Book Name:Guldasta e Durood o Salam

nتبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں دُرُود و سلام کی خوب خوب ترغیب دلائی جاتی ہے ۔ زیرِنظر کتاب بھی درحقیقت مدنی چینل کے سلسلہ ’’فیضانِ دُرُود و سلام‘‘ میں شہزادۂ عطار حاجی ابو ہلال محمد بلال رضا عطاری سَلَّمَہُ الْبَارِی کے کئے گئے بیانات ہی کا مجموعہ ہے ۔ دُرُودِ پاک کی اہمیت و اِفادیت کے پیشِ نظر دعوتِ اسلامی کی مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّہان بیانات کو’’گُلدستۂ دُرود و سلام‘‘ کے نام سے تحریری صورت میں پیش کرنے کی سعیٔ جمیل کر رہی ہے  ۔

n اس کتاب پر شعبہ بیاناتِ دعوتِ اسلامی (المدینۃالعلمیہ) کے 5اسلامی بھائیوں نے کام کرنے کی سعادت حاصل کی بالخصوص سید عمران اختر عطاری مدنی اور فرمان علی عطاری مدنی کے خوب کوشش کی ۔  

اللّٰہتعالیٰ ہمیں ’’اپنی اورساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے  ۔ اٰمین بجاہ النَّبِیِّ الاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

شعبہ بیاناتِ دعوتِ اسلامی  مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ {دعوتِ اسلامی}

۲۵صفرالمظفر۱۴۳۵ھ بمطابق 29دسمبر  2013ء

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

بیان نمبر  : 1

دُرُود شریف کی فضیلت

            سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالک و مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد ِ نور بار ہے  : ’’زَیِّنُوْا مَجَالِسَکُمْ بِالصَّلَاۃِ عَلَیَّ فَاِنَّ صَلَاَتَکُمْ عَلَیَّ نُوْرٌلَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، یعنی تم اپنی مجلسو ں کو مجھ پر دُرُودِپاک پڑ ھ کر آراستہ کرو کیونکہ تمہارا مجھ پردُرُود پڑھنا بروزِقیامت تمہارے لئے نور ہو گا ۔ ‘‘ (جامع صغیر، حرف الزای ، ص۲۸۰، حدیث  : ۴۵۸۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی کسی مَحفِلِ ذکر میں شرکت کی سعادت نصیب ہو اور حضورنبیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اسمِ گرامی لیاجائے تو تَزْئِینِ مجلس اور حصولِ برکت کیلئے دُرُودِپاک پڑھ لینا چاہئے تاکہ ہماراپڑھاہوا دُرُودِپاک روزِ قیامت ہمارے لئے نورہواور ہماری بخشش ومَغْفِرت کا ذریعہ بھی بن جائے جیساکہ  

سرکار پر پڑھا ہوا دُ رُود پاک کام آگیا

            حضرتِسیِّدُناعبدُاللّٰہ بن عُمَررَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہماسے مروی ہے  :

 ’’قِیامت کے دن حضرت سَیِّدُناآدم صَفِیُّ اللّٰہعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامعرش کے قریب وسیع میدان میں ٹھہرے ہوئے ہوں گے ، آپ پر دو سبز کپڑے ہوں گے ، اپنی اولاد میں سے ہراُس شخض کو دیکھ رہے ہوں گے جوجنَّت میں جارہا ہوگا اور اپنی اَولاد میں سے اُسے بھی دیکھ رہے ہوں گے جو دَوزَخ میں جارہا ہوگا ۔  اسی اَثنا میں آدمعَلَیْہِ السَّلامسرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ایک اُمَّتِی کو دَوزَخ میں جاتا ہوا دیکھیں گے ۔ سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پکاریں گے ، یا احمد ! یا احمد! حُضُورسراپا نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہیں گے  : ’’لَبَّیْکاے ابُوالْبَشَر! ‘ ‘ حضرت سَیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلام کہیں گے  :  ’’آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ اُمَّتِی دَوزَخ میں جارہا ہے ۔ ‘‘ یہ سن کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبڑی چُسْتی کے ساتھ تیزتیز(قدموں سے )فِرِشتوں کے پیچھے چلیں گے اور کہیں گے  :  ’’اے میرے رَبّ کے فِرِشتو! ٹھہرو ۔ ‘‘ وہ عرض کریں گے  : ’’ ہم مُقَرَّرکردہ فِرِشتے ہیں ، جس کام کا ہمیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے ، ہم وہی کرتے ہیں جس کا ہمیں حکم ملا ہے  ۔ ‘‘ جب حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم افسردہ ہوں گے تو اپنی داڑھی مُبارک کو بائیں ہاتھ سے پکڑیں گے اور عرش کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہیں گے  : ’’اے میرے پَرْوَردَگار عَزَّوَجَلَّ ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں فرمایا ہے کہ تو مجھے میری اُ مَّت کے بارے میں رُسوا نہ فرمائے گا ۔ ‘‘عرش سے نِداآئے گی :  ’’اے فِرِشتو! محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطَاعت کرو اوراِسے لَوٹا دو ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی جھولی سے سفید کاغذ نکالیں گے اور اُسے مِیزان کے دائیں پَلڑے میں ڈال کر کہیں گے ، ’’بِسْمِ اﷲِ‘‘پس وہ نیکیوں والا پلڑا برائیوں والے پَلڑے سے بھاری ہوجائے گا ۔  آواز آئے گی : خوش بَخْت ہے ، سعادت یافتہ ہوگیا ہے اور اس کا مِیزان بھاری ہوگیا ہے ۔ اِسے جَنَّت میں لے جاؤ ۔  وہ بندہ کہے گا : ’’ اے میرے پَروَرْدَگارعَزَّوَجَلَّ  کے فِرِشتو! ٹھہرو ، میں اِس بندے سے بات تو کرلوں جو اپنے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کے حُضُور بڑی کرامت رکھتا ہے  ۔ ‘‘ پھر وہ عرض کرے گا  : ’’ میرے ماں باپ آپ پرفِدا ہوں ، آپ کا چہرۂ انورکتنا حسین ہے اور آپ کی شَکل کتنی خُوبصُورت ہے ، آپ نے میری لغزِشوں کو مُعاف فرمایااور میرے آنسوؤں پر رَحْم فرمایا (آپ کون ہیں ؟)  ۔ ‘‘تو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرمائیں گے ، ’’اَنَا نَبِیُّکَ مُحَمَّدٌ وَہٰذِہٖ صَلَا تُکَ الَّتِیْ کُنْتَ تُصَلِّیْ عَلَیَّ وَقَدْوَفَّیْتُکَ اَحْوَجَ مَا تَکُوْنُ اِلَیْہَایعنی میں تیرا نبی محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہوں اوریہ تیرا وہ دُرُودہے جوتُو مجھ پر بھیجتا تھا اور میں نے تیر ی وہ تمام حاجات پُوری کردیں جن کا تومُحتاج تھا ۔‘‘(موسوعۃ ابن ابی الدنیا فی حسن الظن باللّٰہ ۱ /  ۹۱حدیث : ۷۹ )

رَبِّ  سَلِّمْ !کے کہنے  والے  پر

جان کے ساتھ ہوں نثار سلام

وہ سلامت رہا قیامت میں

                         پڑھ لئے دل سے جس نے چار سلام  (ذوقِ نعت، ص ۱۱۹)

 



Total Pages: 141

Go To