Book Name:Guldasta e Durood o Salam

روزانہ چند صفحات پڑھ کر علمِ دین حاصل کرنے کے ثواب کا حقدار بنوں گا ۔ (21) کتابت وغیرہ میں شَرْعی غَلَطی ملی تو نا شِرین کو تحریری طور پَر مُطَّلع کروں گا ۔  (ناشرین ومصنفین وغیرہ کو کتابوں کی اغلاط صرف زبانی بتانا خاص مفید نہیں ہوتا)

بسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

المد ینۃ العلمیۃ

از : شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ علٰی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہصلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے ، اِن تمام اُمور کو بحسنِ خوبی سر انجام دینے کے لئے متعدَّد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں سے ایک مجلس’’المد ینۃ العلمیۃ‘‘ بھی ہے جودعوتِ اسلامی کے عُلما و مُفتیانِ کرام کَثَّرَ ھُمُ اللّٰہُ تعا لٰیپر مشتمل ہے ، جس نے خالص علمی، تحقیقی او راشاعتی کام کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ اس کے مندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں  :

(۱)شعبہ کتُبِ اعلیٰحضرت  

(۲)شعبہ تراجمِ کتب

(۳)شعبہ درسی کُتُب

(۴)شعبہ اصلاحی کُتُب

(۵)شعبہ تفتیشِ کُتُب

(۶)شعبہ تخریج

            ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘کی اوّلین ترجیح سرکارِ اعلیٰحضرت اِمامِ اَہلسنّت، عظیم البَرَکت، عظیمُ المرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامیٔ سنّت ، ماحیٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر و بَرَکت، حضرتِ علاّمہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق حتَّی الْوُسعَ  سَہْل اُسلُوب میں پیش کرنا ہے ۔ تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس عِلمی، تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اورمجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِس کی ترغیب دلائیں  ۔

            اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بَشُمُول’’المدینۃ العلمیۃ‘‘کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اِخلاص سے آراستہ فرماکر دونو ں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے  ۔ ہمیں زیرِ گنبدِ خضرا شہادت، جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیّ الْاَمِیْنصلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

                                             رمضان المبارک۱۴۲۵ھ

 

پہلے اسے پڑھ لیجئے

تمام خوبیاں اس ذات کے لئے جس نے اپنی عبادت کے واسطے جن و انس کی تخلیق فرمائی اور انہیں مختلف آسائشیں مہیا کرنے کے علاوہ ان پرلاتعداد انعامات فرمائے ۔ یقینا اس کی ہر نعمت بجائے خود نہایت اہَمِّیت کی حامل ہے مگر بنظرِ غائِر دیکھا جائے تو اس بات میں شک و شبہے کی گنجائش نہ ہوگی کہ ہمارے درمیان رَحْمَۃٌ لِّلْعَالمین  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بعثت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ہر نعمت پر فوقیت رکھتی ہے کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اپنی کسی نعمت کا خُصُوصِیّتکے ساتھ تذکرہ کرکے اس پر احسان نہ جتلایامگر حضور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بعثت کو بَصَرَاحت احسان سے تعبیرکرتے ہوئے فرمایا :  ’’بے شک اللّٰہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا ۔ ‘‘

احساناتِ الٰہیہ کا تقاضا ہے کہ ہر حال میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے اَحْکام کی تعمیل کی جائے ۔ یوں تو اس نے ہمیں کثیر اَحْکامات کا مُکَلَّفکیا ہے مگر ان میں سے سرکار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰیعَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر دُرُود و سلام پڑھنے والا حُکْم نہایت ہی عظیم ہے کیونکہ اس کا حُکْم دینے سے پہلے  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اور اپنے معصوم فِرِشْتوں کے دُرود بھیجنے کا تَذْکِرَہ کرتے ہوئے ارشادفرمایا :  ترجمۂکنز الایمان  :  ’’ بیشک اللّٰہ اور اس کے فرشتے دُرُود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر ۔ ‘‘ ۲۲، الاحزاب : ۵۶) اس کے بعد اس عظیم کام کا ہمیں بھی حکم دیا، بہت سی احادیثِ کریمہ بھی دُرودِ پاک کی ترغیب و فضیلت سے مالا مال ہیں  ۔

معلوم ہوا کہ دُرُود و سلام پڑھنا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے پیارے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضاکا باعث ہے ۔ غور کریں کہ ایک طرف تو جس مدنی آقا  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہم پر بے شُمار احسانات ہیں اور دوسری طرف ہر خاص موقع پر امّتِ عاصی کو یاد فرما کر جن کی چشمانِ کرم تر ہوگئیں کیوں نہ ایسے مُشْفِق ومہربان آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت و عقیدت کے اظہار کے لئے ان کی ذات پر دُرُود و سلام کی کثرت کی جائے  ۔

 



Total Pages: 141

Go To