Book Name:Guldasta e Durood o Salam

حیرت اَنگیز طور پر شفا نصیب ہوگئی اور موتیا کا مَرَض خَتْم ہوگیا ۔  بیشک یہ دعوتِ اسلامی کے سُنَّتوں بھرے اِجتما ع کی بَرَکت تھی کہ والدِ مُحترم کی بینائی بَحال ہوگئی ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہمیں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ رہتے ہوئے دِین اسلام کی خُوب خُوب خِدْمَت کرنے اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی  سُنَّتوں کے مُطابق زِندگی بَسر کرنے کی توفیق عطافرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر  : 5

دُرُودِ پاک نہ پڑھنے کا وبال

دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مَطْبُوعہ39 صفحات پر مشتمل رسالے ’’بُرے خاتمے کے اَسْباب‘‘ کے صفحہ 1پرمنقول ہے ، ایک شخص کو انتِقال کے بعد کسی نے خَواب میں سر پر مجوسیوں (یعنی آتَش پرستوں )  کی ٹوپی پہنے ہوئے دیکھا تو اِس کا سبب پوچھا، اُس نے جواب دیا :  جب کبھی محمدِمصطَفٰیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ و سلَّمْ کانامِ مبارَک آتا میں دُرُود شریف نہ پڑھتا تھا اِس گُناہ کی نُحُوست سے مجھ سے مَعْرِفت اور اِیمان سَلب کرلئے گئے  ۔ (سبع سنابل، ص۳۵ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟گناہوں کی نُحُوست کس قَدَر بَھیانک ہے کہ اس کے سبب موت کے وَقت ایمان برباد ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے ۔ یہاں یہ ضَروری مَسئَلہ ذِہن نشین فرما لیجئے کہ کسی کے بارے میں بُرا خَواب دیکھنا بے شک باعِثِ تَشْوِیش ہے تاہم غیرِ نبی کا خَواب شَرِیعت میں حُجَّت یعنی دلیل نہیں اورفَقَط خَواب کی بُنیاد پر کسی مسلمان کو کافِر نہیں کہا جا سکتا نیز مسلمان میِّت پر خَواب میں کوئی علامتِ کُفر دیکھنے یا خُود مرنے والے مسلمان کا خَواب میں اپنے ایمان کے برباد  ہونے کی خَبر دینے سے بھی اُس کو کافِر نہیں کہہ سکتے ۔

ہمیں بھی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بے نِیازی اور اس کی خُفْیہ تَدْبیر سے ڈرتے رہنا چاہیے اورنبیِّ پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھنے میں غَفْلَت نہیں کرنی چاہیے  ۔ آج سے پہلے ہوسکتا ہے بارہا ایسا ہوا ہو کہ ہم نے نامِ اقدس سن کر یا بول کر دُرُود شریف نہ پڑھا ہو ۔ چونکہ یہ رِعایت مَوجُود ہے کہ اگر اس وَقت نہ پڑھے تو بعد میں بھی پڑھ سکتا ہے لہٰذا اب پڑھ لے اور آئندہ کوشش کرکے اُسی وَقت پڑھ لیا کرے ورنہ بعد میں پڑھ لے  ۔

دُرودِ پاک پڑھنے کا شَرْعی حُکْم

صَدْرُالشَّریعہ، بَدْرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامُفْتی محمد اَمجد علی اَعْظمِی   عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقوِیفرماتے ہیں  : ’’عُمر میں ایک مرتبہ دُرُودشریف پڑھنا فرض ہے اورہر جلسۂ ذِکر میں  دُرُودشریف پڑھنا واجِب خواہ خُود نامِ اَقدس لے یادوسرے سے سُنے ۔ اگر ایک مَجلس میں سو بار ذِکر آئے تو ہر بار   دُرُودشریف  پڑھنا چاہئے ۔ اگرنامِ اقدس لیا یا سُنا اور دُرُودشریف اُس وَقت نہ پڑھا تو کسی دوسرے وَقت میں اس کے بدلے کا پڑھ لے ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ، ۱ / ۵۳۳)

ہر دَم مِری زباں پہ دُرُود و سلام ہو                                  میری فُضُول گوئی کی عادَت نِکال دو

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود و سلام پڑھنے کے جہاں بے شُمارفَضائِل وبَرَکات ہیں ، وہیں نامِ اَقدس سُن کرسُسْتی و غَفْلَت کے باعث دُرُود شریف نہ پڑھنانہ صِرف عظیم سَعادَت سے مَحرومی کا باعث ہے بلکہ ہَلاکت وبربادی اور اللّٰہ  تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بھی بن سکتا ہے  ۔ چُنانچہ

رَحْمتِ الٰہی سے دُ ور

حضرتِ سَیِّدُنا کَعب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ ایک مرتبہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا  :  ’’مِنْبر کے قریب آجاؤ ۔ ‘‘ ہم مِنْبر شریف کے قریب حاضِر ہو گئے ، جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے زِینے پر قَدمِ مُبارک رکھا تو اِرشاد فرمایا :  ’’آمین ۔ ‘‘جب دوسرے زِینے پرقَدمِ مُبارک رکھا تو ارشاد فرمایا :  ’’آمین ۔ ‘‘اور جب تیسرے زِینے پر قَدمِ مُبارک رکھا تو بھی ارشاد فرمایا :  ’’آمین ۔ ‘‘ پھر جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مِنْبر شریف سے نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کی :  ’’یا رسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آج ہم نے آپ سے ایسی بات سُنی ہے جو پہلے کبھی نہ سُنی تھی ۔ ‘‘آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا  : ’’ جبریلِ امین عَلَیْٓہِ السَّلام میرے پاس حاضِر ہوئے اور عرض کی  :  ’’جس نے رَمَضان کا مہینہ پایا اور اس کی مَغْفِرت نہ ہوئی وہ (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رَحمت سے )  دُور ہو ۔ ‘‘ تو میں نے کہا : ’’آمین ۔ ‘‘ فَلَمَّا رَقَّیْتُ الثَّانِیَۃَ قَالَ بُعْداً لِّمَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ، قُلْتُ آمِیْن، جب میں نے دوسرے  زِینے پر قَدم رکھا تو جبریلِ امینعلیہ السَّلام نے عرض کی :  ’’جس کے سامنے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکر ہوا اور اس نے آپ پر دُرُود نہ پڑھا وہ بھی (اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی رَحمت سے ) دُور ہو ۔ ‘‘تو میں نے کہا :  ’’آمین ۔ ‘‘ پھر جب میں نے تیسرے زِینے پر قَدم رکھا تو جبریلِ امین علیہ السلام نے عرض کی  :  ’’جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھا پے میں پایا پھر اُنہوں نے اسے جَنَّت میں داخل نہ کیا تو وہ بھی (اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی رَحمت سے ) دُور ہو ۔ ‘‘ تو میں نے کہا  : ’’ آمین ۔ ‘‘(مستدرک، کتاب البروالصلۃ ، باب لعن اللّٰہ العاق لوالدیہ الخ، ۵ / ۲۱۲، حدیث :  ۷۳۳۸)

مُفسّرِ شہیرحکیم الاُمَّت حضرت مُفْتی احمد یار خان نعیمی (عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہ القوی)اس حدیثِ پاک کے تحت ارشاد فرماتے ہیں  : ’’یعنی ایسا مُسلمان ذَلیل وخوار ہوجائے جو میرا نام سُن کردُرُود نہ پڑھے  ۔ عربی میں اس بَددُعا سے مُراد اِظہارِ ناراضی ہوتا ہے حقیقتاً بَددُعا مراد نہیں ہوتی ، مطلب یہ ہے کہ جو بِلا محنت دس رَحمتیں دس دَرَجے دس مُعافیاں حاصل نہ کرے بڑا بے وقُوف ہے  ۔ ‘‘ (مراٰۃ، ۲ / ۱۰۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To