Book Name:Guldasta e Durood o Salam

(6)ہماری موت کے بعد ہماری مِیراث تَقسیم ہوتی ہے جبکہ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے مُسْتَثْنٰی ہیں  ۔

(7)ہماری موت کے بعد ہماری بیویاں عِدَّت گُزار کر کسی اور سے نِکاح کرسکتی ہیں جبکہحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اَزْواج کیلئے ایسا کرنا جائز نہیں ۔ (مقالاتِ کاظمی ، ج ۲، ص ۹۵ملخصاً)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے پیارے آقاصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نہ صِرف حیات ہیں بلکہ خُوش نصیبوں کو اپنی زِیارت اور دَسْت بوسی کی سَعادت بھی عطا فرماتے ہیں  ۔ چُنانچہ

دَسْتْ بوسی کا شَرَف

            حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکافِیْ تَحریر فرماتے ہیں  : ’’حضرت سَیِّد احمد کبیررَفاعی عَلَیْہ رَحمۃُاللّٰہ الْقَوی جو مشہور بُزُرگ اور اَکابر صُوفیہ میں سے ہیں ان کا واقعہ مشہور ہے کہ جب وہ 555؁ھ میں حج سے فارغ ہوکر سرکارِ اعظمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زِیارت کیلئے مَدینہ طیبہ حاضِر ہوئے اور قبرِ انور کے سامنے کھڑے ہوئے تو یہ دو شعر پڑھے  :

فِیْ حَالَۃِ الْبُعْدِ رُوْحِیْ کُنْتُ اُرْسِلُہَا

تُقَبِّلُ الْاَرْضَ عَنِّی وَہِیَ نَائِبَتِیْ

میں دُوری کی حالت میں اپنی رُوح کو خِدمتِ مُبارکہ میں بھیجاکرتا تھاجو میری نائب بن کر آستانۂ مُبارکہ کو چُوما کرتی تھی ۔

وَہٰذِہٖ دَوْلَۃُ الْاَشْبَاحِ قَدْ حَضَرَتْ                                                          فَامْدُدْ یَمِیْنَکَ کَیْ تَحْظٰی بِہَا شَفَتِی

اب جسم کی حاضری کا وَقت آیا لہٰذا اپنا دَستِ اَقدس لائیے تاکہ میرے ہونٹ ان کا بوسہ لے سکیں ۔

                فخَرَجَتِ الْیَدُ الشَّرِیْفَۃُ مِنَ الْقَبْرِ الشَّرِیْفِ فَقَبَّلَہَااس عرض پر سرکارِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دَستِ انور کو قبرِ مُنوَّر سے باہر نکالا اور حضرت سَیِّد احمد کبیر رفاعی نے اسے بوسہ دیا ۔

(الحاوی للفتاوی، کتاب البعث، تنویرالحلک فی امکان رؤیۃ النبی الخ، ۲ / ۳۱۴)

            اس وَقت مسجدِ نَبوی میں کئی ہزار اَفراد موجود تھے جنہوں نے دستِ اَقدس کی زِیارت کی ۔  (خطباتِ محرم، ص۶۵)

تُو زِندہ ہے واللّٰہ تُو زِندہ ہے واللّٰہ                                         مری چشمِ عالَم سے چُھپ جانے والے   (حدائقِ بخشش، ص۱۵۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرتسَیِّدَتُنَاعائشہ صدیقہرضی اللّٰہ تعالی عنہاکا بھی یہی عقیدہ تھا کہ بعدِ وصال نہ صرف پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بلکہ حضرتِ سَیِّدُنا عُمر فارُوق رَضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہ بھی نہ صِر ف حیات ہیں بلکہ زائرین کو مُلاحَظہ بھی فرماتے ہیں  ۔ چُنانچہ

            اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا ارشاد فرماتی ہیں  : ’’کُنْتُ اَدْخُلُ بَیْتِی الَّذِیْ دُفِنَ فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَاَبِیْ یعنی جب میں اس حُجرئہ مُبارکہ میں داخل ہوتی جہاں سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور میرے والد(حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدِّیقرَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)مدفون ہیں ۔ ‘‘  فَاَضَعُ ثَوْبِیْ وَاَقُوْلُ اِنَّمَا ہُوَ زَوْجِیْ وَاَبِی، یعنی تومیں پردے کا کپڑا اُتار دیتی تھی اورکہتی تھی :  یہاں تو صِرف میرے سرتاج اور والد ہیں (جن سے پردہ ضروری نہیں ہوتا) ’’فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَہُمْ فَوَاللّٰہِ مَا دَخَلْتُ اِلَّا وَاَنَا مَشْدُوْدَۃٌ عَلَیَّ ثِیَابِیْ حَیَائً مِّنْ عُمَرَ، لیکن جب وہاں ان کے ساتھ حضرتِ عُمر رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی مَدفون ہوگئے تو میں حضرت عُمر رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے حیا کے باعث مکمل حجاب میں داخل ہوتی تھی  ۔ (مسند  احمد ، مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا، ۱۰ / ۱۲، حدیث : ۲۵۷۱۸ )

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ روایت اس بات پر دلیل ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدِّیقہرَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو اس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ حضرت سَیِّدُنا عُمر فارُوق رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وصالِ ظاہری کے بعد بھی زِندہ ہیں اور اپنی قَبر سے انہیں دیکھتے ہیں اسی لئے آپ حُجرئہ مُبارکہ میں داخل ہونے سے پہلے پردہ فرمالیا کرتی تھیں  ۔

            مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں  : ’’اس حدیثِ پاک سے بہت سے مسائل معلوم ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ مَیِّت کا بعدِ وفات اِحتِرام (کرنا)چاہئے ، فقہاء فرماتے ہیں کہ مَیِّت کا ایسا ہی اِحتِرام کرے جیسا کہ اس کی زِندگی میں کرتا تھا دوسرے یہ کہ بُزُرگوں کی قُبُور کا بھی اِحتِرام اور ان سے بھی شَرم و حیا چاہئے تیسرے یہ کہ مَیِّت قَبر کے اندر سے باہر والوں کو دیکھتا اور انہیں جانتا پہچانتا ہے دیکھو حضرتِ عُمر(رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے عائشہ صدیقہ (رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا) ان کی وفات کے بعد شرم و حیا فرمارہی ہیں اگر آپ باہر کی کوئی چیز نہ دیکھتے تو اس حیا فرمانے کے کیا معنی  ۔ ‘‘     (مراٰۃ ، ۲ / ۵۲۷)

          امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عُمر فارُوق رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بعدِ وصال حیات اور مَزار میں جسمِ مبارک کے سَلامت ہونے پر بُخاری شریف کی یہ روایت بھی دلیل ہے ۔ چُنانچہ حضرت سَیِّدُناعُروہ بن زُبیررَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ خلیفہ وَلید بن عبدالمَلک کے زمانے میں جب رَوضئہ مُنوَّرہ کی دِیوار گرگئی اور لوگوں نے (87ھ میں )اسکی تَعْمِیر شروع کی تو(بنیاد کھودتے وقت ) ایک قَدم ظاہر ہوا ۔  اس پر لوگ گھبراگئے اور اُنھوں نے گُمان کیاکہ شاید یہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قَدم شریف ہے ا ور وہاں کوئی جاننے والا نہ ملاتو حضرتِسَیِّدُنا عُروہ بن زُبیررَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’ وَاللّٰہِ مَا ہِیَ قَدَمُ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا ہِیَ اِلَّا قَدَمُ عُمَر ، یعنی خدا کی قسم!یہ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قَدم شریف نہیں بلکہ یہ حضرتِ سَیِّدُنا عُمرفارُوق رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا قَدم مبارک ہے ۔   (بخاری، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی قبر النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وابی بکر وعمر، ۱ /  ۴۶۹، حدیث : ۱۳۹۰)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ وصال کے تقریباً 64برس کے بعد بھی حضرت سَیِّدُناعمر فاروق رضی اللّٰہ تعالی عنہ کا جسمِ مبارک سَلامت تھااور اس میں کسی قِسم کی تبدیلی نہیں ہوئی تھی ۔

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَنبیائے کرامعَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام