Book Name:Guldasta e Durood o Salam

 

            سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّوَجَلَّ!دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بھی کیا خُوب مَدَنی بہاریں ہیں کہ اس سے وابَستگی کے ذَرِیعے نہ صِرف مُعاشَرے کے بگڑے ہوؤں کی بگڑی بن جاتی ہے بلکہ وہ عشقِ رسول سے سرشار ہو کرصَوم و صلوٰۃ کے پابند اور دُرُودِ پاک کے عادی بن جایا کرتے ہیں ایسی ہی ایک مَدَنی بہار سُنئے اورعمل کا جذبہ پیدا کیجئے  ۔ چُنانچہ

بریک ڈانسرکیسے سُدھرا؟

            لیاقَت پور (ضِلع رحیم یارخان، پنجاب) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے  :  مَیں ۱۴۰۹؁ھ بمطابق1989؁ء میں خانْپور (ضلع رحیم یار خان) میں رہائش پذیر تھا ۔  ان دنوں میں ایک کراٹے کلب میں کراٹے سیکھتا تھا ۔  کراٹے رینکنگ کے مطابق میری گرین بیلٹ تھی (کراٹے کے کھیل میں یہ ایک دَرَجہ ہے )  میں اپنی ہی دنیا میں مَست تھا ۔  وَقت کے ساتھ ساتھ میرے نت نئے شوق و ارادے بڑھنے لگے ۔ یہاں تک کہ میں نے باقاعدہ ایک ماہر اُستاد سے بریک ڈانس سیکھنا شروع کر دیاا پنے فن میں میں نے اتنی مَہارت حاصل کرلی کہ میرا اُستاد جو مجھے ڈانس سکھاتا تھا 1992؁ء میں پاک پتن چلا گیا ۔  میں نے استاد کی غیر موجودگی میں ڈانس کلب بہترین انداز میں سنبھالا ۔  ڈانس سیکھنے والے لڑکوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ۔  وَقت کے ساتھ ساتھ مجھے شہرت ملی تو میں لیاقت پور شفٹ ہو گیا ۔  یہاں بھی اپنے فن کا خُوب مُظاہَرہ کیا اور جلد ہی شاگردوں میں اِضافہ ہونے لگا ۔  اسی دوران میں اسٹیج ڈرامے کروانے والی ایک مَقامی آرٹ کونسل کا رُکن بھی بن گیا ۔  مجھے ڈراموں میں گانوں اور ڈانس کے لئے مَدْعو کیا جاتا ۔  اس طرح میں لوگوں سے خُوب دادِ تحسین حاصل کرتا ۔  یوں میرے شب وروز مزید گُناہوں کی نَذر ہونے لگے ۔ ان گُناہوں میں گھِرے ہونے کے باوجود کبھی کبھار نماز پڑھنے مسجد چلا جایا کرتا تھا ۔  یہی نماز پڑھنا ہی میری اِصلاح کا سبب بنا ۔  میری خُوش نصیبی کہ میں جس مسجد میں نماز پڑھتاتھا وہاں کے امام صاحب دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے ۔ میں جب بھی مسجد جاتا وہ انتہائی ملنساری سے ملاقات فرماتے اورقَبرو آخرت کی تیاری کا ذِہن بناتے ۔ ایک روز جب میں امام صاحب سے ملنے گیا تو میری نظر اچانک ایک ضَخِیْم کتاب پر پڑی جس پر جلی حروف میں ’’فَیضانِ سُنَّت‘‘ لکھا ہوا تھا ۔  میں نے اسے اُٹھایا اورمُطالَعہ کرنا شروع کر دیا، کتاب میں لکھے ایمان اَفروز واقعات اور بالخُصوص دُرُود وسلام کے فَضائل پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا ۔  کتاب کا حَرف حَرف عشقِ رسول میں ڈوبا ہوا تھا یہی وَجہ تھی کہ دل بھرہی نہیں رہا تھا ۔  اب تو میری عادت بن گئی کہ روزانہ شام کے وقت امام صاحب کے پاس آتا اور دیر تک مُطالَعہ کرتا رہتا ۔  اس طرح میری دُرُودِ پاک کی بھی عادت بن گئی ۔  ایک مرتبہ سردیوں کی شام مَیں ہوٹل پرفلم دیکھنے جا رہا تھا کہ اچانک میری مُلاقات امام صاحب سے ہو گئی، انہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی ۔  میں چونکہ شرکت نہیں کرنا چاہتا تھا لہٰذا بہانہ بنایا کہ سردی بہت ہے ، میں گھر سے چادر لے آؤں ۔ میرا یہ کہناتھا کہ امام صاحب نے اپنی چادر اُتاری اور مجھے اوڑھا دی ۔  میں نے چادر لینے سے اِنکار کیا مگر ان کے پُرخُلوص اصرار کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہی پڑے ۔ میں حیران رہ گیا کہ اتنی سردی میں کوئی اس طرح بھی اِیثار کر سکتا ہے ۔ بالآخر میں سُنَّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہو ہی گیا ۔ سُنَّتوں بھرے اجتماع کا رُوح پَرْوَر مَنْظر دیکھ کر میری تو آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئیں مجھے احساس ہوا کہ افسوس! میں تو فانی دنیاکی مَحَبَّت میں گم تھا ۔  حقیقی زِندگی تویہ ہے جہاں زِندگی کا ہر رنگ اپنے اندر ہزاروں رَحمتیں و بَرَکتیں سمیٹے ہوئے ہے ۔ اجتماع میں ’’عِشْقِ مصطفیٰ‘‘ کے موضوع پر ہونے والے سُنَّتوں بھرے بیان نے میری آنکھوں سیغَفْلَت کے پردے دُور کر دیے ۔ میں بے اِختیار رو پڑا ۔  ذِکرُاللّٰہکے دوران مجھے ایسا سُکون ملا کہ اس سے پہلے کبھی ایسا اِطمینان نہ ملا تھا اور آخر میں ہونے والی رِقَّت اَنگیز دُعا نے جیسے زنگ آلود دل کا میل اُتار دیا ۔  میں نے رو رو کر اپنے گُناہوں سے توبہ کی ۔  مجھے محسوس ہوا کہ میرے دل کی دُنیامیں مَدَنی انقلاب برپا ہو چکا ہے ۔ اجتماع کے اِختتام پر اِسلامی بھائی اس طرح مل رہے تھے کہ جیسے مجھے برسوں سے جانتے ہوں ۔ میں نے اسی وَقت امام صاحب سے کہا ’’اب آپ آئیں یا نہ آئیں میں ہر جمعرات اِجتماع میں ضَرور آیا کروں گا ۔ ‘‘ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں ہمیشہ ہمیشہ کی راحتیں اور بَرَکتیں حاصل کرنے کے جَذْبے کے تَحت دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو گیا ۔  5، 6، 7 اپریل 1995؁ ء میں مینارِ پاکستان (لاہور) میں ہونے والے صُوبائی اجتماع میں شریک ہو کر امیرِ اہلسنَّت سے مُرید ہوکر قادری عطاری بن گیا ۔  کل تک گرین بیلٹ میری کمر پر تھی اور آج گرین عمامہ میرے سر پر ہے ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ تادَمِ تَحریر صُوبائی مُشاوَرت میں مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ کے ذِمَّہ دار کی حیثیّت سے سُنَّتوں کی خِدْمت کی سَعادت حاصل کررہا ہوں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

                اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ !ہمیں نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بکثرت دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطافرما اور دُرُودِ پاک کی بَرَکت سے ہماری تمام مُشکلات حل فرما ۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 12

جُمُعہ کے دن دُرُودِ پاک کی کَثرت

            سرکارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے  :  ’’اَکْثِرُوا الصَّلَاۃَ عَلَیََّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاِنَّہٗ مَشْہُوْدٌ تَشْہَدُہُ الْمَلَائِکَۃُ وَاِنَّ اَحَدًا لَنْ یُّصَلِّیَ عَلَیَّ اِلَّا عُرِضَتْ عَلَیَّ صَلَا تُہُ حَتَّی یَفْرُغَ مِنْہَا، یعنی جُمُعہ کے دن مجھ پر کثرت سے دُرُود بھیجا کرو کیونکہ یہ یومِ مشہود (یعنی میری بارگاہ میں فِرِشتوں کی خُصُوصی حاضِری کا دن )ہے ، اس دن فِرِشتے (خُصُوصی طو ر پر کثرت سے میری بارگاہ میں )حاضِر ہوتے ہیں ، جب کوئی شخص مجھ پر دُرُود بھیجتا ہے تو اس کے فارغ ہونے تک اس کا دُرُود میرے سامنے پیش کردیا جاتا ہے  ۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا ابُو دَرْداء رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہکا بیان ہے کہ میں نے عرض کی :  ’’(یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!) اور آپ کے وصال کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’ہاں (میری ظاہری) وَفات کے بعد بھی (میرے سامنے اسی طرح پیش کیا جائے گا ۔ ‘‘)’’اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَائِ، یعنیاللّٰہ تعالیٰ نے زمین کیلئے اَنبیائے کرام علیھم الصَّلوۃ والسَّلام کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے  ۔ ‘‘ فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُرْزَقُ، پس اللّٰہتعالیٰ کا نبی زِندہ ہوتا ہے اور اسے رِزْق بھی عطا کیا جاتا ہے  ۔ ‘‘

 



Total Pages: 141

Go To