Book Name:Guldasta e Durood o Salam

دُعائیہ کلمات کہنا ناصرف جائز بلکہ سُنَّتِ بلالی ہے تو پھراَذان سے پہلے سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیلئے دُعا کرنا یعنی دُرُودوسلام پڑھنا بھی یقیناً جائز بلکہ کثیر اَجر وثواب کا باعث ہے ۔

قسمت مجھے مل جائے بلالِ حبشی کی

دم عشقِ محمد میں نکل جائے تو اچھا ہے

بعدِ اذان دُرُود کا ثبوت 

            یادرہے اَذان سے پہلے دُرُودِپاک پڑھنا اگرچہ اَحادیث سے ثابت نہیں لیکن اَذان کے بعد دُرُودشریف پڑھنے کا حکم تو خُود حُضُور عَلَیْہ السَّلام نے ارشاد فرمایا ہے جیسا کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے  :  ’’اِذَاسَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَیَّ فَاِنَّہُ مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا ، یعنی جب تم مؤذن کو سنو تو تم بھی اسی طرح کہو جس طرح وہ کہہ رہا ہے پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک درود بھیجتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔ (ترمذی، کتاب المناقب عن رسول اللّٰہ، باب ماجاء فی فضل النبی ۵ / ۳۵۳، حدیث : ۳۶۳۴)

            مُفسّرِ شہیرحکیم الاُمَّت حضرت مُفْتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی  اس حدیثِ پاک کے تَحت ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’اس سے معلوم ہوا کہ اَذان کے بعد دُرُود شریف پڑھنا سُنَّت ہے بعض مُؤذِّن اَذان سے پہلے ہی دُرُود شریف پڑھ لیتے ہیں اس میں بھی حرج نہیں ، ان کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے ۔ (حضرتِ علامہ ابنِ عابدین )شامی قُدِّسَ سرُّہُ السَّامِیْنے فرمایا کہ اِقامت کے وَقت دُرُود شریف پڑھناسُنَّت ہے ، خیال رہے کہ اَذان سے پہلے یا بعد بُلَنْد آواز سے دُرُود پڑھنا بھی جائز بلکہ ثواب ہے بلاوَجہ اسے مَنْع نہیں کہہ سکتے  ۔ ‘‘  (مراٰۃ، ۱ / ۴۱۱)

اَذان اور صلٰوۃ وسلام میں فَصْل کیجئے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَت بَرکاتہُم العالیہ فرماتے ہیں  : ’’اَذان واِقامت سے قبلبِسْمِ اﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِپڑھ کر دُرُود وسلام کے یہ چار صِیغے پڑھ لیجئے ۔

اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ

وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحابِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہ

اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبیَّ اللّٰہ

وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحابِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ

          پھر دُرُود و سلام اوراذان میں فَصْل (یعنی وَقفہ)کرنے کے لیے یہ اِعلان کیجئے ، ’’اَذان کا اِحتِرام کرتے ہوئے گُفْتُگو اورکام کاج روک کر اَذان کا جواب دیجئے اور ڈھیروں نیکیاں کمائیے ‘‘ ۔ اس کے بعد اَذان دیجئے ۔ دُرُود و سلام اور اِقامت کے درمیان یہ اعلان کیجئے ’’اِعتِکاف کی نیَّت کرلیجئے ، مَوبائل فون ہوتو بند کردیجئے  ۔ ‘‘

          علاَّمہ نَبْہانی  قُدِّ سَ سرُّہُ النُّوْرَانیاَذان سے پہلے دُرُود شریف پڑھنے کی حکمت اور اس کا زمانہ بیان فرماتے ہیں کہ اَذان کے وَقت دُرُود و سلام کی اِبتدا کس نیک ہَسْتی نے کی اور کیوں کی اور یہ کب سے تمام دُنیا کے مسلمانوں میں رائج چلتی آرہی ہے چنانچہ فرماتے ہیں  : ’’اَلْقَوْلُ الْبَدِیْع میں ہے کہ اَذان کے  بعد مُؤذِّنوں نے رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود و سلام پڑھنا شُروع کیا اور مُؤذِّن صُبح اور جُمُعہ کی اَذان سے پہلے پڑھتے ہیں اور مغرب کی اذان میں وقت کی تنگی کی بناء پر عام طور پر نہیں پڑھتے اور اس کی اِبتدا مسلمانوں کے مشہور اور محبوب حکمران ، سپہ سالار سُلْطان صلاح ُالدِّین ایُّوبی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکے دورِ حکومت میں اس کے حکم پر ہوئی تھی ، رہی اس سے پہلے کی بات تو وہ یہ ہے کہ جب حاکم بن عبد العزیز کو قتل کیا گیا تو اس کی بہن نے حکم دیا کہ اس (حاکم بن عبد العزیز)کے بیٹے ظاہرپر سلام بھیجا جائے تو اس پر ان اَلفاظ کے ساتھ سلام کہا جانے لگا ’’اَلسَّلامُ عَلَی الِامَامِ الظَّاہِر‘‘پھراس کے بعد آنے والے خُلفاء میں سلام کی رسم چل نکلی، یہاں تک کہ سُلْطان صلاح ُالدِّین رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس رَسم کوخَتْم کیا اور اس کی جگہ رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودوسلام کا طریقہ جاری کیا ۔ ‘‘

( سعادۃ الدارین ، الباب الخامس فی المواطن التی تشرع فیہا الصلاۃ علی النبی، ص۱۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

وسوسہ اور اس کا جواب

وسوسہ : ’’اَذان سے قبل دُرُود وسلام پڑھنا چُونکہ دورِ رسالت میں مُرَوَّج نہ تھا اسلئے بِدعت اور ناجائز ہے  ۔ ‘‘

جواب :  اس وَسْوَسے کا جواب دیتے ہوئے امیرِ اَہلسنَّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’اگریہ قاعِدہ تسلیم کرلیاجائے کہ جوکام اُس دور میں نہیں ہوتا تھا وہ اب کرنا بُری بِدعت اورگُناہ ہے توپھر فی زَمانہ نظام درہم برہم ہوجائیگا ۔ بیشُمار مثالوں میں سے فقط12مثالیں پیشِ خدمت ہیں کہ جو کام اُس مُبارَک دور میں نہیں تھے اوراب ان کوسب نے اپنایا ہوا ہے  ۔ ‘‘

(۱)قرآنِ پاک پرنُقطے اور اِعراب حَجّاج بن یوسُف نے   ۵ ۹  ؁ھ میں لگوائے ۔ (۲) اُسی نے ختمِ آیات پرعَلامات کے طورپرنُقطے لگوائے (۳) قراٰنِ پاک کی چَھپائی (۴) مسجِدکے وَسط میں اِمام کے کھڑے رہنے کیلئے طاق نُمامحراب پہلے نہ تھی ، وَلید مَروانی کے دَورمیں سیِّدُنا عُمربن عبدالعزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہنے اِیجاد کی ۔ آج کوئی مسجِداس سے خالی نہیں ۔ (۵)چھ کلمے (۶)علمِ صَرف ونَحو (۷) علمِ حدیث اور احادیث کی اَقسام(۸)دَرسِ نظامی(۹)شریعت وطریقت کے چار سلسلے (۱۰)زَبان سے نَمازکی نیَّت (۱۱)ہوائی جہاز کے ذَرِیعہ سفرِ حج (۱۲) جَدید سائنسی ہتھیاروں کے ذَرِیعے جہاد ۔ یہ سارے کام اُس مُبارَک دَور میں نہیں تھے لیکن اب انہیں کوئی گُناہ نہیں کہتاتوآخِراَذان واِقامت سے پہلے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپردُرُود و سلام پڑھناہی کیوں بُری بدعت اورگُناہ ہوگیا ! یاد رکھئے ! کسی معاملے میں عدمِ جوازکی دلیل نہ ہونا خوددلیلِ جواز ہے ۔ یقینا، یقینا، یقینا ہر وہ نئی چیزجس کوشَریعت نے مَنع نہیں کیا وہ بدعتِ حَسَنہ اور مُباح یعنی اچھّی بدعت اور جائزہے اوریہ امر مُسَلَّم ہے کہ اَذان سے پہلے دُرُود شریف پڑھنے کو کسی بھی حدیث میں مَنع نہیں کیا گیا لہٰذا مَنْع نہ ہونا خود بخود ’’اِجازت‘‘ بن گیا اور اچھّی اچھّی باتیں اسلام میں اِیجاد کرنے کی تو خود مدینے کے تاجوَر، نبیوں کے سرور، حُضُورِانور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تر غیب ارشادفرمائی ہے ۔ چُنانچہ

 



Total Pages: 141

Go To