Book Name:Guldasta e Durood o Salam

کو سنایا کرتے )تھے  ۔  (مستدرک، کتاب العلم ، ۱ / ۲۸۵، حدیث : ۳۲۶، ملخصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کمزوریٔ حافِظہ کا سبب

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حافظے کی کمزوری کا ایک سبب ہماری گُناہوں بھری زِندگی بھی ہے ۔ کہا جاتا ہے ’’اَلنِّسْیَانُ مِنَ الْعِصْیَانِ‘‘یعنی نسیان عصیان کے باعث ہوا کرتاہے  ۔ اگر ہم اپنی زِندگی گُناہوں میں بسرکرتے رہے تو اس کی نُحوست کی وَجہ سے جہاں  اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی ناراضی مو ل لینی پڑے گی وہیں کمزوریٔ حافظہ کا نُقْصان بھی اُٹھانا پڑے گا ۔ لہٰذا زِندگی کو غنیمت جانتے ہوئے جلدہی گُناہوں بھری زِندگی سے توبہ کیجئے اور ذِکر و دُرُود کی کثرت سے رَبّ کو راضی کرلیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ضَرور کرم ہوجائے گا ۔

حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِی فرماتے ہیں  :  اگر تم جلد توبہ کرو گے تو اُمید ہے کہ عنقریب گُناہوں پر اِصرار کرنے کے مَرَض کا تمہارے دل سے قَلْع قَمع (یعنی خاتمہ) ہو جائے اور گُناہوں کی نُحوست کا بوجھ تمہاری گردن سے اُتر جائے اور گُناہوں کی وَجہ سے جوقَساوَتِ قلبی (یعنی دل کی سختی) پیدا ہوتی ہے اس سے ہرگز بے خوف نہ ہو ۔  بلکہ ہر وَقت اپنے دل پر نگاہ رکھو، کیونکہ بعض صالحین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن نے فرمایا ہے  : ’’ بے شک گُناہ کرنے سے دل سیا ہ ہو جاتا ہے اور دل کی سیاہی کی علامت یہ ہوتی ہے کہ گُناہوں سے گھبراہٹ نہیں ہوتی ، طاعت (یعنی عبادت) کے لیے موقع نہیں ملتا ، نصیحت سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا (یعنی نصیحت و بیان سن کر دل پر اثر نہیں ہوتا) ۔ ‘‘ اے عزیز! کسی گُناہ کو معمولی خیال نہ کر اور کبیرہ گُناہوں پر اصرار کرنے کے باوجود اپنے آپ کو تائب (یعنی توبہ کرنے والا) گمان نہ کر ۔ (غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۴۲۹)

میں کر کے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں                              حقیقی توبہ کا کر دے شَرَف عطا یارب!(وسائلِ بخشش، ص۹۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنَّت مجدِّدِ دین وملَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فتاوی رضویہ جلد 26 صفحہ 605 پر ہمارے لئے  نسیان سے محفوظ رہنے کامُجرَّب عمل ارشاد فرماتے ہیں  : ’’ دفعِ نسیان (بھولنے کی بیماری سے نجات)کے لئے 17بار سورہ اَلَمْ نَشْرَحْ ہر شب سوتے وَقت پڑھ کر سینہ پر دَم کرنا اور صُبح17 بار پانی پردم کرکے قدرے پینا اور چینی کی رکابی (پلیٹ) پریہ حروف ا ھ ظ م ف ش ذ لکھ کر پلانا نافع (فائدہ مند)ہے ۔ اور چالیس روز سفیدچینی (کے برتن) پرمُشک و زعفران وگُلاب سے لکھ کر آبِ تازہ سے محو (یعنی دھو) کرکے پئیں ۔ (پھر) تَسْمیہ (یعنی بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھنے ) کے بعد فَسَھِّلْ یَااِلٰھِیْ کُلَّ صَعْبٍ بِحُرْمَۃِ سَیِّدِالْاَبْرَارِ سَھِّلْ یَامُحْیَ الدِّیْنِ اَجِبْ، یَاجِبْرَائِیْلُ بِحَقِّ یَابُدُوْحُ (پڑھیں ) ۔ ‘‘

حیرت انگیز قُوَّتِ حافظہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے کہ قُوَّتِ حافظہ کو بڑھانے کا مذکورہ طریقہ تو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے بطورِ خاص ہم عصیاں کے مریضوں  کے لئے تجویز فرمایا ہے کیونکہ خود اُن کی قُوَّتِ حافظہ کا تو یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے عُقَلا آپ کے حافظے کا لوہا مانتے تھے ۔ چُنانچہ

          حضرت ابو حامِد سیِّد محمد محدِّث کَچھوچھوی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں  :  ’’تکمیلِ جواب کے لیے جُزئِیّاتِ فِقْہ کی تلاشی میں جو لوگ تھک جاتے وہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خِدْمَت میں عَرض کرتے اور حوالہ جات طلب کرتے تو (یادداشت کی بُنیادپر ) اُسی وقت آپ فرمادیتے کہ ’’رَدُّالمُحْتَار‘‘ جلد فُلاں کے فُلاں صَفَحہ پر فُلاں سَطر میں اِن الفاظ کے ساتھ جُزئِیّہ موجود ہے ۔ ’’دُرِّمُخْتَار‘‘ کے فُلاں صَفَحے پر فُلاں سَطر میں عبارت یہ ہے ۔ ’’عالمگیری ‘‘ میں بقید جلد و صَفَحہ وَسَطر یہ الفاظ موجود ہیں ۔ ’’ ہِندیہ‘‘ میں ’’ خَیریہ‘‘ میں ’’ مَبْسُوط‘‘ میں ایک ایک کتاب فِقہ کی اَصل عبارت مع صَفَحہ وسَطر بتادیتے اور جب کتابوں میں دیکھا جاتا تو وُہی صَفَحہ وسَطر و عبارت پاتے جو زَبانِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا تھا ۔ اِس کو ہم زِیادہ سے زِیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ خُدادادقُوَّتِ حافِظہ سے چودہ سو سال کی کتابیں حِفظ تھیں  ۔ ‘‘(حیاتِ اعلیٰ حضرت ، ۱ /  ۲۱۰ ، ملخصاً)

صرف ایک ماہ میں حِفْظِ قرآن

          حضرتِ جناب سیِّد ایوب علی صاحبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا بیان ہے کہ ایک روز اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ارشاد فرمایا  : ’’ بعض ناواقِف حضرات میرے نام کے آگے حافِظ لکھ دیا کرتے ہیں ، حالانکہ میں اِس لَقَب کا اَہل نہیں ہوں  ۔ ‘‘ سَیِّدایّوب علی صاحِب رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  : ’’ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسی روز سے دَور شُروع کردیا جس کا وَقْت غالِباً عشاء کا وُضو فرمانے کے بعد سے جماعت قائم ہونے تک مخصوص تھا ۔ روزانہ ایک پارہ یاد فرمالیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ تیسویں روز تیسواں پارہ یاد فرمالیا  ۔ ‘‘ ایک موقع پر فرمایا  :  ’’بِحَمْدِاللّٰہ میں نے کلامِ پاک بالتَّرتیب بکوشِش یاد کرلیا اور یہ اِس لیے کہ ان بندگانِ خُداکا (جو میرے نام کے آگے حافِظ لکھ دیا کرتے ہیں ) کہنا غلط ثابت نہ ہو ۔  ‘‘

(حیات اعلیٰ حضرت، ۱ /  ۲۰۸، ملتقطا وملخصاً)

علم کا چشمہ ہوا ہے مَوجزَن تحریر میں                     جب قلم تُو نے اُٹھایا اے امام احمدرضا

حشر تک جاری رہے گا فیض مرشِد آپ کا                فیض کا دریا بہایا اے امام احمدرضا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! ہمیں حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام پر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطا فرما اور دُرُودِپاک کی بَرَکت سے ہمیں قُوَّتِ حافظہ کی دولت سے مالامال فرما ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

 



Total Pages: 141

Go To