Book Name:Guldasta e Durood o Salam

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے معصوم فِرِشتے سرکارِ دوعالَم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبرِاَنور پر صُبح و شام حاضِر ہوتے ہیں اور بحکمِ خُداوَنْدی آقائے دوجہاں ، شَہَنْشاہِ کون و مکان عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃُ وَالثَّناء پر دُرُود وسلام کے گجرے نِچھاور کرتے رہتے ہیں ۔ فِرِشتے وہی کرتے ہیں جس کام کا اُنہیں بارگاہِ الہٰی سے حُکم ہوتا ہے ۔ یوں تو حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکو سجدہ کرنااور نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِپاک پڑھنا دونوں ہی اِمْتِثَالِاَمْرِ الہٰی(یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حُکم کی تعمیل) ہے لیکن سرکار عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلامپر دُرُودوسلام پڑھنا حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلامکو سجدہ کرنے سے بھی اَفضل ہے ۔ چُنانچہ

تین اَہَم نِکات

حضرت سَیِّدُنا ابوحَفْص عُمَر بن علی حَنْبلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’اللّٰہ رَبُّ العزَّت نے محمدِعربی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر بذاتِ خود دُرُودپاک بھیجا ، مَلائکہ اور تمام مسلمانوں کو اس کا حکم ارشاد فرمایا ۔ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی ذاتِ پاک پر دُرُودِ پاک پڑھنا (تین وُجُوہات کی بنا پر) سیِّدُنا حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کو سجدہ کرنے سے بھی اَفْضل ہے ۔ (۱)فَاِنَّ سُجُوْدَ الْمَلَائِکَۃِ لِاٰدَمَ کَانَ تَأدِیْباً یعنی آدم عَلَیْہِ السَّلام کو سجدہ کرنافِرِشتوں کواَدب سکھانے کے لئے تھا ، وَاَمَرَہُمْ بِالصَّلَاۃِ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وَسَلَّم تَقْرِیْباً ، جبکہ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃ ُوَالسَّلام پر دُرُود پڑھنا قُرب حاصل کرنے کے لئے ہے ۔ (۲)فَالصَّلَاۃُ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وَسَلَّم دَائِمَۃٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، یعنی حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر دُرُودِپاک پڑھنا تاقیامت جاری وساری رہے گا ، وَسُجُوْدُ الْمَلَائِکَۃِ ِلاٰدَمَ  لَمْ یَکُنْ اِلَّامَرَّۃً وَاحِدَۃً جبکہ آدمعَلَیْہِ السَّلام کو سجدہ کرنے کے لئے صرف ایک ہی بار حکم دیا گیا ، (۳) فَاِنَّ الْمَلاَئِکَۃَ اِنَّمَا اُمِرُوْا بِالسُّجُوْدِ ِلاٰدَمَ لِاَجْلِ اَنَّ نُوْرَمُحَمَّدٍصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فِیْ جَبْہَۃِ اٰدَمَ ، یعنی فِرِشتوں کو سجدہ کاحکم اس لئے بھی دیا گیا کہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام  کی پیشانی میں نُورِ محمدی موجود تھا  ۔ (اللباب فی علوم الکتاب، پ۳، البقرۃ، تحت الآیۃ : ۲۵۳، ۴ /  ۳۰۲ )

پیشانیٔ آدم میں نُورِمُحَمَّد

یادرکھئے ! فِرِشتے حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ طیبہ پر اس وَقت سے دُرُود وسلام پڑھنے میں مشغول ہیں کہ جب آپ عَلَیْہِ السَّلامنور کی صورت میں حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کی پیشانی میں جلوہ فرما تھے ۔ فِرِشتے صَف دَرصَف حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کی پُشتِ مُبارک کے پیچھے کھڑے ہو کر نُورِ محمدی کی زِیارت کیا کرتے ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلام نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عرض کی  :  ’’یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! یہ فِرِشتے میری پُشت کے پیچھے صَف باندھ کر کیوں کھڑے  رہتے ہیں ؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’ اے آدم! یہ فِرِشتے میرے حبیب، خاتم الانبیاء، محمدِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نُور کی زِیارت کرتے ہیں ، جسے میں تیری پُشت سے پیدا فرماؤں گا ۔ ‘‘حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے عرض کی  :  ’’ یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ! اس مُبارک نُور کو میری پیشانی میں رکھ دے تاکہ یہ فِرِشتے میرے سامنے رہیں ۔ ‘ ‘تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس نُور کو آپ علیہ السلام کی پیشانی میں رکھ دیا ۔ فِرِشتے حضرت سیِّدُنا آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے سامنے کھڑے ہو جاتے اورنُورِ محمدی پر دُرُودو سلام کے نذرانے پیش کرتے رہتے ۔ حضرت سیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلام نے عرض کی :  ’’یاالٰہیعَزَّوَجَلَّ ! میں بھی اس مُبارک نُور کی زِیارت کرنا چاہتا ہوں ، لہٰذا اسے میری پیشانی سے نکال کر کسی ایسی جگہ رکھ دے جہاں میں اس کی زِیارت کر سکوں  ۔ ‘‘ تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے نُورِ محمدی حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کی اَنگُشتِ شہادت میں منتقل فرما دیا ۔  (حکایتیں اور نصیحتیں ، ص ۴۶۹ )

جانِ عالَم کی دُنیا میں جَلوہ گری

پھریہ مُبارک نُور اَصلاب ِطیبہ سے اَرحامِ طاہرہ میں منتقل ہوتا ہوا حضرت سَیِّدَتُنا آمنہ رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰیعَنْہا کے بطنِ اَطہر میں ظاہرہوا اور بارہ ربیع الاوَّل شریف بروز پیرصُبحِ صادق کی ضِیابار سُہانی گھڑی میں اَزَلی سَعادتوں اور اَبَدی مَسَرَّتوں کا نُور بن کر چمکا ۔

نہ کیوں آج جشنِ وِلادت منائیں                       نظر رَبّ کی رَحمت کے آثار آئے

عَدَد ہم کو بارہ کیوں ہونہ پیارا                           کہ بارہ تھی تاریخ جب یار آئے (وسائلِ بخشش، ص۴۷۸)

جس وقت سرکارِمکہ مُکرَّمہ ، سردارِ مَدینہ مُنوَّرہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وِلادت ہوئی تو سَعادت کی بارشیں ہونے لگیں ۔ ظُلمت وتاریکیاں چَھٹ گئیں اور سارا جہان نُزہت ونُور سے مَعْمُور ہوگیا  ۔ مَلائکہ آپس میں مُبارکیاں دینے لگے اور ہر آسمان میں ایک ستون زَبَرجَد کا قائم کیاگیا اور وِلادتِ باسَعادت کی بدولت نُوراَفشاں کردیا گیا ۔              (الخصائص الکبری (مترجم)، ص۱۵۲)

مومنووَقتِ اَدب ہے آمدِ محبوب رَبّ ہے            جائے آداب وطَرب ہے آمدشاہ عرب ہے

غُنچے چٹکے پھول مہکے شاخِ گل پر مُرغ چہکے                 روتا ہے شیطاں یہ کہہ کے آمدشاہِ عرب ہے

بج رہے شادیانے بُت لگے کلمہ سنانے                        ہر زباں پہ ہیں ترانے آمد شاہِ عرب ہے (قبالۂ بخشش ، ص۱۸۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلام کی وِلادت ِباسعادت کی  خُوشخبری سُن کر (آپ کے ) دادا ’’عبدالمطلب‘‘ خُوش خُوش حرمِ کعبہ سے اپنے گھر آئے اور والہانہ جوشِ مَحَبَّت میں اپنے پوتے کو کلیجے سے لگا لیا ۔  پھر کعبہ میں لے جا کر خیر وبَرَکت کی دُعا مانگی اور ’’محمد‘‘ نام رکھا ۔  (شرح الزرقانی، ولادتہ... الخ، ۱ /  ۲۳۲) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا ابو لہب کی لونڈی’’ثُوَیْبَہ‘‘ خوشی میں دوڑتی ہوئی گئی اور ’’ابو لہب‘‘ کو بھتیجا پیدا ہونے کی خوشخبری دی تو اس نے اس خوشی میں شہادت کی انگلی کے اشارہ سے ’’ثُوَیْبَہ‘‘ کو آزاد کر دیا جس کا ثمرہ ابو لہب کو یہ ملاکہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر والوں نے اس کوخواب میں دیکھااور حال پوچھا، تو اس نے اپنی اُنگلی اُٹھا کر یہ کہا کہ تم لوگوں سے جُدا ہونے کے بعد مجھے کچھ خیر(بھلائی) نہیں ملی بجز اس کے کہ ’’ثُوَیْبَہ‘‘ کو آزاد کرنے کے سبب سے اس اُنگلی کے ذَرِیعہ کچھ پانی پلا دیا جاتاہوں ۔ (بخاری، کتاب النکاح، باب وامہاتکم اللا تی ارضعنکم، ۳ / ۴۳۲، حدیث : ۵۱۰۱، شرح الزرقانی، ذکر رضاعہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  الخ، ۱ / ۲۵۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To