Book Name:Guldasta e Durood o Salam

(ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہالخ، ۲ /  ۲۹۱، حدیث : ۱۶۳۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں کوشش کرکے باِلخُصُوص جُمُعۃ ُالمبارک کے دن دُرُود شریف کی کثرت کرنی چاہیے کہ اَحادیثِ مُبارَکہ میں اِس روز کثرتِ دُرُود کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے جیسا کہ آپ نے ابھی سَماعت فرمایا ۔  اور زَمین اَنبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام کے مُبارک جسموں کو کیوں نہیں کھاتی ، اس کی اِیمان اَفروز تَوجِیہ بیان کرتے ہوئے حضرتِ علَّامہ عبدالرؤف مَنَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَویارشاد فرماتے ہیں  :  ’’لِاَنَّہَا تَتَشَرَّفُ بِوَقْعِ اَقْدَامِہِمْ عَلَیْہَا وَتَفْتَخِرُ بِضَمِّہِمْ اِلَیْہَا فَکَیْفَ تَأْکُلُ مِنْہم، اسلئے کہ زمین اَنبیائے کرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام کے مُبارک قَدموں کے بوسے سے مُشرَّف ہوتی ہے اور اسے یہ سَعادت ملتی ہے کہ َانبیائے کرام کے مُبارک اَجسام زمین سے مَس ہوتے ہیں تو یہ اِن کے جسموں کو کیسے کھا سکتی ہے ۔ (فیض القدیر، حرف الھمزۃ، ۲ / ۶۷۸، تحت الحدیث : ۲۴۸۰)

جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سَیِّد عالَم

اس خاک پہ قُرباں دلِ شیدا ہے ہمارا (حدائقِ بخشش ، ص۳۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیثِ پاک سے معلوم ہواکہ اَنبیائے کرامعَلَیْھمُ الصَّلٰوۃ والسَّلام اپنے اپنے مَزاراتِ طَیبا ت میں زِندہ ہیں ۔ بَعض اَوقات اس مُعامَلے میں مَردُود شیطان طرح طرح کے وَسوَسے ڈالتا ہے ، آئیے اس حوالے سے کچھ سُننے کی سَعادت حاصل کرتے ہیں  ۔

اَنبیاء علیہمُ السَّلام اپنی قَبْروں میں  زِندہ ہیں

            صدرُالشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علَّامہ مولانا مفتی محمداَمجد علی اَعظمی علیہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَوی تَحریر فرماتے ہیں  : ’’اَنبیاعَلَیہِمُ السَّلاماپنی اپنی قَبروں میں اُسی طرح بحیاتِ حقیقی زِندہ ہیں ، جیسے دُنیا میں تھے ، کھاتے پیتے ہیں ، جہاں چاہیں آتے جاتے ہیں ، تصدیقِ وَعدۂ اِلٰہیہ کے لیے ایک آن کو اُن پر موت طاری ہوئی، پھر بدستور زِندہ ہوگئے ، اُن کی حَیات، حیاتِ شُہدا سے بہت اَرْفَع و اَعلیٰ ہے فلہذا شہید کا ترکہ تقسیم ہوگا، اُس کی بی بی بعدِ عدت نکاح کرسکتی ہے بخلاف اَنبیا کے ، کہ وہاں یہ جائز نہیں ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ، ج۱، ص۵۸)

          ایک اور مَقام پر اِرشاد فرماتے ہیں  : ’’اَنبیاء عَلَیْہِمُ السَّلام اور اَولیائے کرام و عُلمائے دِین و شُہدا و حافظانِ قرآن کہ قرآنِ مجید پر عمل کرتے ہوں اور وہ جو مَنْصَبِمَحَبَّت پر فائز ہیں اور وہ جسم جس نے کبھی اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی مَعْصِیت نہ کی اور وہ کہ اپنے اَوقات دُرُود شریف میں مُستغر ق رکھتے ہیں ، ان کے بَدن کو مَٹّی نہیں کھاسکتی ۔  جو شخص اَنبیائے کرام عَلَیْہمُ السَّلام کی شان میں یہ خبیث کلمہ کہے کہ مرکے مَٹّی میں مل گئے ، گُمراہ ، بَددِین، خبیث ، مُرتکبِ توہین ہے ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ، حصہ اول، ص۱۱۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!وِصالِ ظاہری فرمانے کے بعداَنبیائے کرام عَلَیْھمُ الصَّلٰوۃ والسَّلامکا زِندہ ہونا مُتَعَدَّداَحادیثِ مُبارکہ سے ثابت ہے ۔ نیز یہ حضرات اپنے مَزارات میں نَماز بھی پڑھتے ہیں  ۔ چُنانچہ رَحمتِ عالَم، نور ِ مُجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  : ’’اَ لْاَنْبِیَاء أَحْیَاء فِیْ قُبُوْرِ ہِمْ یُصَلُّوْنیعنی اَنبیائے کرام  عَلَیھِمُ الصَّلٰوۃُ والسَّلام اپنی اپنی قَبروں میں زِندہ ہیں اورنَماز بھی پڑھتے ہیں  ۔ ‘‘(مسند ابی یعلی، مسند انس بن مالک ، ۳  / ۲۱۶، حدیث : ۳۴۱۲)

            ایک اور حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا : ’’مَرَرْتُ عَلَی مُوسٰی لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِیْ عِنْدَ الْکَثِیْبِ الْاَحْمَرِ وَہُوَ قَائِمٌ یُّصَلِّی فِی قَبْرِہٖ، یعنی مِعْراج کی رات میرا گُزرسُرخ ٹیلے کے پاس سے ہوا (تو میں نے دیکھاکہ) حضرت ِموسیٰ علیہ الصَّلٰوۃُ والسَّلام  اپنی قَبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں  ۔ ‘‘ (مسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل موسی ، ص۱۲۹۳، حدیث : ۲۳۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہماری موت اورحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری میں بہت فرق ہے جیساکہ غزالئی زَماں رازیٔ دَوراں حضرت علَّامہ مولانا احمد سعید کاظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْقَوِی تَحریر فرماتے ہیں  : سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موت ہماری موت سے کئی اِعتبارات سے مختلف ہے ۔

(1)سَیِّد ِعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِختیار حاصل تھا کہ دُنیا میں رہیں یا رفیقِ اَعلی کے پاس تشریف لے جائیں (بخاری شریف)  لیکن ہمیں دُنیا میں رہنے یا آخرت کی طَرف جانے میں کوئی اِختیار نہیں ہوتا بلکہ ہم موت کے وَقت سفرِ آخرت پرمجبور ہوجاتے ہیں ۔

(2)غُسل کے وقت ہمارے کپڑے اُتارے جاتے ہیں لیکن رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انہیں مُبارک کپڑوں میں غُسل دیا گیا جن میں وصالِ ظاہری فرمایا تھا ۔

(3)سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نمازِ جنازہ ہماری طرح نہیں پڑھی گئی بلکہ مَلائکہ کرام، اَہلِ بیتِ عِظام اور حضراتِ صحابہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنْھُم اَجْمَعین نے جماعت کے بغیر الگ الگحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نماز پڑھی اور اس نماز میں معروف دُعائیں بھی نہیں پڑھی گئیں بلکہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَعریف وتَوصِیف کے کَلِمات عرض کئے گئے اور دُرُود شریف پڑھا گیا ۔

(4)ہماری موت کے بعد جلدی دَفن کرنے کا تاکیدی حکم ہے لیکن سرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصالِ ظاہری کے بعد سخت گرمی کے زمانے میں پورے دو دن کے بعد قبرِ اَنور میں دَفن کئے گئے  ۔

(5)ہماری موت کے بعد ہمیں عام مسلمانوں کے قَبرِستان میں دَفن کیا جائے گا جبکہ سرکارِ دوعالَم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم کی تَدْفین اسی مَقام پر کی گئی جہاں وصالِ ظاہری فرمایا تھا ۔

 



Total Pages: 141

Go To