Book Name:Guldasta e Durood o Salam

خیال رہے کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک آن میں بے شُمار دُرُود خوانوں کی طرف یَکساں توَجُّہ رکھتے ہیں ، سب کے سَلام کا جواب دیتے ہیں ۔ جیسے سُورج بیک وَقت سارے عالَم پر توَجُّہ کرلیتا ہے ایسے ہی آسمانِ نَبُوَّت کے سُورج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک وَقت میں سب کا دُرُود وسَلام  سُن بھی لیتے ہیں اور اس کا جَواب بھی دیتے ہیں لیکن اس میں آپ کو کوئی تکلیف بھی مَحسوس نہیں ہوتی ۔ کیوں نہ ہو کہ مَظْہرِ ذاتِ کِبْریا ہیں ، رَبّ تعالیٰ بیک وَقت سب کی دُعائیں سُنتا ہے ۔          (مراٰۃ، ۲ / ۱۰۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

واعِظ پردُرُود وسَلام کے سبب کرم بالائے کرم

حضرتِسَیِّدُنا منصور بن عَمَّار (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغفَّار) کو اِنتقال کے بعد کسی نے خَواب میں دیکھا اور پوچھا :  ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ ‘‘جواب دیا کہ میرے پَرْوَرْدْگار عَزَّوَجَلَّنے مجھ سے سُوال کیا :  ’’تو منصور بن عَمّار ہے ؟‘‘میں نے عرض کی :  ہاں یارَبَّ العالمین(جَلَّ جلالُہ)، پھر فرمایا :  ’’تو ہی ہے جو لوگوں کو دُنیا سے نَفرت دِلاتا تھا اور خُود دُنیا کی طرف راغب تھا ۔  ‘‘ میں نے عرض کی : ’’ یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! واقعی بات تو یہی ہے ، لیکن جب بھی میں نے کسی اِجتماع میں بیان شُروع کیا تو پہلے تیری حَمدو ثنا کی، اِس کے بعد تیرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھا پھر اِس کے بعد لوگوں کو وَعْظ و نصیحت کی ۔  ‘‘میری اِس عرض کے بعد اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رَحمت جوش میں آئی اور اِرشاد ہوا  :  ’’ضَعُْوْا لَہُ کُرْسِیًّا فِیْ سَمٰوَاتِیْ یُمَجِّدُنِیْ بَیْنَ مَلَائِکَتِیْ کَمَا یُمَجِّدُنِیْ بَیْنَ عِبَادِی، یعنی اے فِرِشتو! اس کے لیے آسمانوں میں مِنْبَر رکھو تاکہ جیسے یہ دُنیا میں بندوں کے سامنے میری بُزُرگی بیان کرتا تھا آسمانوں میں یہ فِرِشتوں کے سامنے میری عَظْمَت بیان کرے  ۔ ‘‘(القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۵۶)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقینا وہ اِسلامی بھائی بہت خُوش نصیب ہیں جو دَرس وبیان کرنے میں مَصروف رہتے ہیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ! تبلیغِ قُرآن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوت ِاسلامی کے مُشکبار مَدَنی ماحول میں یہ معمول ہے کہ جب بھی کوئی مُبلِّغ سُنَّتوں بھرے دَرس یا بیان کا آغاز کرتا ہے تو اَوَّلاً ’’ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسََّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ پڑھتا ہے جس میں پہلے حمدِباری تعالیٰ اور پھر دُرُود وسلام ہے ، اسکے بعد حاضِرین کو دُرُود وسلام کے چارصیغے پڑھائے جاتے ہیں نیز دُرُود وسلام کی فَضِیلت بتا کر حاضِرین سے دُرُود پڑھوایا جاتا ہے بلکہ بیان کے دوران بھی وَقتاً فوقتاً ’’صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب‘‘کی صدائیں لگا کر دُرُودِ پاک پڑھنے کی ترغیب بھی دی جاتی اور پڑھوایا بھی جاتا ہے ۔

جو خوش نصیب اسلامی بھائی سُنَّتوں بھرا بیان کرنے یا دَرس دینے کی سَعادَت حاصل کرتے ہیں ان کی خِدْمَت میں عرض ہے کہ بعض اَوقات تیزی سے اَدائیگی کی بنا پر دُرُودِ پاک کے اَلفاظ چب کر ادا ہوتے ہیں ، اس طرح اَدائیگی سے دُرُودِ پاک کی بَرَکات سے مَحرومی تو ہوتی ہی ہے ، ساتھ ساتھ لوگوں کو شَدِید بَدظن ہوتے بھی دیکھا گیا ہے  ۔ لہٰذا سُنَّتوں بھرا بیان کرتے یا دَرس دیتے ہوئے جب بھی دُرُودِپاک پر پہنچنے لگیں تو فوراً ذِہن بنا لیں کہ اب رَفتار آہِستہ کرکے دُرُست طریقے سے دُرُودشریف ادا کرنا ہے  ۔ اس طرح پہلے ہی ذہنی طور پر تیار رہنے کی بَرَکت سے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ بہت جَلد صحیح اَدائیگی پر قُدْرَت حاصل ہوجائے گی ۔ اس مَقْصَد کیلئے کسی اِسلامی بھائی کو خُود پر مُحَاسِب مُقرَّر کرنا بھی مُفِید رہے گا ۔  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی چاہیے کہ جب بھی حضور عَلَیْہ السَّلام  کا نامِ پاک سُنیں توآہِستہ آہِستہ دُرُست تَلَفُّظ کیساتھ دُرُود پاک پڑھیں اس کے علاوہ جب بھی موقع ملے تو اُٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے دُرُودِپاک پڑھتے رہا کریں کہ اس کی بَرَکت سے روزِقیامت جبکہ عرشِ اِلٰہی کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، سُورج سَوا میل کے فاصلے سے آگ برسارہا ہوگا، نَفْسِی نَفْسِی کا عالَم ہوگاتو اس وَقت کثرت سے دُرُود و سلام پڑھنے والے خُوش نصیب مُسلمان کو سایۂ عرش نصیب ہوگا ۔ چنانچہ

عَرش کا سایہ کِس کو ملے گا؟

سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِرشاد فرماتے ہیں  : ’’ ثلَاَ ثَۃٌ  یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَحْتَ عَرْشِ اللّٰہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلَّہٗ‘‘قیامت کے روزجبکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سِوا کوئی سایہ نہیں ہوگاتین شخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کے سائے میں ہوں گے ۔ عرض کی گئی : ’’ یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ کون لوگ ہوں گے ؟‘‘ارشاد فرمایا  : (۱)’’مَنْ فَرَّجَ عَنْ مَکْرُوْبِ اُمَّتِی ، یعنی وہ شخص جو میرے کسی اُمَّتِی کی پریشانی دُور کردے ۔ ‘‘(۲)’’وَمَنْ اَحْیَا سُنَّتِی، میری سُنَّت کو زِندہ کرنے والا ۔ ‘‘ (۳) ’’وَمَنْ اَکْثَرَ الصَّلَاۃَ عَلَیَّاور مجھ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھنے والا ۔  ‘‘(بستان الواعظین لابن الجوزی، ص۲۶۰، ۲۶۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُرُود و سلام کے فَیْضان کو عام کرنا تبلیغِ قُراٰن و سنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوتِ اسلامی کا طُرَّۂ اِمْتِیاز ہے ، اس مدنی ماحول سے مُنْسلِک ہر مُبلِّغ اپنے دَرس و بیان کی اِبتدا دُرُود و سلام سے کرتا ہے ، بعض اَوقات مَدَنی ماحول سے وابَستہ اِسلامی بھائیوں پر رَبِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ کے ایسے ایسے اِنعامات ہوتے ہیں کہ عَقْلیں حیران رَہ جاتی ہیں ۔ چُنانچہ

موتیا جاتا رہا

حَیْدرآبادکے علاقے عُثْمان آباد(گؤشالہ) کے رہائش پَذیر دعوتِ اِسلامی سے وابَستہ اِسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب پیش خِدْمَت ہے  :  میرے والد صاحب جو پاکستان آرمی (فوج ) میں مُلازِم تھے انہیں آنکھ میں موتیا اُتر آیا جس کی وَجہ سے وہ آرمی میڈیکل بور ڈ(صِحَّت کی خرابی کیوجہ سے ریٹائر) ہوچکے تھے یقینا آنکھیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی عطا کردَہ بہت بڑی نِعْمَت ہیں اس کی قَدَر تووہی بتا سکتا ہے جوبینائی سے مَحروم ہے میں نے ۱۴۲۵؁ھ بمطابق 2004؁ء میں اپنے والدمُحترم کو بلوچستان میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے صوبائی سطح کے سُنَّتوں بھرے اِجتماع میں شِرکت کی دعوت پیش کی ، اُنہوں نے دعوت قَبول کی اوراِجتماع میں شِرکت کی سَعادت حاصل کی اِجتماع کے آخری دن اِختتامی دُعا ہورہی تھی دیگر عاشِقانِ مُصْطفٰی کی طرح میرے والدِ مُحترم بھی دُعاؤں کی قَبولیت کے لئے مُحتاجوں کی مُحتاجی دُورکرنے والے رَبّ کریم عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں دَستِ سُوال دَرازکئے ہوئے تھے رِقَّت اَنگیز دُعاکی بدولت شُرکائے اجتماع کی آہیں بُلَنْد ہورہی تھیں میرے والدِگرامی پر بھی رِقَّت طاری تھی خَوفِ خُدا کے باعث وہ زارو قطار رورہے تھے اُنہوں نے دُعاکے اِختتام پر چہرے پر ہاتھ پھیرے اور جُونہی آنکھیں مَلنا شُروع کیں ان پر کرم ہوگیا طویل عرصہ سے موتیا کی بیماری میں مُبتَلا والدِ مُحترم کو



Total Pages: 141

Go To