Book Name:Guldasta e Durood o Salam

شَفاعَت کا مُژْدَہ مل گیا

حضرت سَیِّدُنا عبد الواحد بن زید رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :  ہمارا ایک پڑوسی تھا جو بادشاہ کی خدمت کرتا تھا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل اور فِتنہ وفساد پھیلانے میں مشہور تھا ایک رات میں نے اسے خواب میں دیکھا کہ اس کا ہاتھ رسُول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ہاتھ میں ہے میں نے عرض کی : یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! یہ برا شخص تو ان لوگوں میں سے ہے جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے مُنہ موڑے ہوئے ہیں پھر آپ عَلَیْہِ السَّلام نے اپنا دستِ مُبارک اس کے ہاتھ میں کیوں دیا ؟ سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ مجھے اس کا علم ہے اور سنو ! میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اس کی سفارش کرنے جارہا ہوں  ۔ ‘‘ میں نے عرض کی :  یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم !یہ اس مقام پر کس وَسیلے سے پہنچا ؟ فرمایا : ’’ مجھ پر کثرت سے دُرُود وسلام پڑھنے کی وَجہ سے ، بے شک یہ شخص ہر رات سوتے وقت مجھ پر ہزار مرتبہ دُرُود و سلام بھیجا کرتا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے حق میں میری شَفاعت قبول فرمائے گا  ۔ ‘‘

حضرت سَیِّدُنا عبد الواحدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْمَاجِدکا بیان ہے کہ جب صُبح کے وَقت میں مسجد میں داخل ہوا تو کیادیکھتا ہوں کہ وہی نوجوان روتا ہوا مسجد میں داخل ہوا ۔ میں اس وَقت اپنے دوستوں کے سامنے جوکچھ اس کے مُتعلِّق خَواب میں دیکھا تھا بیان کررہا تھا ، وہ سلام کر کے سامنے بیٹھ گیا اوربولا : اے عبدالواحد! میں آپ کے ہاتھ پر تائب ہونا چاہتا ہوں ، مجھے رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمہارے پاس بھیجا ہے ۔ جب اس نے توبہ کرلی تو میں نے اس خَواب کے بارے میں دَرْیافت کیا تو اس نے کہا کہ میرے پاس رسُول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے تھے آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : ’’میں اپنے رَبّ کے ہاں تمہاری شَفاعت کروں گا اس دُرُود وسلام کے سبب جو تم مجھ پر بھیجتے ہو ۔ ‘‘ لہٰذا حُضُور عَلَیْہِ السَّلام نے سفارش کے بعد فرمایا  :  صبح سویرے عبد الواحد کے پاس جانا اور اس کے ہاتھ پر توبہ کرنا اور اس پر مَضْبُوطی سے قائم رہنا ۔  (سعادۃ الدارین، الباب الرابع فیماورد من لطائف المرائی والحکایات الخ، اللطیفۃ التسعون، ص ۱۵۰ملخصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ! ہمیں نمازِ پنجگانہ باجماعت پڑھنے کے ساتھ ساتھ نفلی عبادات کرنے کی توفیق عطا فرما اور نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اُسوۂ حَسَنہ پر عمل کرتے ہوئے آپ کیمَحَبَّت میں جُھوم جُھوم کر دُرُودو سلام پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 55

سایۂ عرش پانے والے تین خُوش نصیب

رسولِ اکرم ، نورِ مجسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رَحمت نشان ہے  : ’’ ثلَاَثَۃٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَحْتَ عَرْشِ اللّٰہِ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلَّہٗ ، قیامت کے روز اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے عرش کے سِوا کوئی سایہ نہیں ہوگا ، تین شخص اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے عرش کے سائے میں ہوں گے  ۔ ‘‘ عرض کی گئی  :  یارسُولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ ارشاد فرمایا  :  (۱)’’مَنْ فَرَّجَ عَنْ مَکْرُوْبِ اُمَّتِی، وہ شخص جو میرے کسی اُمّتی کی پریشانی دُور کردے ۔ ‘‘(۲) ’’وَمَنْ اَحْیَا سُنَّتِی، میری سُنَّت کو زِندہ کرنے والا  ۔ ‘‘ (۳)’’وَمَنْ اَکْثَرَالصَّلَاۃَعَلَیَّ، اور مجھ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھنے والا ۔ ‘‘ (بستان الواعظین لابن الجوزی، ص۲۶۰، ۲۶۱) (البدورالسافرۃ فی امور الاخرۃ للسیوطی، باب الاعمال الموجبۃ ۔ ۔ ۔  الخ، ص۱۳۱، حدیث :  ۳۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  حُصُولِ بَرَکت ، ترقی ٔ مَعْرِفَت اور میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قُربت حاصل کرنے کیلئے دُرُود و سلام بہترین ذَرِیعہ ہے ، اگر کوئی خُوش نصیب زِندگی بھر اپنیمحسن آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود و سلام کے پھول نچھاور کرتارہے تو روز قیامت اسے نہ صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے عرش کا سایہ نصیب ہوگا بلکہ وہ مَکی مَدنی سرکار، شفیعِ روزِ شُمار  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شَفاعت کا حقدار بھی بن جائے گا لہٰذا ہمیں بھی دن رات اپنے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں خُوب خُوب دُرُود و سلام کے نذرانے پیش کرتے رہنا چاہیے کہ اس کے فَضائل و ثَمَرات بے حساب ہیں ۔ چُنانچہ اس ضِمن میں چند اَحادیثِ مُبارکہ سُنئے اور دُرُودِ پاک کی عادت بنالیجئے ۔

دن رات کے گناہوں کی مُعافی

اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے مَحبوب ، دانائے غُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں  :  ’’جس نے دن اور رات میں میری طرف شوق و مَحَبَّت کی وَجہ سے تین تین مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ وہ اس کے اس دن اور رات کے گُنا ہ بَخش دے  ۔ ‘‘  (الترغیب والترہیب ، کتاب الذکر والدعاء، باب الترغیب فی اکثار الصلاۃ علی النبی، ۲  /  ۳۲۶، حدیث : ۲۵۹۲)

تاجدارِ رسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ بشارت نشان ہے  :  ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ فِیْ یَوْمٍ خَمْسِیْنَ مَرَّۃً صَافَحْتُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، جودن بھر میں مجھ پر پچاس مرتبہ دُرُود پڑھے گا قیامت کے دن میں اس سے مُصافَحہ کروں گا ۔ ‘‘ (القول البدیع ، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام علی رسول اللّٰہ، ص۲۸۲)

 

غموں نے تم کوجو گھیرا ہے تو دُرُود پڑھو

            تاجدار مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  : ’’ جسے کوئی سخت حاجت دَر پیش ہو تو اسے چاہیے کہ مجھ پر کثرت سے دُرُود شریف پڑھے ۔ کیونکہ یہ مَصائِب و آلام کو دُور کردیتا ، روزی میں بَرَکت اور حاجات کو پورا کرتا ہے  ۔ ‘‘(بستان الواعظین وریاض السامعین ، ص۴۰۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To