Book Name:Guldasta e Durood o Salam

ہیں وہ نہ صرف اللّٰہ اور اس کے رسول کے محبوب ہیں بلکہ ایسے خُوش بختوں کوبروزِ جزا احمدِ مجتبیٰ، محمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاقُربِ خاص بھی نصیب ہوگا ۔ چُنانچہ

سرکا رکا قُرب پانے والا خُوش نصیب

حضرت سَیِّدُناابنِ عباس  رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے کہ نبیِّ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ جو شخص میرے صحابہ ، اَزواج اور اہلِ بیت سے عَقیدت رکھتا ہے اور ان میں سے کسی پرطَعْن نہیں کرتا اور ان کیمَحَبَّت پر دُنیا سے اِنتقا ل کرتا ہے وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے دَرَجہ میں ہوگا ۔ ‘‘ (الریاض النضرۃ، الباب الاول، ذکر ماجاء فی الحث علی حبہم والاحسان الیہم الخ ، ۱ / ۲۲)

حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار،  شَہَنشاہِ اَبرار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ مَنْ اَحْسَنَ الْقَوْلَ فِیْ اَصْحَابِیْ فَقَدْ بَرِیَٔ مِنَ النِّفَاقِ‘‘جس نے میرے اَصحاب کے مُتعلِّق اچھی بات کہی تو وہ نفاق سے بَری ہوگیا، ’’وَمَنْ اَسَائَ الْقَوْلَ فِیْ اَصْحَابِیْ کَانَ مُخَالِفاً لِسُنَّتِیْ، جس نے میرے اَصحاب کے  مُتعلِّق بُری بات کہی تووہ میرے طریقے سے ہٹ گیا، وَمَأوَاہُ النَّارُ وَبِْٔسَ الْمَصِیْرُ ، اور اس کا ٹِھکانا آگ ہے اور کیا ہی بُری جگہ ہے پلٹنے کی  ۔ ‘‘ (الریاض النضرۃ، الباب الاول ، ذکر ماجاء فی الحث علی حبہم والاحسان الیہم الخ ، ۱ / ۲۲)

اللّٰہ  عَزَّوَجَل کے دوست

حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلہٖ وَسِلَّم کا ارشادِباقرینہ ہے  :  ’’میرے ان چاروں صحابہ ابُوبکر، عُمَر، عُثمان اور علی (رِضْوانُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن)سے مَحَبَّتکرنے والے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دوست ہیں اور ان سے بُغْض اور نَفرت کرنے والے  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دُشمن ہیں ۔ ‘‘

(الریا ض النضرۃ ، الباب الرابع فیماجاء مختصا باالاربعۃ الخلفاء، ۱ / ۴۸)

آل سے اَصحاب سے قائم رہے

تا اَبد نِسْبَت اے نانائے حسین  (وسائل بخشش، ص۱۶۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

گستاخِ صحا بہ کا عِبْرَتْناک اَنجام

حضرت سَیِّدُناخَلَف بن تَمِیْمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَظیْم فرماتے ہیں  :  مجھے حضرت سَیِّدُنا ابُوالحصیب بشیر رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بتایا کہ میں تجارت کیا کرتا تھا اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے فَضْل و کَرم سے کافی مالدار تھا ۔  مجھے ہر طر ح کی آسائشیں مُیسَّر تھیں اور میں اکثر اِیران کے شہروں میں رہا کرتا تھا  ۔ ایک مرتبہ میرے ایک مزدور نے مجھے خبر دی کہ فُلاں مُسافر خانے میں ایک شخص مرگیا ہے ، وہاں اس کا کوئی بھی وارِث نہیں ، اب اس کی لاش بے گور وکَفن پڑی ہے ۔ جب میں مُسافر خانے پہنچاتو وہاں ایک شخص کو مُردہ حالت میں پایا، میں نے ایک چادر اس پر ڈال دی، اس کے ساتھیوں نے مجھے بتایاکہ یہ شخص بہت عبادت گزار اور نیک تھا لیکن آج اسے کَفن بھی  مُیسَّر نہیں اور ہمارے پاس اِتنی رقم نہیں کہ اس کی تَجْہِیْز وتَکْفِیْن کر سکیں ۔ میں نے یہ سُنا تو اُجرت دے کر ایک شخص کو کَفن لینے کے لئے اورایک کوقَبر کھودنے کے لئے بھیجا اور ہم اس کے لئے کچی اِینٹیں تیار کرنے لگے ابھی ہم لوگ اِنہیں کاموں میں مشغول تھے کہ یکایک وہ مُردہ اُٹھ بیٹھا ، اِینٹیں اس کے پیٹ سے گر گئیں پھروہ بڑی بھیانک آواز میں چیخنے لگا :  ہائے آگ، ہائے ہَلاکت، ہائے بربادی ! ہائے آگ، ہائے ہلاکت، ہائے بربادی ! جب اس کے ساتھیوں نے یہ خوفناک مَنْظَر دیکھا تو دُور ہٹ گئے ۔ میں اس کے قریب گیااور اس کا بازو پکڑ کر ہلایااور اس سے پوچھا تُو کون ہے اور تیرا کیا مُعامَلہ ہے ؟

وہ کہنے لگا بَدقِسمتی سے مجھے ایسے بُرے لوگوں کی صُحبت ملی جو حضرتِ سَیِّدُنا صِدِّیق اَکبر و فارُوقِ اَعظم  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہما کو گالیاں دیا کرتے تھے ۔ ان کی صُحبتِ بد کی وَجہ سے میں بھی ان کے ساتھ مل کر شیخین کریمین  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُماکو گالیاں دیا کرتا او ران سے نفرت کرتا تھا  ۔

سَیِّدُناابوالحصیب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ اللَّطِیف فرماتے ہیں  :  میں نے اس کی یہ بات سن کر اِسْتِغْفار پڑھا اور کہا  :  اے بَدبخت !پھر تو تجھے سخت سزا ملنی چا ہئے  ۔ (پھر میں نے اس سے پوچھا) تُومرنے کے بعد زِندہ کیسے ہوگیا ؟’’تو اُس نے جواب دیا :  ’’میرے نیک اَعمال نے مجھے کوئی فائدہ نہ دیا ۔  صحابۂ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوَان کی گستاخی کی وَجہ سے مجھے مرنے کے بعد گھسیٹ کر جہنَّم کی طرف لے جایا گیا اور وہاں مجھے میرا ٹھکانا دِکھایا گیا ، وہاں کی آگ بہت بھڑک رہی تھی ۔

پھر مجھ سے کہا گیا عنقریب تجھے دو بارہ زِندہ کیا جائے گا تا کہ تُو اپنے بَدعَقیدہ ساتھیوں کو اپنے دَرد ناک اَنجام کی خبر دے اور انہیں بتائے کہ جو کوئی اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے نیک بندوں سے دُشمنی رکھتا ہے اس کا آخرت میں کیسا دَرد ناک اَنجام ہوتا ہے ، جب تُو ان کو اپنے بارے میں بتا دے گا توپھر دو بارہ تجھے تیرے اَصلی ٹھکا نے (یعنی جہنَّم )میں ڈال دیا جائے گا ۔  

یہ خبر دینے کے لئے مجھے دوبارہ زِندہ کیا گیا ہے تاکہ میری اس حالت سے گستاخانِ صحابہ عبرت حاصل کریں اور اپنی گستا خیوں سے باز آجائیں ورنہ جو کوئی ان حضرات کی شان میں گستاخی کریگا اس کا اَنجام بھی میری طر ح ہوگا ۔  اِتناکہنے کے بعد وہ شخص دوبارہ مُردہ حالت میں ہوگیا ۔ اس کی یہ عبرتناک باتیں میرے علاوہ دُور کھڑے دیگر لوگوں نے بھی سُنیں ، اتنے میں مزدور کَفن خرید لایا ، میں نے وہ کفن لیا اور کہا  : میں ایسے بدنصیب شخص کی ہر گز تَجْہِیْزوتَکْفِیْن نہیں کرو ں گا جو شیخین کریمین  رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنْہُما کاگستا خ ہو، تم اپنے ساتھی کو سنبھالو میں اس کے پاس ٹھہرنا بھی گوارا نہیں کرتا ۔

اِس کے بعد میں وہاں سے واپس چلا آیا بعد میں مجھے بتا یا گیا کہ اس کے بَدعقیدہ ساتھیوں نے ہی اسے غُسل و کَفن دیا اور انہی چند لوگوں نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی ، ان کے علاوہ کسی نے بھی نماز ِجنازہ میں شرکت کرنا گوارا نہ کیا ۔ (عیون الحکایت(مترجم) ، ۱ /  ۲۴۸)

محفو ظ سدا رکھنا شہا بے اَدَبو ں سے

اور مجھ سے بھی سَرزد نہ کبھی بے اَدَبی ہو  (وسائل بخشش، ص۱۹۳)

 



Total Pages: 141

Go To