Book Name:Guldasta e Durood o Salam

 

بیان نمبر : 57

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نظرِرَحْمت

نبیِّ رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ رَحمت ہے  :  بے شک جو مجھ پر دُرُود پڑھے گا اللّٰہعَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظرِرَحمت فرمائے گا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جس کی طرف نظرِرَحمت سے دیکھے گا اسے کبھی عذاب میں مبتلا نہیں فرمائے گا ۔ (افضل الصلوۃ ، ص ۱۹۷)

سرور رہتاہے کیف دَوام رہتا ہے                                لبوں پہ میرے دُرُود وسلام رہتاہے

بری ہیں نارجہنم سے وہ خدا کی قسم !                             کہ جن کو ذِکر محمد سے کام رہتا ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے جو شخص نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِپاک پڑھتا ہے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس خُوش نصیب پر رَحمت کی نظر فرماتا ہے اور اسے عذاب سے محفوظ رکھتاہے لہٰذا ہمیں بھی حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلام پر کثرت سے دُرُود وسلام پڑھتے رہنا چاہیے کہ اس کی بَرَکت سے ہمیں بے شُمار فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ جیساکہ

حضرت سیِّدُنا اِبنِ عربی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’حضور نبی ٔرحمت ، شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودِ پاک پڑھنے کا فائدہ خودپڑھنے والے کوہوتا ہے کیونکہ یہ بات اچھے عقیدے ، خالص نِیَّت ، اظہارِ مَحَبَّت ، ہمیشہ فرمانبردار رہنے اور سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے واسطۂ مُبارکہ کو محترم جاننے پر رَہنمائی کرتی ہے  ۔ ‘‘ (المواہب اللدنیۃ، المقصدالسابع، الفصل الثانی فی حکم الصلاۃ علیہ والتسلیمالخ، ۲ / ۵۰۶)

یادرکھئے ! جب بھی حُضُور جانِ عالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکرِ خیر سنیں یا پڑھیں تو دُرُود وسلام اکٹھے پڑھنا چاہئے کہ اس سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے ارشاد’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶) (ترجمۂ کنزالایمان  :  اے ایمان والو ان پر دُرُود اور خُوب سلام بھیجو )‘‘ پر عمل بھی ہوجائے گا اور دُرُودِپاک کی بَرَکات کے ساتھ ساتھ سلام بھیجنے کے فَوائد و ثمرات بھی حاصل ہونگے ۔ صرف دُرُود یاصرف سلام پر اِکتفا نہیں کرنا چاہیے کہ ایساکرنا مکروہ ہے ۔

                علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلام اس بات کی صراحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :  ’’دُرُود و سلام کو ترک کرنا یا ان میں سے کسی ایک پر اکتفا کرنا مکروہ ہے ۔ ‘‘بعض کے نزدیک یہاں مکروہ سے مُراد خلافِ اَولیٰ (یعنی وہ عمل جس کا نہ کرنا بہتر) ہے جو کہ مکروہ نہیں ۔ کیونکہ دُرُود وسلام پڑھنا باعث ِاجر ہے اور دونوں کے ترک کرنے یاکسی ایک کے ترک کرنے سے حاصل ہونے والا اَجرو ثواب نہیں ملتا اور یہ اَوْلیٰ و اَفضل شئے کا ترک ہے ۔ لہٰذا ہمیں اِختلاف سے بچتے ہوئے دُرُود اور سلام دونوں ہی پڑھ لینے چاہئیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب بھی حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود وسلام پڑھنے کی سَعادت نصیب ہو تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلامپر دُرُود بھیجنے کے ضمن میں آپ کی آل واَصحاب پر بھی دُرُودِ پاک پڑھ لینا چاہیے کہ غیرنبی پربہ تبعیت دُرُودپڑھنا بالاجماع (یعنی بالاتفاق ) جائز ہے ۔ اس بارے میں دارالافتاء اَہلسُنَّت کا فتویٰ مُلاحَظہ ہو ۔

غیرِنبی پر دُرُود بھیجنے سے  مُتعلِّق فَتْویٰ

            کیا فر ما تے ہیں علماء دین ومُفْتِیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ غیر نبی پر سلام پڑھنا کیسا ہے ؟                   سائل محمد شوکت قادری عطاری (سرجانی ٹاون)

بِسْمِ اﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْوَہَّابِ اللّٰہُمَّ ہِدَا یۃَالْحَقِّ والصواب

            اَنبیاء عَلَیْھِمُ السَّلاماور فِرِشتوں کے علاوہ کسی اور کے نام کے ساتھ عَلَیْہِ السَّلاماِسْتِقْلالاً یا اِبتداء ًلکھنا یابولنا شرعاً دُرُست نہیں ہے ۔ عُلما نے اسے اَنبیاء کرام عَلَیْھِمُ السَّلام کے ساتھ خاص لکھا ہے ۔ چُنانچہ صَدْرُ الشَّریعہ بَدْرُ الطَّریقہ مُفْتی امجد علی اَعظمی عَلَیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں  :  ’’کسی کے  نام کے ساتھعَلَیْہِ السَّلام کہنا ، یہ انبیا و ملائکہ عَلَیْھِمُ السَّلام کے ساتھ خاص ہے ۔ مثلاً موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام ، جبریلعَلَیْہِ السَّلام ۔  نبی اور فِرِشتہ کے سوا کسی دوسرے کے نام کے ساتھ یوں نہ کہا جائے  ۔ ‘‘ (بہار شریعت ، ۳  /  ص۴۶۵)

            اَلبتَّہان کی تَبْعِیَّت میں غیر نبی پر دُرُود وسلام بھیجا گیا ہو تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ چُنانچہ فقیہ مِلَّت حضرت علاَّمہ مولانا مُفْتی جلالُ الدِّین اَمجدی عَلیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیلکھتے ہیں  :  ’’یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے جمہور علماء کا مَذہَب یہ کہ اِسْتِقْلالاً واِبتداء ً  نہیں جائز اور اِتباعا جائز ہے یعنی امام حسین عَلَیْہِ السَّلام کہنا جائز نہیں ہے اور امام حسین عَلٰی نَبِینا وَعَلَیْہِ السَّلام جائز ہے ۔

(فتاوی فیض الرسول ، ۱ / ۲۶۷)

          حضرت علامہ مُحدِّث بدرُ الدِّین عینی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں  :  ’’وَقَالَ أبُوْ حَنِیْفَۃَ وَ اَصْحَابُہٗ وَمَالِکٌ وَالشَّافِعِیُّ وَالْاَکْثَرُوْنَ اِنَّہٗ لاَ یُصَلّٰی عَلٰی غَیْرِ اْلَانْبِیَاء عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلاَمُ اِسْتِقْلاَلاً، فَلاَ یُقَالُ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی اٰلِ اَبِیْ بَکر اَوْ عَلٰی اٰلِ عُمَرَ اَوْ غَیْرِھِمَا و لٰکِن یُّصَلّٰی عَلَیْہِمْ تَبْعاً ‘‘ (عمدۃ القاری ، کتاب الزکاۃ ، باب صلاۃ الامام ودعائہ لصاحب الصدقۃ وقولہ، ۶ / ۵۵۶)

          مشہور شافعی بُزُرگ حضرت امام مُحی الدِّین نووی عَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی  لکھتے ہیں  :  ’’لاَ یُصَلّ عَلٰی غَیْرِ الْأَنْبِیَائِ اِلَّا تَبْعاً لِاَنَّ الصَّلاَۃَ فِیْ لِسَانِ السَّلَفِ مَخْصُوْصَۃٌ بِالْاَنْبِیَاء صَلَواتُ اللّٰہ وَسَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ کَمَا اَنَّ قَوْلَنَا ’’عَزَّوَجَلَّ‘‘ مَخْصُوْصٌ بِاللّٰہ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی فَکَمَا لَایُقَالُ مُحَمَّدٌ عَزَّوَجَلَّ وَاِنْ کَان عَزِیْزاً جَلِیْلًا لَا یُقَالُ اَبُوْ بَکْرٍ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاِنْ صَحَّ الْمَعْنٰی (اِلٰی اَنْ قَال) وَاتَّفَقُوْا عَلٰی



Total Pages: 141

Go To