Book Name:Guldasta e Durood o Salam

(آدابِ مرشد کامل، ص ۲۲)

                جوکسی کا مُرید نہ ہو اُس کی خِدمت میں مَدَنی مشورہ ہے ! کہ اپنی دنیا و آخرت کی بہتری کے لئے اس زمانے کے سلسلۂ عالیہ قادِریہ رَضویہ کے عظیم بزرگ شیخ طریقت ، امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مُرید ہوجائے ۔ یقیناً مُرید ہونے میں نُقصان کا کوئی پہلو ہی نہیں ، دونوں جہاں میں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ فائدہ ہی فائدہ ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اللّٰہتعالیٰ ہمیں اپنے نیک بندوں کا دامن عطا فرمائے ، اچھوں کے صَدقے ہمیں اچھا بنائے اور ہمیں پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُود ِپاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے  ۔ اٰمِیْن بِجَاہ النَّبِیِّ الاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 11

سوزَنِ گمشُدہ ملتی ہے تَبسُّم سے ترے

        اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضی اﷲ تعالٰی عَنْہا سَحری کے وَقت کچھ سی رہی تھیں کہ اچانک سوئی گرگئی اور چَراغ بھی بُجھ گیا ۔  اتنے میں رَحمتِ عالم، نورِ مجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے ۔ چہرئہ اَنور کی روشنی سے سارا گھر روشن ہوگیا حتی کہ سوئی مل گئی ۔ اُمُّ الْمؤمِنینرَضی اللّٰہ تعالٰی عَنْھانے عرض کی :  ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کا چہرئہ انور کتنا روشن ہے ۔ ‘‘سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’وَیْلٌ لِّمَنْ لَّا یَرَانِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی اس شخص کیلئے ہَلاکت ہے جو مجھے قیامت کے دن نہ دیکھ سکے گا ۔ ‘‘ عرض کی : ’’وہ کون ہے جو آپ کو نہ دیکھ سکے گا ۔ ‘‘فرمایا : ’’وہ بَخیل ہے  ۔ ‘‘پوچھا  : ’’ بَخیل کون؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’ اَلَّذِیْ لَا یُصَلِّیْ عَلَیَّ اِذْ سَمِعَ بِاِسْمِیْ، جس نے میر انام سنا اور مجھ پر دُرُودِ پاک نہ پڑھا ۔ ‘‘

 (القول البدیع، الباب الثالث فی التحذیر من ترک الصلاۃ علیہ عندذکرہ، ص۳۰۲)

سُوزَنِ گُمشُدہ ملتی ہے تبسُّم سے ترے

شام کو صُبح بناتا ہے اُجالا تیرا    (ذوقِ نعت، ص۱۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضور پُر نور ، شافع یوم النشورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ نورٌ علیٰ نور کی بھی کیا بات ہے کہ چہرۂ اَقدس کی روشنی سے سوئی مل جاتی ہے ! مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفْتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالحنّان فرماتے ہیں  : ’’رحمت ِ عالم ، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بشربھی ہیں اورنور بھی، یعنی نورانی بشر ہیں ۔ ظاہری جسم شریف بشر ہے اور حقیقت نورہے  ۔ ‘‘       (رسائل نعیمیہ، ص ۳۹، ۴۰)

          قُربان جائیے ! ہمارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نُورانیت کے کہ اس نور کے پیکر کی دُنیائے آب وگِل میں جَلْوہ گری بھی اس شان سے ہوئی کہ چہار سُو روشنی کی کرنیں بکھر گئیں  ۔ چنانچہ

ایوانِ شام روشن ہوگئے

            حضرتِ سیِّدُناعِرباض بن سارِیہ فرماتے ہیں کہ آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اِنِّیْ عِنْدَ اللّٰہِ مَکْتُوبٌ خَاتِمُ النَّبِیِّیْنَ ، وَإِنَّ اٰدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِینَتِہٖ، یعنی میں اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا بحا لیکہ حضرت  آدم کے پُتلے کا خمیر ہورہا تھا (پھر فرمایا)وَسَاُخْبِرُکُمْ بِاَوَّلِ اَمْرِیْ ، میں تمہیں اپنے اِبتدائے حال کی خبر دوں ، دَعْوَۃُ اِبْرَاہِیمَ ، وَبِشَارَۃُ عِیسٰی، وَرُؤْیَا اُمِّی الَّتِیْ رَاَتْ حِیْنَ وَضَعَتْنِیْ یعنی میں دُعائے ابراہیم ہوں ، بشارتِ عیسیٰ ہوں ، اپنی والدہ کے اس خَواب کی تَعْبِیْر ہوں  جو اُنہوں نے میری وِلادت کے وَقت دیکھا، ’’وَقَدْ خَرَجَ لَہَا نُوْرٌ اَضَائَ تْ لَہَا مِنْہُ قُصُوْرُ الشَّامِ ، یعنی ان سے ایک نورِ ساطِع (چمکتاہوانور)ظاہر ہوا جس سے ملکِ شام کے ایوان وقُصور اُن کے لئے روشن ہوگئے ۔ ‘‘

            حضرتِ سیِّدناشمس ُالدِّین محمدحافِظ شیرازی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْہادیبارگاہِ رسالت میں عرض گزار ہیں  :

یَاصَاحِبَ الْجَمَالِ وَیَاسَیِّدَ الْبَشَر

مِنْ وَّجْھِکَ الْمُنِیْـرِ لَقـَدْ نُوِّرَ الْقـَمَر

                یعنی اے حُسن و جمال والیصلَّی اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہ واٰلہٖ وسلَّماور تمام انسانوں کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بے شک آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نُورانی چہرے کی تابانی سے چاندکوروشن کیاگیا ۔

سرکار کی بَشَرِیَّت کااِنکار کرنا کیسا؟

            بے شک ہمارے مَدَنی آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حقیقت نُور ہے مگر یہ یاد رکھئے !کہ مطلقاً بَشَرِیَّت کے اِنکار کی اجازت نہیں ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُالرَّحمٰن فرماتے ہیں  :  ’’تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بَشَرِیَّت کا مُطْلقاً اِنکار کُفْر ہے  ۔ ‘‘(فتاوٰی رضویہ، ۱۴ /  ۳۵۸) لیکن آپ کی بَشرِیَّت عام انسانوں کی طرح نہیں بلکہ آپ سَیِّدُ الْبَشَر اوراَفْضَلُ الْبَشَرہیں  ۔

 

 



Total Pages: 141

Go To