Book Name:Guldasta e Durood o Salam

وَسَلَّم کافرمانِ شَفاعت نشان ہے  :  ’’اِذَاسَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوُلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ، جب تُم مؤذِّن کو (اذان دیتے ) سنو تو تُم بھی اسی طرح کہو جو وہ کہہ رہا ہے  ۔ ‘ ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا‘‘پھر مجھ پر دُرُود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دُرُود بھیجتا ہے اللّٰہتعالیٰ اس پر دس رَحمتیں نازِل فرماتاہے ۔ ’’ ثُمَّ سَلُوا اللّٰہَ لِیَ الْوَسِیْلَۃَ فَاِنَّہَا مَنْزِلَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ لَا تَنْبَغِیْ اِلَّا لِعَبْدٍ مِّنْ عِبَادِ اللّٰہِ وَاَرْجُوْ اَنْ اَکُوْنَ اَنَا ہُوَ، پھر اللّٰہ تعالیٰ سے میرے لیے وَسیلہ مانگو، وہ جَنَّت میں ایک جگہ ہے جو اللّٰہ کے بندوں میں سے ایک ہی کے لائق ہے اور مجھے اُمید ہے کہ وہ میں ہی ہوں  ۔ ’’فَمَنْ سَئَلَ لِیَ الْوَسِیْلَۃَ حَلَّتْ لَہٗ الشَّفَاعَۃُ، تو جو میرے لیے وسیلہ مانگے اس کے لیے میری شَفاعَت لازِم ہے ۔ ‘‘ (مشکاۃ ، کتاب الصلاۃ ، باب فضل الاذان واجابۃ الموذن ، ۱ / ۱۴۰، حدیث : ۶۵۷ )

ایک مَسْئلہ اور اس کی وضاحت

مُفسّرِ شہیرحکیم الاُمَّت حضرت مُفْتِی احمد یار خان نعیمی(عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَوِی) اس حدیثِ پاک کے تَحت ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’اس سے معلوم ہوا کہ اَذان کے بعد دُرُود شریف پڑھنا سُنَّت ہے ۔ بعض مؤذِّن اَذان سے پہلے ہی دُرُود شریف پڑھ لیتے ہیں اس میں بھی حرج نہیں ، ان کا ماخَذْ یہ ہی حدیث ہے ۔  شامی نے فرمایا کہ اِقامت کے وَقت  دُرُود شریف پڑھنا سُنَّت ہے ، خیال رہے کہ اَذان سے پہلے یا بعدبُلَنْد آواز سے دُرُود پڑھنا بھی جائز بلکہ ثواب ہے بِلاوجہ اسے مَنْع نہیں کہہ سکتے ۔ خیال رہے کہ وَسیلہ سبب اور توَسُّل کو کہتے ہیں ، چونکہ اس جگہ پہنچنا رَبّ سے قُربِ خُصُوصی کا سبب ہے اس لیے وَسیلہ فرمایا گیا ۔ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرماناکہ’’میں اُمید کرتا ہوں ‘‘ تَواضُع اور اِنْکساری کیلئے ہے ورنہ وہ جگہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیلئے نامزَدْہو چکی ہے ۔ ہماراحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیلئے وَسیلہ کی دُعا کرنا ایسا ہی ہے جیسے فقیر اَمیر کے دَروازے پرصَدا لگاتے وَقت اس کی جان و مال کی دُعائیں دیتاہے تاکہ بھیک ملے  ۔ ہم بھکاری ہیں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم داتا، انہیں دُعائیں دینا مانگنے کھانے کا ڈَھنگ ہے ۔ ‘‘(مراٰۃ ، ۱ / ۴۱۱)

ہم بھکاری وہ کریم ان کا خُدا ان سے فَزُوں

اور ’’نا‘‘کہنا نہیں عادت رسُول اللّٰہ کی    (حدائقِ بخشش، ص۱۵۳)

حدیث پاک کے اس حصّے ’’جو میرے لیے وَسیلہ مانگے اس کیلئے میری شَفاعَت لازِم ہے ‘‘کے تَحت مُفْتِی صاحب فرماتے ہیں  :  ’’یعنی میں وَعدہ کرتا ہوں کہ اس کی شَفاعَت ضَرور کروں گا ۔  یہاں  شَفاعَت سے خاص  شَفاعَت مُراد ہے  ورنہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہرمُومن کے شفیع ہیں  ۔ ‘‘ (مراٰۃ، ۱ / ۴۱۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَذان واِقامت کے جواب کا مُفَصَّل طریقہ اور دُعائے وَسیلہ سیکھنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے ’’مکتبۃ المدینہ ‘‘کا مَطْبُوعہ 32صفحات پرمُشْتمِل رِسالہ ’’فَیْضانِ اَذان‘‘مُلاحَظہ فرمائیے بلکہ 499 صفحات پر مُشْتمِل کتاب ’’نَماز کے اَحکام‘‘حاصل فرمالیجئے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اَذان کے ساتھ ساتھ وضو ، غُسل اورنَماز وغیرہ سے مُتعلِّق اِنتہائی اَہم اَحکام سیکھنے کا موقع ملے گا ۔

(8) وضو کرتے وَقت ۔ (9) کسی چیز کو بھول جائے تو دُرُود وسَلام پڑھے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ وہ چیز یاد آجائے گی ۔ (10) حَج میں لَبَّیْک پڑھنے کے بعد ۔ (11) صَفا ومَروہ کی سَعْی کے دوران ۔ (12) سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قَبرِ اَنور کی زِیارت کے وَقت، بلکہ جب مَدینہ مُنوَّرہ کا سَفر کرے تو پُورے راستے میں بکثرت دُرُود شریف پڑھے  ۔

(درمختار وردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب نص العلماء علی استحباب الصلاۃالخ، ۲ /  ۲۸۱)

حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی نے ترجمۂ مِشکوۃ میں ذِکر کیا ہے کہ جب میں قَبرِ اَنور کی زِیارت کے قَصْد سے سَفرِ مَدینہ مُنوَّرہ کیلئے روانہ ہوا تو حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عَبدُ الوہَّاب مُتَّقیعَلَیہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقَوی نے  بوقتِ رُخصت اِرشاد فرمایا : ’’ تُم یقین رکھو کہ اس راہ میں فَرائض کے بعد کوئی بھی عِبادت دُرُود شریف کی مِثل نہیں ہے  ۔ ‘‘میں نے عرض کی کہ کتنی مِقْدار میں دُرُود شریف پڑھتا رہوں  ۔ ارشاد فرمایا : ’’کوئی عددمُعیَّن نہیں ہے  ۔ اس قَدَر زِیادہ پڑھو کہ اسی میں مُستغرق ہوجاؤ اور دُرُود شریف کے رنگ میں رنگے ہوئے بن جاؤ ۔ ‘‘ (سرور القلوب، ص۳۴۱)

جب کان بَجْنے لگیں تو دُرُود پڑھو

(13) جب کان بجے یعنی کان میں سَنْسَناہَٹ یا بِھنبِْھناہَٹ پیدا ہو تو   دُرُود شریف پڑھے ۔ سرکار ِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’جب تُمہارے کان بجنے لگیں تو مجھ پر دُرُود شریفپڑھو، اللّٰہتعالیٰ تُم پر اپنی رَحمت نازِل فرمائے گا ۔  ‘‘ (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۲۲)

(14)جُمُعہ کے دن بکثرت دُرُود شریفپڑھے  ۔ حُضُورِاکرم، نُورِمُجسَّم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَعَہُ نُوْرٌ لَوْ قُسِّمَ ذٰلِکَ النُّوْرُ بَیْنَ الْخَلْقِ کُلِّہِمْ لَوَسِعَہُمْ‘‘ جو شخص جُمُعہ کے دن سو بار دُرُود شریف پڑھے گا وہ قیامت کے دن ایسا نُور لے کر آئے گا جو اگر ساری مَخْلوقات میں تقسیم کیا جائے تو سب کوکِفایت کرے ۔

(جمع الجوامع ، حرف المیم ، ۷ /  ۱۹۹، حدیث :  ۲۲۳۴۹)

 

جوگدا دیکھو لئے جاتا ہے تَوڑا نُور کا

نُور کی سَرکار ہے کیا اس میں توڑا نُور کا (حدائقِ بخشش ، ص۲۵۴)

(15) شبِ جُمُعہ(یعنی جُمعرات اور جُمُعہ کی دَرمیانی رات)دُرُود شریف پڑھنا بھی بہت اَفْضَل ہے ۔  (القول البدیع ، الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۳۷۷)

(16) کِتابوں اور رِسالوں کی اِبتدا میں بِسْمِ اللّٰہ شریف اور حمد کے بعد دُرُود شریف لکھنا مُسْتحب ہے اور کُتُب و رَسائل کے آخر میں دُرُود شریف  لکھنا سَلَف صالحین کا طریقہ ہے  ۔

(القول البدیع ، الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص ۴۱۳)

(