Book Name:Guldasta e Durood o Salam

(18) نَمازِ جنازہ میں دوسری تَکْبِیْر کے بعد دُرُود شریف پڑھنا سُنَّتِ مُؤکَّدہ ہے ۔

(19)خُطْبۂ جُمُعہ وعیدین میں دُرُود شریف پڑھنا اِمام شافِعی علیہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْکافیکے نزدیک فَرض جبکہ اَحناف کے نزدیک مُسْتحب ہے  ۔ بہر حال لازم ہے کہ کوئی خُطْبۂ جُمُعہ دُرُود شریف سے خالی نہ ہو ۔  (القول البدیع ، الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۳۸۶)

(20) خُطْبۂ نِکاح ، دَرسِ علم اور بیان کی اِبتدا میں بھی دُرُود شریف پڑھ لینا مُسْتحب اور باعثِ خَیر وبَرَکت ہے  ۔

(21) جب کوئی قُرآنِ پاک کاخَتْم کرے تو دُرُود شریف ضرور پڑھ لے کہ یہ نُزولِ رَحمت اور دُعا کی مَقبولیت کا وَقت ہے ۔

(22)رات کونَمازِ تَہَجُّد کیلئے بیدار ہونے کے وَقت ۔

(23) آفات و بَلِیَّات کو دَفْع کرنے کیلئے بکثرت دُرُود شریف پڑھنا نِہایت مُفِیْد ہے  ۔   (القول البدیع ، الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص ۴۱۴)

(24) عِطْر، گُلاب یا کسی خُوشبو کو سونگھتے وَقت دُرُود شریف پڑھنا چاہیے ۔ حضرتِ علَّامہشیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقَوینے لکھا ہے کہ خُوشبوسُونگھتے وَقت خُوشبوئے مُحمَّدی کو یاد کرکے دُرُود و سلام کا تُحفہ پیش کرے تو یہ مُسْتحسَن ہے  ۔

انہیں کی بُو مایہ سمن ہے ، انھیں کاجَلوہ چَمن چَمن ہے

                                 انہیں سے گلشن مَہَک ر ہے ہیں ، انھیں کی رَنگت گُلاب میں ہے (حدائقِ بخشش ، ص۱۸۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کب کب دُرُود شریف پڑھنا مَمْنُوع ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے ! زبان سے ذِکر و دُرُود باعثِ اَجر و ثواب بھی ہے اوربَعْض صُورتوں میں مَمْنُوع بھی، جیساکہ مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ بہارِ شریعت جلد اَوَّل صفحہ533پر رَدُّ الْمُحْتار کے حوالے سے مَذکُور ہے  :  ’’گاہک کو سودا دکھاتے وَقت تاجر کا اس غرض سے دُرُود شریف پڑھنا یا سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ کہنا کہ اس چیز کی عُمدَگی خریدار پر ظاہر کرے ناجائز ہے  ۔ یُونہی کسی بڑے کو دیکھ کر اس نِیَّت سے دُرُود شریف پڑھنا کہ لوگوں کو اس کے آنے کی خَبر ہوجائے تاکہ اس کی تَعْظِیْم کو اُٹھیں اور جگہ چھوڑدیں ناجائز ہے ۔ اسکے علاوہ بھی مزید ایسی جگہیں ہیں جہاں دُرُودشریف پڑھنا مَنْع ہے  ۔ جِماع کے وَقت، اِستنجا کرتے وَقت، جانور ذَبْح کرتے وَقت  ۔ ‘‘ (درمختارو ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب فی المواضع التی تکرہ فیہا الصلاۃ الخ، ۲ /  ۲۸۲)

ذِکر ودُرُود ہر گھڑی وِردِ زباں رہے

میری فُضُول گوئی کی عادَت نکال دو(وسائلِ بخشش ، ص۲۹۰)

اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں اِخلاص  کے ساتھ دُرُست مَواقع پر کثرت سے دُرُودشریف پڑھ کر تیری رِضا پانے کی توفیق عطافرما ۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 

بیان نمبر  : 7

موت سے پہلے جَنَّت میں مَقام دیکھے گا

سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ  جَنَّت نشان ہے  :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ فِیْ یَوْمٍ اَلْفَ مَرَّۃٍ لَمْ یَمُتْ حَتَّی یَرٰی مَقْعَدَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ، یعنی جو مجھ پر ایک دن میں ایک ہزارمرتبہ دُرُود شریف پڑھے گا وہ اُس وَقت تک نہیں مرے گا جب تک  جَنَّت میں اپنا مَقام نہ دیکھ لے ۔ ‘‘ (الترغیب والترھیب، کتاب الذکر والدعاء ، الترغیب فی اکثارالصلاۃ علی النبی، ۲ /  ۳۲۶، حدیث :  ۲۵۹۰)

وہ تو نِہایت سَسْتا سودا بیچ رہے ہیں جَنَّت کا

ہم مُفلِس کیا مول چُکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے  (حدائقِ بخشش ، ص۱۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں نہ صرف خُود فَرائض و واجبات کی پابندی کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کا عادی بنانا چاہئے بلکہ اپنے اَہل و عَیال کو بھی دُرُودِ پاک اور تاجدارِکائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیمَحَبَّت اورآپ کے اہل بیت کی محبت کی تَعْلیم دینی چاہیے جیسا کہ

تَربیتِ اَولاد کے لئے تین اَہَمّ باتیں

نبی پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ تَربیت نشان ہے  : ’’اَدِّبُوْا اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلاثِ خِصَالٍ، یعنی اپنی اَولاد کو تین باتیں سکھاؤ‘‘ (1) ’’حُبِّ نَبِیِّکُمْ، اپنے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّت‘‘(2)’’وَحُبِّ اَہْلِ بَیْتِہٖ، اَہلِ بیت (عَلَیْھمُ الرِّضْوان) کی مَحَبَّت ‘‘(3) ’’وَقِرَاء ۃِ الْقُرْاٰنِ، اور تلاوتِ قُرآن، فَاِنَّ حَمَلَۃَ الْقُرْاٰنِ فِیْ ظِلِّ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ مَعَ اَنْبِیَائِہٖ وَاَصْفِیَائِہٖ، کیونکہ قُرآنِ پاک پڑھنے والے لوگ اَنبیا و اَصْفِیا عَلَیْھِمُ السَّلام کے ساتھ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سایۂ رَحمت میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا  ۔ ‘‘ (جامع صغیر ، الجزء الاول، حرف الہمزۃ ، ص۲۵، حدیث :  ۳۱۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے اسلاف کرام رَحِمھمُ اللّٰہ السَّلام اپنی اولاد کی ایسی مَدَنی تَربیت کیا کرتے تھے کہ بچپن ہی سے وہ عِشْقِ رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم