Book Name:Guldasta e Durood o Salam

خوفناک کالا سانپ

ایک شخص کا اِنتقال ہوگیا ۔  اُس کے لیے قَبر کھو دی گئی تو قَبر میں ایک خوفناک کالا سانپ نظر آیا ۔  لوگوں نے گھبرا کر وہ قَبر بند کردی اور دوسری جگہ قَبر کھودی ۔  وہاں بھی وہی سانپ موجودتھا ۔  تیسری جگہ قَبر کھودی وہی خوفناک کالا سانپ وہاں بھی مَوجُود تھا ۔  آخر کار سانپ نے زبان سے پُکار کر کہا کہ تم جہاں بھی قَبر کھودو گے میں وہاں پہنچوں گا ۔  لوگوں نے اُس سے پوچھا کہ یہ قَہر وغَضَب کیوں ہے ؟ سانپ بولا :  ’’یہ شخص جب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کانامِ نامی سُنتا تھا تو دُرُود پڑھنے میں بُخل کرتا تھا، اب میں اِس بخیل کوسزا دیتا رہوں گا ۔ ‘‘    ( شفاء القلوب، ص۳۰۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرتِ سَیِّدُنا امام حُسین بن علی رَضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُماسے مَروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزَّت، مُحسنِ انسانیتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے  :  ’’مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَخَطِیئَ الصَّلَاۃَ عَلَیَّ خَطِیئَ طَرِیْقَ الْجَنَّۃِ جس کے سامنے میرا ذِکرہوا اور اس نے مجھ پر دُرُود پڑھنے میں کوتاہی کی تو وہ جَنَّت کا راستہ بھول گیا ۔ ‘‘ (معجم کبیر، مااسند الحسین بن علی الخ، ۳ / ۱۲۸، حدیث :  ۲۸۸۷)

حضرتِ  سَیِّدُنا امام حُسین رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہسے مَروی ہے کہ نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  :  ’’اَلْبَخِیْلُ الَّذِیْ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ ، یعنی بَخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذِکر ہوا پھر اس نے مجھ پر دُرُودِ پاک نہ پڑھا ۔ ‘‘(ترمذی، کتاب الدعوات، باب رغم انف رجلالخ، ۵ / ۳۲۰ ،  حدیث : ۳۵۵۴)

مُفسّرِ شہیرحکیم الاُمَّت حضرت مُفْتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہ رَحْمۃ اللّٰہ الْقَوِی اس حدیثِ پاک کے تَحت ارشاد فرماتے ہیں  : ’’کیونکہ دُرُود میں کچھ خرچ تو ہوتا نہیں اور ثواب بہت مل جاتا ہے ، اس ثواب سے مَحرومی بڑی ہی بَدْنصیبی ہے ۔ اس حَدِیث سے معلوم ہوا کہ جب بھی حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نام سُنے یا پڑھے تو دُرُود شریف ضَرور پڑھے کہ یہ مُسْتحَب ہے  ۔ ‘‘    (مراٰۃ،  ۲ / ۱۰۶)

دو جہاں کے تاجْوَر، سُلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  :  ’’اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِاَبْخَلِ النَّاس، یعنی کیا میں تمہیں لوگوں میں سب سے بڑے بَخیل کے بارے میں نہ بتاؤں ؟‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْواننے عرض کی  :  ’’یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ضرور بتائیے ۔ ‘‘ارشاد فرمایا  :  ’’مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فَذٰلِکَ اَبْخَلُ النَّاس، جس کے سامنے میرا ذِکر ہو پھربھی وہ مجھ پر دُرُودِپاک نہ پڑھے تو وہ سب سے بڑا بَخیل ہے  ۔ ‘‘ (الترغیب والترہیب، کتاب الذکروالدعا، باب الترغیب فی اکثارالصلاۃ علی النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ۲ / ۳۳۲ ،  حدیث :  ۲۶۱۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اللّٰہ کی لَعْنَت

حُضُورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلامکے پاس سے ایک آدَمی گزرا جس کے پاس ایک ہَرْنی تھی جسے اِس نے شِکار کیا تھا ۔  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے اس ہَرْنی کو قُوَّتِ گویائی عطا فرمائی، ہَرْنی نے عرض کی :  ’’یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جنہیں میں دُودھ پلاتی ہوں ۔ اب و ہ بھوکے ہوں گے ۔ اس شِکاری کو حکم فرمائیے کہ یہ مجھے چھوڑ دے تاکہ میں اپنے بچوں کو جا کر دُودھ پلاؤں ، پھر میں واپَس آجاؤں گی ۔ ‘‘حُضُور عَلَیْہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام نے ارشاد فرمایا  : ’’ اگر تو واپَس نہ آئی تو پھر ؟ ‘‘ہَرْنی نے عرض کی :  ’’یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر میں واپَس نہ آؤں تو مجھ پر اس شخص کی طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی لعنت ہوجو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکر سُنے اور آپ  پر دُرُودنہ پڑھے یا اس آدمی کی طرح مجھ پر لعنت ہو جو نماز پڑھے اور دُعا نہ مانگے  ۔ ‘‘حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے شِکاری کواسے آزاد کرنے کا حکم دیا اور فرمایا :  ’’میں اس کا ضامن ہوں  ۔ ‘‘ چنانچہ ہَرْنی دُودھ پلا کر واپَس آگئی، پھر حضرتِ جبریل علیہ السلام بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے اور عرض کی :  ’’یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسلام ارشاد فرماتا ہے اور فرماتا ہے مجھے اپنی عِزَّت و جلال کی قسم! میں آپ کی اُمَّت پر اس سے بھی زِیادہ مہربان ہوں جیسے اس ہَرْنی کو اپنی اولاد پر شفقت ہے اور میں آپ کی اُمت کو آپ کی طرف لوٹاؤں گا جیسے کہ یہ ہَرْنی آپ کی طرف لوٹ کرآئی ۔ ‘‘  (القول البدیع، الباب الثالث فی التحذیرمن ترک الصلاۃ علیہ عندمایذکر، ص۳۰۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے جو شخص نام پاک سن کر دُرُودِ پاک نہ پڑھے وہ بَخیل ہے اوراللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی لعنت کا مُستحق ہے ہمیں بھی چاہئے کہ جب بھی موقع ملے اپنے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِ پاک پڑھ لیاکریں اور بالخُصوص اگر کسی مجلسِ ذِکر میں شِرکت کی سَعادت نصیب ہو توکچھ نہ کچھ دُرُود کا اِہتمام ضَرور فرمائیے ورنہ روزِ قیامت حسرت ہمارا مُقَدَّر ہوگی ۔ جیسا کہ

باعثِ حسرت مَجْلِس

حضرت سَیِّدُنا ابُوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ نبیِّ رَحمت صلَّی اللّٰہ  تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا  : ’’ جب لوگ کسی مَجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں نہ اپنے اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا ذِکر کرتے ہیں اور نہ اپنے نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودپڑھتے ہیں ۔ قیامت کے دن وہ مَجلس ان کے لیے باعثِ حَسرت ہوگی اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّچاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو بَخش دے  ۔ ‘‘  (مسند ا حمد، مسندابی ہریرۃ، ۳ / ۵۳۳، حدیث :  ۱۰۲۸۱ )

جَنَّت میں داخلے کے باوجود حسرت

حضرت ِ سَیِّدُناابُوسعید خُدری  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبیِّکریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عِبرت نِشان ہے ۔ ’’کسی قوم نے کوئی مَجلس قائم کی اور اس میں مجھ پر دُرُود نہ پڑھا تو وہ ان کے  لیے حسرت کا باعث ہوگی اگرچہ دوسری نیکیوں کے ثواب کی وجہ سے وہ لوگ  جَنَّت میں داخل بھی ہوجائیں  ۔ (شعب الایمان ، فی تعظیم النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا واجلالہالخ، ۲ / ۲۱۵، حدیث :  ۱۵۷۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان رِوایات پرغور فرمائیے کہ دُرُودِپاک کے مُعامَلہ میں بُخل کرنے والوں کیلئے کیسی کیسی وعیدیں بیان کی گئی ہیں  ۔ خُوب غور کریں ، سوچیں اور اِس عادَت سے توبہ کریں ۔

میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلسُنَّت، مُجدِّدِدین ومِلَّت، پروانۂ شمع رسالت الحاج الحافظ القاری شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نامِ اَقدَس سُن کر دُرُود شریف پڑھنے کے بارے میں حکمِ شریعت



Total Pages: 141

Go To