Book Name:Guldasta e Durood o Salam

اللّٰہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کا فرمانِ نُور بار ہے  :

قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۵) (پ ۶، المآئدہ :  ۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان :  بیشک تمہارے پاس اللّٰہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب ۔

            حضرتِ سَیِّدُناامام محمد بن جَرِیر طَبَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ الْقوی (مُتَوَفّٰی۱۳۰ ھ) فرماتے ہیں  :  ’’بِالنُّوْرِ مُحَمَّدًا( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اَلَّذِیْ اَنَارَاللّٰہُ بِہِ الْحَقَّ وَاَظْہَرَ بِہِ الْاِسْلَامَ یعنی نور سے مُراد محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں کہ جن کے ذریعے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے حق کو روشن اور اسلام کو ظاہر فرمادیا ۔ (تفسیرالطّبری، پ۶، المائدہ ، تحت الآیۃ۱۵، ۴  / ۵۰۲ )

سب سے پہلی تَخْلیق

            حضرتِ سیِّدُنا جابِر بن عبدُاللّٰہ انصاری رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُماسے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : ’’یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!’’ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ اَخْبِرْنِیْ عَنْ اَوَّلِ شَیْئٍ خَلَقَہٗ اللّٰہُ تَعَالٰی قَبْلَ الْاَشْیَائِ، یعنی یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے بتائیے کہ سب سے پہلیاللّٰہ عَزَّوجَلَّ نے کیا چیز بنائی؟ ‘‘ فرمایا : ’’یَاجَابِرُ اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَدْ خَلَقَ قَبْلَ الْاَشْیَائِ نُوْرَ نَبِیِّکَ مِنْ نُوْرِہ ، یعنی اے جابِر ! بے شک اللّٰہتعالیٰ نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کینُور  کو اپنے نُور سے پیدا فرمایا ۔ ‘‘  (المواہب اللدنیہ ، المقصدالاول، تشریف اللّٰہ تعالی لہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ۱  /  ۳۶ )

تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا

تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانا نور کا (حدائقِ بخشش، ص۲۴۶)

چَمک تُجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

          بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو قاسِم نور ہیں جسے چاہیں پُرنُور کر دیں ۔ چُنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا اَسِیدبن اَبی ایاس رَضِی اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہ خُوش نصیب صحابی ہیں کہ مدینے کے تاجدار ، شَہَنْشاہِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک بار ان کے چِہرے پر ہاتھ پھیرا اوران کے سینے پر اپنا دَسْتِ پُراَنوار رکھا تو کہا جاتا ہے کہ جب بھی وہ کسی تاریک گھر میں داخِل ہوتے تو وہ گھر روشن و مُنوَّر ہوجاتا ۔  (کنز العمال ، کتاب الفضائل ، باب فی فضائل الصحابۃ ، ۷ / ۱۲۳، الجزء الثالث عشر ، حدیث : ۳۶۸۱۹، الخصائص الکبری، باب الآیۃ فی اثریدہ من الشفاء والبریقالخ، ۲ / ۱۴۲)

چَمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

مرا دل بھی چَمکا دے چَمکانے والے   (حدائقِ بخشش، ص۱۵۸)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ گُفْتُگوسے معلوم ہوا کہ حُضُور جانِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ طیبہ بَشریَّت کے ساتھ ساتھ نُورسے بھی معمور ہے ۔ نُوروبَشر کی مزید معلومات کیلئے مُفَسّرشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنّان کے ’’رسالۂ نُور‘‘ کامُطالَعَہ بے حد مُفید ثابت ہوگا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار، حبیبِ پرْوَرْدَگارصَلَّی اللّٰہ تعالٰی عَلَیہ واٰلہٖ وسلَّمکا ارشادِ نور بار ہے  : ’’زَیِّنُوْا مَجَالِسَکُمْ بِالصَّلٰوۃِ عَلَیَّ فَاِنَّ صَلٰوتَکُم عَلَیَّ نُورٌ لَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، تم اپنی مَجلسوں کو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھ کر آراستہ کرو کیونکہ تمہارا مجھ پردُرُودِ پاک پڑھنا بروزِقِیامت تمہارے لئے نُور ہو گا ۔ ‘‘(جامع صغیر، حرف الزای ، ص۲۸۰، حدیث : ۴۵۸۰)

            سُبْحٰنَ اللہِ عَزّوَجَلَّ!کس قَدر خُوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی زِندگی میں حُضُورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامپردُرُود وسلام پڑھنے کوصبح و شام کا وَظِیفہ بناتے ہیں ، روزِ قیامت ان کا پڑھا ہوا دُرُودِ پاک ان کیلئے نُو رہوگا ۔

کَعْبے کے بَدْرُ الدُّجی تم پہ کروڑوں دُرُود

طیبہ کے شمسُ الضُّحٰی تم پہ کروڑوں دُرُود  (حدائقِ بخشش، ص۲۶۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُرُودِپاک کی عادت بنانے کے لئے تبلیغِ ْقُرآن وسُنَّتکی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے  وابَستگی اور دعوتِ اسلامی کے سُنَّتوں بھرے اجتماع میں شرکت نیز مَدَنی انعامات پر عمل کرنا انتہائی مُفیدہے  ۔ مَدَنی انعامات دَر حقیقت اس پُرفِتن دور میں باآسانی نیکیاں کرنے اورگُناہوں سے بچنے کا ایک بہترین اورجامع مَجْموعَہ ہے جو شیخِ طریقت، امیرِاہلسُنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بصُورتِ سُوالات اپنے مُرِیْدِین، مُحِبِّیناور مُتَعَلِّقین کو عطا فرمایا ہے ان مَدَنی انعامات میں آپ دَامَت بَرکاتہُمُ الْعالیہ نے جہاں عِلْم وعَمل کی ترغیب دی، وہیں جا بجا احمد مجتبیٰ، محمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ سِتُودَہ صِفات پر دُرُودِپاک پڑھنے کا ذِہن بھی دیا ہے جیسا کہ مَدَنی انعام نمبر 5میں فرماتے ہیں  :  ’’کیا آج آپ نے اپنے شَجَرے

Total Pages: 141

Go To