Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کثرت دُرُود نے ہلاکت سے بچالیا

حضرت سیِّدُناشیخ حسین بن احمدکَوَّاز بِسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا :  میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے یہ دُعا کی  : ’’یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں خَواب میں ابُو صالح مُؤذِّن کو دیکھنا چاہتا ہوں ۔ ‘‘چُنانچہ میری دُعا قبول ہوئی اور میں نے خَواب میں انھیں اچھی حالت میں دیکھ کر پوچھا  : ’’اے ابو صالح ! مجھے اپنے یہاں کے حالات کی خبر دیجئے  ۔ ‘‘ تو فرمایا  : ’’اے ابُو حسن! اگرسرکارِ مدینہ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ گرامی پر دُرُود پاک کی کثرت نہ کی ہوتی تو میں ہلاک ہوگیا ہوتا ۔ ‘‘(152رحمت بھری حکایات)

مشکلیں ان کی حل ہوئیں قسمتیں ان کی کھل گئیں

ورد جنہوں نے کرلیا صلّ علیٰ محمد

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما اوراسے ہمارے لئے نَجات کا ضامن بنا ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 58

حُضُور ہمارے نام جانتے ہیں

تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عَظْمَت  نشان ہے  :  ’’إِنَّکُمْ تُعْرَضُوْنَ عَلَیَّ بِأَسْمَائِکُمْ وَسِیْمَائِکُمْ یعنی بے شک تمہارے نام مع شَنا خت مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ، فَأَحْسِنُوْا الصَّلَاۃَ عَلَیَّ، لہٰذا مجھ پر اَحْسن (یعنی خُوبصورت ) اَلْفاظ میں دُرُود ِ پاک پڑھو ۔ ‘‘(مصنف عبدالرزاق ، باب الصلاۃ علی النبی ، ۲ / ۱۴۰، حدیث : ۳۱۱۶ )

یَاشَفِیْعَ الْوَریٰ سَلَامٌ  عَلَیْک

یَانَبِیَّ الْہُدیٰ سَلَامٌ  عَلَیْک

خَاتَمُ الْاَنْبِیَاء سَلاَمٌ  عَلَیْک

سَیِّدُ اْلاَصْفِیَاء سَلَامٌ  عَلَیْک

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی حُضُور جانِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِپاک پڑھنے کی سعادت نصیب ہو تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظِیْم وتوقیر میں اچھے اچھے اَلقاب واَلفاظ کے ساتھ جُھوم جُھوم کر دُرُودِ پاک پڑھنا چاہیے ۔ اب وہ اَلفاظ چاہے اَحادیثِ مُبارکہ میں مذکور ہوں یا نہ ہوں اگر ایسے اَلفاظ کے ساتھ دُرُودو سلام پڑھنے سے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظمت ورفعت میں اضافہ ہوتاہے تو یہ بہتر اورافضل عمل ہے جیساکہ علامہ محمد مہدی فاسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الکافی ’’مَطَالِعُ الْمَسَرَّات شَرْح دَلَائِلُ الْخَیْرات ‘‘میں فرماتے ہیں  :  ’’دُرُود شریف میں لفظِ سیِّدُنا مولانا وغیرہ اَلفاظِ تَعْظِیم وتوقیر کا لانا جائز اور بہتر ہے ، نماز کے اندر اور باہر ہر جگہ اس کا اِستعمال کیا جائے ۔ اَلبتہ قرآنِ پاک کی آیت یاکسی روایت میں جس طرح واقع ہے اسی طرح پڑھا جائے ۔ ‘‘       (مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات، ص۳۳۲ )

ایک وَسْوَسہ اوراس کاجواب

اس گُفْتگُو کو سُن کر کسی اسلامی بھائی کے ذِہن میں یہ خیال آسکتا ہے کہ جو اَلفاظ اَحادیثِ مُبارکہ میں وارد ہوئے ہیں انہیں اَلفاظ سے دُرُودِپاک پڑھنا چاہیے کہ یہ اَفضل ہے جبکہ غیر ماثُور دُرُودِپاک (یعنی دُرُودِپاک کے وہ صیغے جو اَحادیثِ کریمہ میں مذکور نہیں ہیں ان کا ) پڑھنا یاکچھ اَلفاظ کا اِضافہ کرنا دُرُست نہیں ۔

حضرت علاَّمہ یوسف بن اِسماعیل نَبْہانی  قُدِّ سَ سرُّہُ النُّورانیاس کا جواب ارشاد فرماتے ہیں  : ’’بلاشُبہ دُرُودوسلام کے وہ اَلفاظ جو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ثابت ہیں وہی دوسرے دُرُودوں سے اَفضل ہیں ، لیکن وہ دُرُود شریف جو بعض صحابۂ کرام یا بعد کے اَولیاء عارفین یاعُلماء عاملین رِضْوَانُ اللّٰہ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن سے منقول ہیں اور ان میں کچھ زائد اَلفاظ بھی ہیں ، جو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے منقول نہیں ۔ تو ان (صیغوں )  میں زِیادہ تَعْظِیم و تعریف و توقیر پائی جاتی ہے اور کثیر اَوصافِ حمیدہ پائے جاتے ہیں جو حُضُورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے منقول دُرُود میں موجود نہیں ، کیونکہ حُضُورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام نے تواضُع کی بنا پر ان کلمات میں اپنے اَوصافِ جمیلہ ذِکر نہیں فرمائے ۔ ‘‘(سعادۃ الدارین، الباب الثامن فی کیفیات الصلاۃ علی النبی الخ، ص۳۴۶)

لہٰذا ہم پر حُضُورنبیِّ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تَعْظِیم فرض ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں کوحُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام کی تَعْظِیم کا حکم ارشاد فرمایا اور آپ عَلَیْہِ السَّلام کا نام لے کر پُکار نے سے مَنْع فرمایا چُنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے  :

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ (پ۱۸، النور : ۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان  : رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتا ہے  ۔

حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولانا سیِّدمحمد نعیم الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِالْہَادِی خَزائن العرفان میں اس آیتِ کریمہ کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’ مُفسِّرین نے ایک معنٰی یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ



Total Pages: 141

Go To