیا جائے ، کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّدلِ غافِل کی دُعاقَبُول نہیں فرماتا ، وَالثَّالِثُ الصَّلٰوۃُ عَلَی النَّبِیِّصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مِنْ غَیْرِ حُرْمَۃٍ وَّنِیَۃٍاور تیسری یہ کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بِلا تَعْظِیم و بِلا  نِیَّت دُرُودِ پاک پڑھنا ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حق تو یہ ہے کہ مَحَبَّتِ  سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَحض دُرُودِ پاک کے لئے ہی نہیں بلکہ ہمارے اِیمان کے لئے بھی شَرط ہے اس کے بغیر تو ہمارا اِیمان بھی رائیگاں ہے  ۔ چُنانچہ

            مَطَالِعُ الْمَسَرَّاتشَرْحُ دَلَائِلِ الْخَیْرَات میں ہے  : ’’ اصلِ ایمان کے لئے اصلِمَحَبَّت شَرط ہے اور کمالِ ایما ن کے لئے ( نَبِیِّ مُعَظَّم ، رَسُولِ مُحتَرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ) کمالِ مَحَبَّت شرط ہے  ۔ ‘‘ (مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات مترجم، ص ۱۴۸)

 

دینِ حق کی شَرط اَوَّل

            علَّامہقَسْطَلانی قُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانینے اپنی کتاب مَسَالِکُ الْحُنَفَاء کے شُروع میں حدیثِ انس رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ذِکر کی کہ راحتِ قَلبِ ناشاد، محبوبِ ربُّ الْعِبادصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اِرشاد عبرت بنیاد ہے  : ’’لاَ یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَیعنی تم میں سے کوئی ایمان دار نہیں ہو سکتایہاں تک کہ میں اس کا مَحبوب تَر نہ ہوجاؤں ، اس کے باپ، بیٹے اور تمام لوگوں سے بڑھ کر ۔ ‘‘اس حدیثِ پاک کے تَحت علَّامہ قَسْطَلانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانینے فرمایا : ’’اگر ہمارے جسم کے ایک ایک بال کے نیچے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّت ہو تو یہ بھی اس حق کے جُز کا جُز ہوگا جو ہم پر آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ہے اور تمہیں معلوم ہے جو جس سیمَحَبَّت کرے اکثر اسی کا ذِکر کرتا ہے  ۔ ‘‘ جیساکہ مُسْندِ فردوس میں حضرت سیِّدتُناعائشہ رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مروی حدیث ہے  : ’’پس اہلِ مَحَبَّتکے دل ذِکرِ محبوب کی بناء پر لذَّات سے بیگانہ ہوتے ہیں اور ان کے خیالات خواہشاتِ نفس کی ترغیب دینے والے اُمُور سے خالی ہوتے ہیں اور بِلاشُبہ اَوْلیٰ و اَعلیٰ ، بیش قیمت ، اَفْضَل ، اَکْمل، رخشندہ تر، خوب تر جس کاتم ذِکر کرتے ہو، وہ یہی مَحبوب کریم اور رسولِ عَظِیْم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْمہی توہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاپنے فَضْلِ عَمِیْم سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَکْرِیم وتَعْظِیم میں اِضافہ فرمائے کہ یہی دوصِفات آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دائمی مَحَبَّتاور اس میں تَرقِّی کا سبب ہیں اس لئے کہ یہی وہ بُنیادی عَقیدہ ہے جس کے بغیراِیمان مُکمَّل نہیں ہوسکتا ۔ ‘‘

            وَجہ یہ ہے کہ انسان جتنا کثرت سے مَحبوب کا ذِکر کرتااور اس کی خُوبیوں کا تَصوُّر کرتااور کَشِش پیدا کرنے والی باتوں کوتَصوُّر میں لاتاہے ، اس کی مَحَبَّت بڑھ جاتی ہے اور اس کا شَوق زِیادہ ہوجاتاہے اور تمام دل پر اسی کا قَبضَہ ہوجاتا ہے اور دِیدارِ یار سے بڑھ کرچَشمِ مُحِبّ کوٹھنڈا کرنے والی کوئی چیز نہیں اور ذکرِ یار و تَصوّرِ مَحاسِنِ دِلدار سے بڑھ کر کسی شے میں اس کے دل کا سُرُور نہیں ۔ جب یہ دولت اس کے دل میں مَضْبُوطی سے جَم جاتی ہے تو زبان اس کی حمد و ثناء میں مَصرُوف ہو جاتی ہے  ۔ پس صبح و شام حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود و سلام پڑھنا اس کی عادت ہو جاتی ہے اور وہ ایسی تِجارت سے بَہرہ مند ہو جاتاہے جو کبھی خَسارے سے آشنا نہیں ہوتی اور وہ مشکوٰۃِ نَبُوَّت سے عَظِیْمُ الشَّان انوار حاصل کر لیتا ہے  ۔

(سعادۃ الدارین، الباب الثالث فیماورد عن الانبیاء والعلماء فی فضل الصلاۃ علیہ ، ص ۱۱۱)

 



Total Pages: 141

Go To