Book Name:Guldasta e Durood o Salam

          حضرت سَیِّدُنااُبوسُلَیْمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰناپنے مُتعلق واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خَواب میں مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دِیدار کیا ۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اے ابُوسلیمان ! تو میرا نام لیتا ہے اور اس پر دُرُود شریف بھی پڑھتا ہے ’’وَسَلَّم‘‘ کیوں نہیں کہتا؟ یہ چار حَرف ہیں اور ہرحَرف پر دس نیکیاں مِلتی ہیں  ۔ ‘‘

(القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۶۴)

            ’’صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ ‘‘( یعنی اُن پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا دُرُود ہو) دُرُود شریف ہے  مگر اِس میں سَلام شامل نہیں ہے جب کہ’’صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم‘‘ ( یعنی اُن پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دُرُود و سَلام ہوں ) میں دُرُود و سَلام دونوں شامل ہیں  ۔

          میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! غور فرمائیے !صِرف لَفظِ ’’وَسَلَّم‘‘ ترک کرنے پرحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخَواب میں تشریف لا کر اِظہارِ ناراضی فرمائیں تو جو غافِل اور سُسْت لوگ پُورا ہی ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ غائب کرکے صِرف ’’  ؐ‘‘ یا ’’ صَلْعَم ‘‘ پر گزاراکرتے ہیں اُن سے سرکار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکِتنا ناراض ہوں گے ؟اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں دُنیا ، قَبر اور مَحشر، ہر جگہ اپنے پیارے حَبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضی سے بچائے ۔

نزع میں ، گور میں ، مِیزاں پہ ، سَرِپُل پہ کہیں

                 نہ چھُٹے ہاتھ سے دامانِ مُعلّٰی تیرا(حدائقِ بخشش، ص۱۳)

خوار وبیمار و خَطاوار گُنہگار ہُوں میں

رافِع و نافِع و شافِع لَقب آقا تیرا

کِس کا مُنہ تکئے ، کہاں جائیے ، کِس سے کہیے !

                 تیرے ہی قَدْموں پہ مِٹ جائے یہ پالا تیرا(حدا ئقِ بخشش، ص۱۷)

          اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں نبی پاک  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے نامِ مُبارک کے ساتھ دُرُودِپاک پڑھنے کی توفیق عطافرما ۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر  : 4

جَنَّت کا اَنوکھا پَھل

اَمِیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے رِوایت ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے جَنَّت میں ایک دَرخت پیدا فرمایا ہے جس کا پَھل سیب سے بڑا، اَنار سے چھوٹا، مَکھن سے نرم ، شہد سے بھی میٹھااورمُشک سے زِیادہ خُوشْبُودار ہے ۔ اس دَرخت کی شاخیں تر موتیوں کی، تنے سونے کے اور پَتے زَبَرجَد کے ہیں ۔ لَا یَاْکُلُ مِنْہَا اِلَّا مَنْ اَکْثَرَ مِنَ الصَّلَاۃِ عَلٰی مُحَمَّدٍ(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اس دَرخت کا پَھل صِرف وہی کھا سکے گا جوسرکارِ والا تَبار، حبیبِ پَرْوَرْدْگارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرکثرت سے دُرُودِپاک پڑھے گا ۔  (الحاوی للفتاوٰی للسیوطی، ۲ / ۴۸)

وہ تو نہایت سَسْتا سودا بیچ رہے ہیں جَنَّت کا

ہم مُفْلِس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے (حدائقِ بخشش، ص۱۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے دُرُودوسلام پڑھنے والا مُسلمان کس قَدر خُوش نصیب ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے جَنَّتمیں اس کے لئے کس قَدر اِنعام واِکرام تیار کررکھے ہیں  ۔ اورحُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ گرامی پر پڑھا جانے والا دُرُودِپاک اللّٰہ تعالیٰ کے مَعْصُوم فِرِشتے بارگاہِ رِسالت میں پیش کرتے ہیں ۔ چُنانچہ

حضرتِ سَیِّدُناعبدُاللّٰہابنِ مَسْعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے رِوایت ہے کہ رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا :  ’’اِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً سَیَّاحِیْنَ فِی الْاَرْضِ یُبَلِّغُوْنِیْ مِنْ اُمَّتِی السََّلَامَ، یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے کچھ فِرِشتے زمین میں سیر وسیاحت کرتے ہیں جو میری اُمَّت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں ۔ ‘‘(مشکوۃ، کتاب الصلوۃ، باب اَلصَّلاۃُ علی النبی وفضلہا، ۱ / ۱۸۹، حدیث : ۹۲۴)

مُفسرِشہیر حکیم الاُمَّت مُفْتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ القویاس حدیثِ پاک کے تحت اِرشاد فرماتے ہیں  : ’’ یعنی ان فِرِشتوں کی یہی ڈیوٹی ہے کہ وہ آستانہ عالیہ تک اُمَّت کا سَلام پہنچایا کریں  ۔ یہاں چند باتیں قابلِ خیال ہیں  ۔ ‘‘

(1) ایک یہ کہ فِرِشتے کے دُرُود پہنچانے سے یہ لازِم نہیں آتا کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفسِ نفیس ہر ایک کا دُرُود نہ سنتے ہوں ، حق یہ ہے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر دُور و قریب کے دُرُود خواں کا دُرُود سُنتے بھی ہیں اور دُرُود خواں کی عِزَّت اَفزائی کے لیے فِرِشتے بھی بارگاہِ عالی میں دُرُود پہنچاتے ہیں تاکہ دُرُود کی برکت سے ہم گُنہگاروں کا نام آستانہ ٔعالیہ میں فرشتے کی زبان سے ادا ہو ۔  حضرتِ سَیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے تین میل سے چیونٹی کی آواز سنی توحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہم گُنہگاروں کی فریاد کیوں نہ سنیں گے  ۔ دیکھو رَبّ تعالیٰ ہمارے اَعمال دیکھتا ہے پھر بھی اِسکی بارگاہ میں فِرِشتے اَعمال پیش کرتے ہیں ۔

(2) دوسرے یہ کہ یہ فِرِشتے ایسے تیز رَفتار ہیں کہ اِدھراُ مَّتِی کے مُنہ سے دُرُود نکلا اُدھر اُنہوں نے سَبْز گُنْبد میں پیش کیا ۔  اگر کوئی ایک مَجْلس میں ہزار بار دُرُود شریف پڑھے تو یہ فِرِشتہ اس مَجْلس اور مَدینہ طیبہ کے ہزار چکّر لگائے گا ، یہ نہ ہوگا کہ دن بھر کے دُرُود تھیلے میں جمع کرکے ڈاک کی طرح شام کو وہاں پہنچائے ۔

(3) تیسرے یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ نے فِرِشتوں کوحُضُورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خُدَّامِ آستانہ بنایا ہے  ۔ حُضُورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خِدْمت گارَان ، فرشتوں کا سا رُتبہ رکھتے ہیں  ۔

 



Total Pages: 141

Go To