Book Name:Guldasta e Durood o Salam

میں نے ان سے عرض کی  :   ’’سرکارِدو جہاں   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہاں تشریف فرما ہیں ؟‘‘ آپ کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے مجھے اندر جانے کا اِشارہ فرمایا ، میں مزید اندر کی طرف گیا ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  رسولوں کے سردار ، مدینے کے تاجدار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    ایک بلند جگہ جلوہ افروزتھے ۔ میں نے سلام عرض کیا ، جناب رسالت مآب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواب ارشاد فرما یا اور مجھ سے  مصافَحَہ کیا ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرہ مبارک گُلاب کے پھول کی طرح کِھلا ہوا تھا اور آپ   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ انور سے جونور نکل رہا تھا وہ پورے گھر کو روشن کر رہا تھا ۔ سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  اُس وَقت سے میں دعوت ِ اسلامی سے وابَستہ ہوں اور اس کے مَدَنی ماحول  کی بَرَکتیں لوٹ رہا ہوں ۔

ایسی قسمت کُھلے ، دیکھنے کو ملے                                          شوق حج کا ہے گر، اور آقا کا در

سبز گنبد کا نور، دیکھنے کا سُرور                                            جلوۂ مصطَفٰے ، قافِلے میں چلو

تم کوہے دیکھنا، قافِلے میں چلو                                         پاؤ گے آؤ نا، قافِلے میں چلو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں تاقیامِ قیامت دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ رکھ اور اپنے دِینِ متین کی اِشاعت وتبلیغ کی خاطر مَدَنی قافلوں میں سفر کی توفیق نصیب فرما ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 59

حضرت خِضَر علیہ السَّلام کی پسند یدہ مجلس

            حضرتِ سیِّدُنا ابوالحسن نُہَاوَنْدی زاہد رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  :  ’’ایک شخض حضرتِ سیِّدُنا خِضَرعَلَیْہِ السَّلام سے ملااورکہاکہ سب سے افضل عمل رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِتِّبَاع اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر  دُرُود بھیجنا ہے  ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا خِضَر عَلَیْہِ السَّلامنے فرمایا  :  ’’افضل ترین  دُرُود  وہ ہوتا ہے جو حدیث کے نَشْر واِملا کے وَقْت پڑھا جاتا ہے کیونکہ اِس وَقْت زبان سے پڑھا جاتا ہے اور کتابوں میں لکھا جاتا ہے ۔ اِس میں اِنْتِہَائی رَغْبَت ہوتی اور بَہُت زِیادہ خوشی ہوتی ہے  ۔ جب  عُلَمائے حدیث جَمْع ہوتے ہیں تو میں بھی اِن کی مجلس میں موجود ہوتا ہوں  ۔ ‘‘

(القول البدیع، الباب الخامس فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۵۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے حضرت سَیِّدُنا خِضَر عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو احادیثِ مُبارکہ کے دَرمیان پڑھاجانے والا دُرُودِ پاک کس قدر پسند ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلام نہ صرف اس وَقت دُرُودِ پاک پڑھنے کو سب سے اَفضل قرار دیتے بلکہ مُحدِّثینِ کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام کی مجلس میں بنفسِ نفیس شرکت بھی فرماتے ہیں ۔

مُحَدِّثینِ کِرام کا معمول

سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ  وَجَلَّ! مُحدِّثینِ کرام   رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام کی کتنی پیاری عادت تھی کہ جب بھی احادیثِ مُبارکہ لکھتے یا لوگوں کو دَرسِ حدیث دیتے اور  نبیِّ مُکَرَّم ، نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اسمِ مُعظَّم آجاتا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ بابَرَکت پر دُرُودِپاک کے پُھول نچھاور کرتے ۔

حضرت علاَّمہ شیخ یوسف بن اِسماعیل نَبْہانی قُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانی سَعَادَۃُ الدَّارَیْنمیں دُرُودِ پاک پڑھنے کے مختلف مقامات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حدیثِ مُبارک پڑھتے وقت بھی دُرُودوسلام پڑھنا چاہیے ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین حدیث شریف پڑھنے کے دوران دُرُودِپاک پڑھنے کو عَظِیم سعادت سمجھتے تھے ۔ چُنانچہ امام ابُو بکر احمدبن علی بن ثابِت المعروف خطیبِ بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہالہَادِیفرماتے ہیں  :  ہم سے ابُو نعیم ( محدِّث کبیر) نے فرمایا  : ’’(اَحادیث بیان کرتے وقت دُرُودِپاک پڑھنا ) وہ عظیم شَرف ہے جو صرف حدیث کے راویوں کو ہی حاصل ہوتاہے کیونکہ حدیث شریف لکھتے اوربیان کرتے وَقت جتنا دُرُود و سلام اس گروہ کو پڑھنے کا موقع ملتا ہے کسی دوسرے کو نہیں ملتا  ۔ ‘‘

            حضرت سَیِّدُنا سفیان ثوریعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’مُحدِّث کو رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود و سلام پڑھنے سے (بالفرض) کوئی اور فائدہ نہ بھی ہو تو یہ ہی اس کے لئے کافی ہے کہ جب تک کتاب میں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اسم مبارک باقی رہے گا اس پر (یعنی مُحدِّث پر) رَحمتوں کا نُزُول ہوتا رہے گا  ۔ ‘‘

            یہ بھی کہا گیا ہے کہ محدثین کے لیے عظیم بشارت ہے (کہ یہ حضرات روزِ قیامت حُضُورکے زِیادہ قریب ہونگے )کیونکہ وہ قَولاً و فِعْلاً، رات دن (اَحادیثِ مُبارکہ ) پڑھتے اور لکھتے وقت نبیِّ کریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَالتَّسْلِیم پر دُرُود و سلام بھیجتے ہیں ، پس یہ حضرات سب لوگوں سے بڑھ کر دُرُود و سلام بھیجنے والے ہوئے اسی لیے تمام عُلما میں سے صِرف ان حضرات کو اس مَدْح ومَنْقَبت کا مُسْتَحِق ٹھہرایا گیا ہے ۔

اسی طرح ابُو الیمن بن عساکر نے فرمایا : ’’مُحدِّثین کَثَّرَ ھُمُ اللّٰہُ تَعالٰی اس بشارت پر لائقِ تَہْنِیَّت و تَبْرِیْک ہیں ، بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر یہ عَظِیْم احسان فرما کر اپنی نِعْمت تمام فرمادی کہ یہی لوگ بروزِ قیامت اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ رسولِ پاک عَلَیْہِ السَّلام کے قریب تر اور سرکار کی شَفاعت و وسیلہ کے مُسْتَحِق ہوں گے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کا ذِکر لکھتے ہیں اور اَہم اَوقات میں



Total Pages: 141

Go To