Book Name:Guldasta e Durood o Salam

اپنی مَجالس میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکر خیر کرتے  رہتے ہیں اور اپنی دَرس و تدریس کی محفلوں میں دُرُود و سلام کے پُھول نچھاور کرتے رہتے ہیں ، پس سرکار کی مَدح و ثنا ان لوگوں کا شعار و آئین ہے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے با عَظْمَت آثارِ حسنہ (یعنی احادیثِ کریمہ) کو خُوبصورت پیرائے میں شائع کرنا ہی ان کا طُرَّئہ اِمتیاز ہے ، مزید برآں احادیث ، نُصُوص اور آثار جو عقل و خِرَد کی شبِ تاریک میں سورج بن کر چمکتے ہیں ، (ان) کے حقیقی واقف کار بھی یہی لوگ ہوتے ہیں اوراِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّیہ لوگ فرقۂ ناجیہ (نجات پانے والے گروہ)میں سے ہوں گے ۔ ‘‘

ابوعَرُوبہ الحرانی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکا معمول تھا کہ آپ کے سامنے جب کوئی احادیث پڑھتا تو آپ دُرُود و سلام پڑھے بغیر نہ رہتے اور خُوب ظاہر کر کے پڑھتے اور کہا کرتے کہ حدیث شریف پڑھنے کی ایک بَرَکت یہ ہے کہ دُنیا میں کثرت سے دُرُود و سلام پڑھنے کی سعادت ملتی ہے اور آخرت میں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ  جَنَّت  کی نعمتیں ملیں گی ۔

(سعادۃ الدارین، الباب الخامس فی المواطن التی تشرع فیہاالصلاۃالخ، ص۱۹۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ  وَجَلَّ! دیکھا آپ نے مُحدِّثینِ کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام کو شاہِ خیرُالْاَنام صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کس قدر مَحَبَّت  تھی کہ جب بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اسمِ گرامی سنتے تو عِشْق و مَحَبَّت میں آپ کی ذاتِ طیبہ پر دُرُود و سلام پڑھا کرتے ، ایسے خُوش نصیبوں کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی رضا وخُوشنودی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی بارگاہ سے سلام بھی موصول ہوتا ہے  ۔ جیساکہ

سرکار کا سلام

            حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ کِرْمانی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  :  ایک دن ہم حضرت سیِّدُنا ابُو علی بن شاذان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی خدمت میں حاضِر تھے کہ ایک نوجوان آیا ، اس کوہم میں سے کوئی نہیں جانتا تھا ، اس نے سلام کیا اور پوچھا  :  ’’آپ میں سے ابو علی بن شاذان(عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن) کون ہیں ؟ ‘‘ہم نے آپ کی طَرف اِشارہ کیا، اس نوجوان نے کہا : ’’اے شَیْخ (رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ)!میں خَواب میں سَیِّد دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دِیدار سے مُشَرَّف ہوا، حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے حُکْم فرمایا کہ علی بن شاذان (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن)کے مُتَعَلِّق معلومات حاصِل کرو اور جب تمہاری ان سے مُلاقات ہو تو میری طَرَف سے انہیں سلام کہنا  ۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ نوجوان چلا گیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو علی شاذان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن آبْدِیدَہ ہوگئے اور فرمایا :  ’’مجھے تو کوئی ایسا عَمَل نَظَر نہیں آتا جِس سے میں اس کَرَم وعِنایَت کا مُسْتَحِق ہوا ہوں ، (ہاں !) شاید یہ کہ میں ٹھہرٹھہر کر حدیثِ مصطفٰے پڑھتا ہوں اور جب بھی نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نام پاک آتا ہے تو میں دُرُودِ پاک پڑھتا ہوں ۔ (المنتظم فی تاریخ الملوک والامم ، ۱۵ / ۲۵۰ )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کس قَدر خُوش قِسمت ہیں وہ لوگ جو تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نَبُوَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِپاک پڑھنے کی عادت بناتے ، سرکار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کرم خاص سے حصہ پاتے اور دیدارِمصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے فیضیاب ہوجاتے ہیں ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ بھی ان عاشقانِ رسول کو اس مَحَبَّت کے صلے میں نہ صرف دُنیا میں ان کے سروں پر عزَّت وقار کا تاج رکھتا ہے بلکہ آخرت میں بھی ان کی لاج رکھتا ہے ۔ جیساکہ

سَبْز لِباس

حضرت  سیِّدُنا خَلَفرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  :  ’’میرے ساتھ ایک نوجوان علمِ حدیث سیکھا کرتا تھا ، اس کے وِصال کے بعد میں نے اسے خَواب میں دیکھا کہ وہ سبز رنگ کے لباس میں ملبوس بڑے مزے سے اِدھر اُدھر ٹہل رہا ہے  ۔ ‘‘ میں نے اُس سے ماجرا پوچھا تو جواب دیا :  ’’جب میں اَحادیث لکھا کرتا تھا تو نبیِّ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اسم گرامی ’’محمد‘‘آتا تو میں اس کے نیچے ’’صلَّی اللّٰہ عَلَیْہ وَسَلَّم‘‘لکھ دیتا تھا ۔  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اس کا یہ بدلہ  عَطا فرمایا جس کوآپ مُلاحَظہ فرمارہے ہیں  ۔ ‘‘ (الفجر المنیر، ص۵۹ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مُحدِّثین کرام رَحِمَہُم اللّٰہ السَّلام کی حکایات اور ان کے اَقوال سے یہ بات واضح ہوگئی کہ احادیثِ مُبارکہ میں یاکسی اور مقام پر جب بھی حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اسمِ مُبارک لکھا ، پڑھا یاسُنا جائے تو اپنے مَکّی مَدَنی آقا  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر جُھوم جُھوم کردُرُود وسلام کے گجرے نچھاور کرتے رہنا چاہیے کہ اس سے حُضُور جانِ عالم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوخُوشی ملے گی اور پھر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام  ہم پر کیسے کیسے انعامات فرمائیں گے اس کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے ۔

اَحادیثِ مُبارکہ کی تَعْظِیم

          یادرکھئے ! حُضُور اقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسم مُقدَّس کی تعظیم کے ساتھ ساتھ آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اقوال وافعال (یعنی احادیثِ مبارکہ) پڑھنے کے بھی کچھ آداب ہیں  ۔ ہمارے اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام جب احادیثِ مُبارکہ لکھتے یا لوگوں کو درسِ حدیث دیتے تو حدیث شر یف کی تَعْظِیم کے پیشِ نظر پہلے غُسل کا اِہتمام فرماتے خُوشبو لگاتے پھر لوگوں کو حدیثِ پاک بیان فرماتے ۔ چُنانچہ امام بخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ جو ائمۂ حدیث میں ایک اَہم اور نُمایاں مقام رکھتے ہیں جب آسمانِ علمِ حدیث پر آپ کا سورج طلوع ہوا تو تمام مُحدِّثین ستاروں کی طرح آپ کے آگے ماند پڑتے   گئے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِاحادیثِ مُبارکہ کا اس قَدر اَدب فرماتے کہ ہر حدیث شریف کو لکھنے سے پہلے غُسل فرماتے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے ۔

            اسی طرح حضرت سَیِّدُنا مُطرِّف رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت سَیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی حدیث پاک سے مَحَبَّت اور تعظیم کا انداز بیان کرتے ہیں  :  ’’کہ حضرت سَیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُاللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس جب لوگ کچھ پوچھنے کے لیے آتے تو خادِمہ آپ کے دولت خانہ سے نکل کر دریافت کرتی کہ حدیث پوچھنے کے لئے آئے ہو یا فقہی مسئلہ ؟ اگر وہ کہتے کہ فِقْہی مسئلہ



Total Pages: 141

Go To