Book Name:Guldasta e Durood o Salam

شہیدِ فِقْہی اور شہید حُکْمی  میں فرق

صَدرُالشریعہ فرماتے ہیں  : ’’ اِصطلاحِ فقہ میں شہید اس مُسلمان عاقل بالغ طاہر کو کہتے ہیں جو بطورِ ظلم کسی آلہ جارِحہ سے قتل کیا گیا اور نفسِ قتل سے مال نہ واجب ہوا ہو اوردُنیا سے نَفْع نہ اُٹھایا ہو ۔ شہید کا حکم یہ ہے کہ غسل نہ دیا جائے ،  ویسے ہی خُون سمیت دفن کر دیا جائے ۔ تو جہاں یہ حکم پایا جائے گا فُقہا اسے شہید کہیں گے ورنہ نہیں ، مگر شہید ِفقہی نہ ہونے سے یہ لازم نہیں کہ شہید کا ثواب بھی نہ پائے ، صرف اس کا مطلب اتنا ہو گا کہ غسل دیا جائے و بس  ۔ ‘‘ (بہارِ شریعت ، ۱ / ۸۶۰)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ حدیث مبارک اورصَدرُ الشریعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکی گُفْتگُوسے ہمیں یہ بات تو معلوم ہوہی چکی کہ شہیدِ حُکمی کو  شہیدِ فقہی کا ثواب حاصل ہوگا اب ذرا حدیثِ پاک کی روشنی میں شہید کا ثواب بھی سماعت فرمالیجئے ۔ چنانچہ

شہیدکا ثواب

حضرتِ سیِّدُنا مِقْدام بن مَعدِی کَرِب رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باکمال ہے  :  ’’ بیشک اللّٰہعَزَّوَجَلَّ شہیدکو چھ انعام عطا فرماتاہے  :   (۱) اس کے خُون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مَغْفِرت فرمادیتا ہے اور  جَنَّت میں اسے اس کا ٹھکانا دکھا دیتا ہے (۲) اسے عذابِ قبرسے محفوظ فرماتا ہے (۳) قیامت کے دن اسے بڑی گھبراہٹ سے اَمن عطا فرمائے گا (۴) اس کے سرپر وقار کا تاج رکھے گا جس کا یاقُوت دُنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا (۵) 72 حُوروں کے ساتھ اس کا نکاح کرائے گا اور(۶) اس کے 70رِشتہ داروں کے حق میں اس کی شَفاعت قَبول فرمائے گا ۔ ‘‘(ابن ماجہ، کتاب الجہاد، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللّٰہ، ۳  /  ۳۶۰ ، حدیث :  ۲۷۹۹)

یاد رہے کہ شہیدِحُکمی کو گرچہ شہادت کا ثواب مل جاتا ہے مگر کوئی اسلامی بھائی ہر گز ہرگز یہ نہ سمجھے کہ یہ دونوں قسم کے شہید مرتبے میں بھی یکساں ہیں ، حق تو یہ ہے کہ راہِ خدا میں اپنی جان قربان کرنے والے کا مرتبہ ہی کچھ اور ہے ۔ چنانچہ

مراتب میں فرق ہے

حضرت الحاج مولانا عبدُالمصطفیٰ اَعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی ایک حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں  :  ’’حدیث کاحاصل یہ ہے کہ ان ساتوں کو شہید  فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ کاثواب ملے گا اگرچہ خداعَزَّوَجَلَّ کی راہ میں سرکٹا کر شہید ہونے والے اور ان لوگوں کے دَرَجات ومَراتب میں بڑا فرق ہوگا یہ اللّٰہ تعالیٰ کافضل وکرم ہے کہ ان اَمراض وعَوارض میں مرنے والوں کو بھی شہید کاثواب ملے گا  ۔ ‘‘ (بہشت کی کنجیاں ، ص۱۳۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کس قَدر خُوش نصیب ہے وہ مسلمان جو اسلام کی سربُلندی کے لئے راہ خدا میں شہیدہوتا ہے اور حیاتِ جاوِدانی پاکر  جَنَّتُ الْفِرْدَوس کی اَعلیٰ نعمتوں سے لُطف اندوز ہوتا ہے ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّہماری زِندگیوں میں بھی وہ مُبارک لمحات لائے کہ ہم بھی اپنا تَن مَن دَھن اس کی راہ میں لٹادیں ۔ یہ زِندگی اس کی دی ہوئی امانت ہے تو خوش قسمت ہے وہ جو یہ جان اس کی راہ میں قربان کردے ۔

جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادانہ ہوا

نَفْس سے جِہاد ، جِہادِ اکبر ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! راہِ خدا میں سر کٹا دینے کی بات کرنا آسان ہے مگر جب میدانِ عمل سامنے آتا ہے تو اچھے اچھوں کے پِتّے پانی ہوجاتے ہیں ۔ ذرا سوچئے ! آج جو نفس ہمیں نمازِ فجر کے لئے اُٹھنے نہیں دیتا وہ رَزْمِ گاہِ حق وباطل میں سر کیا کٹانے دے گا ؟ آج جو نفس چند لُقْمے ایثار نہیں کرنے دیتا وہ اس جان کو حق پر نثار کرنے کے لئے کب تیار ہوگا؟چنانچہ فی الوقت ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم اپنے اس نفسِ اَمَّارہ کے خِلاف جہاد کرکے اسے اَحکامِ خُداوندی پر عمل کرنے والا بنادیں کہ حدیث پاک میں نفس کے خلاف جہاد کرنے کو جہادِ اکبر قراردیا گیا ہے ، جیساکہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک غزوہ سے واپسی پر فرمایا :  ’’رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِہَادِ الْاَکْبَرِ، یعنی ہم جہادِ اَصغر سے جہادِ اَکبر کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ عرض کی گئی  :   یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ’’اَیُّ جِہَادٍ اَکْبَرُ مِنْ ھٰذَا، یعنی اس سے بڑا کون سا جہاد ہے ؟ ‘‘ارشاد فرمایا :  ’’جِہَادُ النَّفْسِ وَالشَّیْطَانِ ، یعنی نفس وشیطان سے جہادکرنا ۔  ‘‘  (کشف الخفاء حرف الراء المھملہ ، ۱ /  ۳۷۵، حدیث : ۱۳۶۰)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک میں نَفْس و شیطان کے ساتھ جِہاد کرنے کو جِہادِ اکبر کہا گیا ہے ۔ یادرہے ! نَفْس وشیطان انسان کے پوشیدہ دُشمنوں میں سے ہیں اور جو دُشمن نِگاہوں سے اَوجھل ہوتا ہے وہ نظر آنے والے دُشمن سے کہیں زِیادہ مُوذِی و خطرناک ہوتا ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے نَفْس پر غلبہ پانے کے لئے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْنکے واقعات کا مُطالَعہ کرتے ہوئے اپنے نَفْس کا مُحاسَبہ بھی کرتے رہیں اور نَفْس پر قابو پانے کے لئے وَقْتاً فَوقتاً خَواہشاتِ نَفْسانیہ کو ترک کرتے ہوئے اسے سزا بھی دیتے رہیں جیسا کہ ہمارے بُزُرگانِ دین کا طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنی نَفْسانی خَواہشات پر پوری طرح قابو رکھتے اور اپنے نَفْس کو سزا بھی دیتے ۔ چُنانچہ

            حضرت سَیِّدُنا داؤد طائی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے بارے میں آتاہے کہ آپ ایک بار گرمی کے موسِم میں دھوپ میں بیٹھے ہوئے مشغولِ عبادت تھے  ۔ کہ آپ کی والِدہ مُحترمہ نے فرمایا :  ’’بیٹا سائے میں آجاتے تو بہتر تھا  ۔ ‘‘ آپ نے جواب دیا : ’’ امّی جان مجھے شَرم آتی ہے کہ اپنے نَفْس کی خَواہش کے لئے کوئی اِقدام کروں  ۔ ‘‘ ایک بار آپ کا پانی کا گھڑا دھوپ میں دیکھ کر کسی نے عرض کی :  یاسَیِّدی ! اِس کو چھاؤں میں رکھا ہوتا تو اچّھا تھا ۔ فرمایا :  ’’جب میں نے رکھا تھا اُس وَقت یہاں چھاؤں تھی لیکن اب دھوپ میں سے اُٹھاتے ہوئے نَدامت مَحسوس ہو رہی ہے کہ میں صِرف



Total Pages: 141

Go To