Book Name:Guldasta e Durood o Salam

دُرُود خوان مکّھیاں

حضرتِ سیِّدُنامولانا جَلالُ الدِّین رُومی عَلَیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی مَثْنوِی  شریف میں فرماتے ہیں  : ’’ایک بار تاجدارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شہد کی مکھی سے دَرْیافت فرمایا کہ تُو شہد کیسے بناتی ہے ؟ ‘‘اُس نے عرض کی :  ’’یاحبیبَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم چَمن میں جا کر ہرقِسم کے پُھولوں کا رَس چُوستی ہیں پھر وہ رَس اپنے مُنہ میں لیے ہوئے اپنے چَھتّوں میں آجاتی ہیں اور وہاں اُگل دیتی ہیں وہی  شہد  ہے ۔ اِرشاد فرمایا  : ’’ پُھولوں کے رَس تو پھیکے ہوتے ہیں اور شہد میٹھا، یہ تو بتاؤ کہ شہد میں مِٹھاس کہاں سے آتی ہے ؟‘‘ مَکھی نے عرض کی :

گُفْتْ چُوْں خُوَانَیْم بَرا حمد دُرود

مِیْ شَوَدْ شِیْرِیں وَ تَلْخِی رَا رَبُوْد

’’یعنی ہمیں قُدْرت نے سِکھا دیا ہے کہ چَمن سے چَھتیّ تک راستے بھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھتی ہوئی آتی ہیں ۔ شہد  کی یہ لذَّت اورمِٹھاس دُرُودِپاک ہی کی بَرَکت سے ہے ۔  (شانِ حبیب الرحمن ، ص ۱۸۷)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُرُود شریف کی بَرَکت سے پُھولوں کے پھیکے اور تَلْخ رَس مِل کر ایک ہوگئے اور سب کا نام  شہد  ہوگیا ۔  ایسے ہی سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی غُلامی کی بَرَکت سے سارے عَربی، عجمی انسان ایک ہوگئے اوراِن کا نام مُسلمان ہوگیا ۔  جس طرح دُرُود شریف کی بَرَکت سے پِھیکا رَس میٹھا ہوگیا ۔  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہم دُرُود شریف پڑھتے رہیں گے تو ہماری پھیکی عِبادَتوں میں بھی دُرُود پاک کی بَرَکت سے قَبُولِیَّت کی مِٹھاس پیدا ہوجائے گی ۔  جس طرح دُرُود شریف کی بَرَکت سے  شہد  شِفا بن گیا اسی طرح ہر دُعا دُرُود شریف کی بَرَکت سے مَرَضِ گُناہ کی دَوا ہے  ۔

ہوں دُرُود و سَلام ، میرے لب پر مُدام

               ہر گھڑی دَم بَدم ، تاجدارِ حرم(وسائلِ بخشش ، ص ۲۷۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ! ہمیں عُمر بھر فَرائض و واجِبات کی پابندی کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے اورمُحسن آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُود و سَلام بھیجتے رہنے کی توفیق عطا فرما ۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 9

ایک قِیراط اَجْر

            سرکارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے  :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ قِیْرَاطاً وَالْقِیْرَاطُ مِثْلُ اُحُد، یعنی جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قِیراط اَجر لکھتا اورایک قِیراط اُحُد پہاڑ جتنا ہے  ۔ ‘‘ (کنز العمال، کتاب الاذکار، الباب السادس فی الصلاۃ علیہ وعلی آلہ، ۱ /  ۲۴۹، الجزء الاول،  حدیث : ۲۱۶۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ حدیثِ پاک میں جَبَلِ اُحُد کا تَذْکرہ ہے  ۔ یہ وہ خُوش نصیب پہاڑ ہے جسے کئی مرتبہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قَدم بوسی کا شرف حاصل ہوا ہے اور یہ پہاڑ عاشقِ رسول ہے ۔ چنانچہ اللّٰہ کے محبوب ، دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مَحَبَّت نشان ہے  :  ’’اُحُدٌ جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہٗ ، یعنی اُحُد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے مَحَبَّت کرتا ہے اور ہم اس سے مَحَبَّت کرتے ہیں  ۔ ‘‘(بخاری ، کتاب الزکاۃ ، باب خرص التمر ، ۱ / ۵۰۰، حدیث : ۱۴۸۲)

            مُفسرِّ شہیر حکیم الاُمَّت حضرتِ مُفْتِی احمد یار خان نعیمی علیہ رَحمۃ اللّٰہ الْقَوی اس حدیثِ پاک کے تحت مشکاۃ المصابیح کی شرح مراۃ المناجیح میں ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’اُحُد شریف مَدینہ پاک سے جانبِ مَشرق تَقریباً تین مِیل دُور ایک پہاڑ ہے ، مَدینہ مُنوَّرہ خُصُوصاً جنَّتُ الْبقِیع سے صاف نَظر آتا ہے ، وہاں شُہدائے اُحُد خُصُوصاً  سَیِِّدُ الشُّہَدَاء حضرتِ سَیِّدُنا اَمیرِ حَمزہ (رَضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُم اَجْمعین)کے مَزارات ہیں ، زائرین جُوق دَر جُوق اس پہاڑ کی زِیارت کرتے ہیں ، میں نے حُجَّاج کو اِس پہاڑ سے لپٹ کر روتے اور وہاں کے پتھروں کو چُومتے دیکھا ہے ۔ ہر مُومن کے دل میں قُدْرتی طور پر اس کی مَحَبَّت ہے ۔ حق یہ ہے کہ خود یہ پہاڑ ہی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحَبَّتکرتا ہے ۔ لکڑیوں پتھروں میں احساس بھی ہے اور مَحَبَّت و عَداوت کا مادَّہ بھی ، حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فِراق میں اُونٹ بھی روئے اور لکڑیوں نے بھی گِریہ و زاری و فریاد کی ہے ۔ (لمعات ، مرقات، محی السنہ)

            لہٰذا حق یہ ہے کہ خودحُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُحُدپہاڑ سے ، اس علاقے سے ، وہاں کے پتھروں سے مَحَبَّتفرماتے ہیں اور یہ تمام چیزیں بِعَیْنِہٖ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحَبَّتکرتی ہیں ، اَحادیث سے ثابت ہے کہ حُضُور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُحُد پر چڑھے تو اُحُد کو وَجْد آگیا اور وہ جھومنے لگا  ۔ ‘‘

حدیث پاک سے حاصل ہونے والے سات مدنی پھول

          مزید فرماتے ہیں  : ’’ اس حَدیث سے چند ایمان اَفروز مَسائل ثابت ہوئے  :

          ایک یہ کہ تمام حسین صِرف انسانوں کے مَحبوب ہوئے ، حُضُورِانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انسان، جنّ ، لکڑی، پتھراور جانوروں کے بھی مَحبوب ہیں ، یعنی خُدائی کے مَحبوب ہیں کیونکہ



Total Pages: 141

Go To