Book Name:Guldasta e Durood o Salam

اہلِ مَحَبَّت کے دُرُود کو نہ صِرف سماعت فرماتے ہیں بلکہ انہیں پہچانتے بھی ہیں  ۔ مُبارک کانوں کی شانِ عالی نشان کو بیان کرتے ہوئے خود ارشاد فرماتے ہیں  : ’’اِنِّیْ اَرٰی مَالَا تَرَوْنَ وَاَسْمَعُ مَالَا تَسْمَعُوْن، یعنی میں ان چیزوں کو دیکھتا ہوں جن کوتُم میں سے کوئی نہیں دیکھتا اور میں ان آوازوں کو سنتا ہوں جن کو تُم میں سے کوئی نہیں سنتا ۔ ‘‘(الخصائص الکبریٰ، باب الآیۃ فی سمعہ الشریف، ۱ / ۱۱۳)

اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قُوَّتِ سماعت وبَصارت بے مثال اور مُعْجزانہ شان رکھتی تھی ۔  کیونکہ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُورو نزدیک کی آوازوں کو یکساں طور پر سن لیا کرتے ہیں ۔

دُور و نزدیک کے سننے والے وہ کان

                          کان لَعلِ کرامت پہ لاکھوں سلام    (حدائقِ بخشش، ص۳۰۰)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں چاہئے کہ ہم بھی تاجدارِ رسالت، شہنشا ہ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ بابرکت پر بکثرت دُرُود و سَلام پڑھتے رہا کریں اور بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے فَیضیاب ہوتے رہیں جو خُوش نصیب رحمتِ عالمیان ، مکّی مَدَنی سلطان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِ پاک پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں ان پر نوازشات کی ایسی بارشیں ہوتی ہیں کہ دیکھنے والے مارے حیرت کے اَنگُشْت بَدنْداں رہ جاتے ہیں ۔ چُنانچہ اس ضِمن میں ایک اِیمان اَفروز حکایت سُنئے اور مارے حیرت و مُسرت کے سر ُدھنئے  ۔

باکمال مَدَنی مُنّی

            حضرت سَیِّدُناشَیْخ محمد بن سُلَیْمان جَزُوْلی  عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْوَلِیْ فرماتے ہیں  :  ’’میں سَفَر میں تھا، ایک مَقام پر نماز کا وَقْت ہو گیا، وہاں کُنواں تو تھا مگر رَسّی اور ڈَول نَدارَد (ڈول اور رَسّی موجود نہ تھی) میں اسی فِکْر میں تھا کہ ایک مکان کے اُوپر سے ایک مَدَنی مُنِّی نے جھانکا اور پوچھا : ’’ آپ کیا تلاش کر رہے ہیں ؟‘‘ میں نے کہا : ’’ بیٹی! رسّی اور ڈَول ۔  ‘‘اُس نے پو چھا :  ’’آپ کا نام؟ ‘‘فرمایا :  محمد بن سُلَیْمان جَزُوْلی ۔  مَدَنی مُنّی نے حیرت سے کہا :  ’’اچّھا آپ ہی ہیں جن کی شُہْرت کے ڈَنْکے بج رہے ہیں مگرحال یہ ہے کہ کُنویں سے پانی نہیں نِکال سکتے ! ‘‘یہ کہہ کر اس نے کُنویں میں تُھوک دیا ۔  کمال ہوگیا! آناً فاناً پانی اُوپر آگیا اور کُنویں سے چَھلکنے لگا ۔  آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے وُضُو سے فراغت کے بعداُس باکمال مَدَنی مُنِّیسے فرمایا :  ’’بیٹی! سچ بتاؤ تم نے یہ کَما ل کس طرح حاصِل کیا؟‘‘ کہنے لگی :  ’’یہ اُس ذاتِ گرامی پر دُرُود پاک کی بَرَکَت سے ہواہے اگروہ جنگل میں تشریف لے جائیں تودَرندے ، چرندے آپ کے دامَن میں پناہ لیں ۔ ‘‘آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  :  ’’اس باکمال مَدَنی مُنّی سے مُتَأَثِّر ہوکر میں نے وہیں عہد کیا کہ میں دُرُود شریف کیمُـتَـعَلِّق کِتاب لکھوں گا ۔  ‘‘ (سعادۃ الدارین، الباب الرابع، اللطیفۃ الخامسۃ عشرۃ بعد المائۃ، ص۱۵۹ مفہوماً)چُنانْچِہ آپ رَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے دُرُود شریف کے بارے میں کِتاب لکھی جو بَہُت مقبول ہوئی اور اس کِتاب کا نام ’’دَلائِلُ الْخَیْرات‘‘ ہے ۔  (حسینی دولہا، ص۱ )

صالِحِین کا ذِکْر باعثِ رَحْمت ہے

            حضرتِ سیِّدُنا سُفْیان بن عُیَیْنَہرَحْمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  :  ’’عِنْدَذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُ، یعنی نیک لوگوں کے ذِکر کے وَقت رَحمت نازِل ہوتی ہے  ۔ ‘‘ (حِلیۃُ الاولیاء، ۷ / ۳۳۵، رقم  : ۱۰۷۵۰) آئیے ہم بھی حُصُولِ بَرَکت اورنُزُولِ رَحمت کے لئے صاحبِ دَلائِلُ الْخَیْرات کا کچھ تذکرہ سُنتے ہیں ۔

            صاحبِ دَلائِلُ الْخَیْرات فَنافی المُصْطفیٰ ، سَنَدُ الْاَصْفِیَا، عارفِ کامل ، قطبُ الاَقْطاب، وحیدُ الدَّہر، فَرید الْعَصر، شیخ ، امام ابُوعبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکا نامِ نامی اسمِ گرامی محمد، والد کا نام عبدالرحمن، جب کہ دادا کا اسمِ گرامی ابوبکر بن سلیمان ہے  ۔ تاریخ میں بہت سے ایسے بزرگ ملتے ہیں جن کی نِسبت والد کی بجائے جَدِّاَعلیٰ کی طرف ہوتی ہے ، حضرت سَیِّدُنا امام جَزُوْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ القوی کو بھی بالعموم ان کے والد کے دادا جان حضرتِ سلیمان کی طرف مَنْسُوب کر کے محمد بن سلیمان کہا جاتا ہے  ۔

            آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ ۸۰۷ ؁ھ بمطابق 1404؁ء کو ملکِ مراکش کے مقام’’ سَوس‘‘ میں پیدا ہوئے  ۔ آپ حَسَنیسَیِّدہیں ، اکیس واسِطوں سے آپ کا سلسلۂ نَسب حضرت سَیِّدُنا امام حَسَن مُجتبیٰرضی اللّٰہ تعالی عنہ سے ملتا ہے ۔ نیز آپ مَذْھباً مالکی (یعنی حضرتِ سَیِّدُنا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق کے مُقَلِّد) اور مَشْرَباً(یعنی طریقت کے اِعتبارسے ) شاذلی تھے ۔

            حضرتِ سَیِّدُناامام محمد بن سُلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَویخُوش عَقیدہ بُزُرگ تھے جن کا تعلُّق اَہلِ سُنَّت و جماعت سے تھا ۔ آپ ذاتِ باری تعالیٰ کے حوالے سے بڑا ٹھو س عَقیدہ رکھتے تھے اور آپ نے جابجا اللّٰہتعالیٰ کی ذات و صِفات اور اس کی قُدْرتِ کاملہ کا بڑے حسین پیرائے میں ذِکر کیا ہے ۔ دَلائِلُ الْخَیْراتشریف بُنْیادی طور پر دُرُود و سلام کا مَجمُوعہ ہے مگر اس کے ضِمن میں اللّٰہ تعالیٰ کی صِفات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ دُرُود پڑھنے والے کے دل میں اللّٰہ تعالیٰ کی عَظْمَت و شان اور اس کا جَلال وکَمال راسِخ ہو جاتا ہے  ۔

            آپ ہمہ وَقت اَوْراد و وظائف میں مَشْغول رہتے ، ہرمُعامَلہ میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف دھیان رکھتے ، کتاب و سُنَّت  پر سختی سے کاربند اور حُدُودِ الہٰی کی پاسبانی کرنے والے تھے ، باِلاخر آپ کی نیکی اوربُزُرگی کی دُھوم مچ گئی اور خلقِ خدا آپ سے فَیضیاب ہونے لگی ۔ آپ دن رات میں ڈیڑھ قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے ، بِسْمِ اللّٰہ شریف کا وَظِیفہ پڑھتے نیز شب و روز میں دو مرتبہدَلائِلُ الْخَیْرات ختم کرنابھی روز کے معمولات میں شامل تھا ۔

            حضرتِسَیِّدُنا شیخ محمد بن سلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَوی سلسلۂ شاذلیہ میں بَیْعَت کے بعد چودہ سال تک خَلْوَت گزیں رہ کر عِبادت و رِیاضت اور منازلِ سُلوک طے کرنے میں مشغول رہے ۔ چودہ سالہ طویل خَلْوت کے بعد نیکی کی دَعوت کو عام کرنے اور خلقِ خُدا کی ہدایت کے لیے آپ نے جَلْوَت اِختیارکی ، آسِفی شہر کو آپ نے اپنی دینی سرگرمیوں کا مَرکز بنایا اورمُریدین کی تَربیت و ہِدایت کا کام سر اَنجام دینا شُروع کیا ۔  بے شُمار لوگ آپ کے دَستِ حق پَرَست پر تائِب ہوئے اور آپ کا چرچا دُنیا بھر میں پھیل گیا، آپ سے بیشمار عظیم کرامات اور حیرت اَنگیز خَوارِق رُونما ہوئے ، آپ کے مَناقب اورکَمالات میں غور کرنے سے عَقْلِ انسانی دَنگ رہ جاتی ہے  ۔

            صاحبِ دَلائِلُ الْخَیْرات حضرتِ سَیِّدُناشیخ محمد بن سلیمان جَزُوْلی عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَوِیکا اِمتیازی وَصف عِشْقِ رسول صَلّٰی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے ۔ آپ تَحدیثِ نعمت کے طور پر اپنے عشق کی



Total Pages: 141

Go To