Book Name:Guldasta e Durood o Salam

جو شخص ’’صَلَّی اللّٰہُ علٰی مُحَمَّد‘‘ پڑھتا ہے تو وہ اپنے اُوپر رَحمت کے 70 دَروازے کھول لیتا ہے  ۔ ‘‘(القول البد یع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ والسلام الخ ، ص۲۷۷ ملتقطاً وملخصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صلَّی اللّٰہُ علٰی مُحَمَّدپڑ ھنے کی عادت بنایئے او راپنے اُوپر رَحمتوں کے خُوب خُوب دروازے کُھلوایئے ۔ بیان کردہ روایت میں حَضراتِ خِضَر و اِلیاس عَلَیہِمَاالسَّلام کا ذِکرِ خیر ہے ۔ رَحمتوں کے نُزُول اور بَرَکتوں کے حُصُول کی اُمید پر اِن حَضرات کے بارے میں ایمان اَفروز معلومات کیلئے ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت سے عرض و ارشاد سنئے اور اپناایمان تازہ کیجئے ۔

حضرت خضر  عَلَیْہِ السَّلَام  نبی ہیں

عرض  : حضرتِ خِضَرعَلَیْہِ السَّلام  نبی ہیں یا نہیں ؟

ارشاد  : جمہور(یعنی اکثر) کا مَذ ہب یِہی ہے اور صحیح بھی یِہی ہے کہ وہ نبی ہیں ، زِندہ ہیں ۔ (عمدۃ القارِی، کتاب العلم ، باب ماذکرفی ذہاب موسیٰ فی البحرالخ، ۲ / ۸۴، ۸۵، تحت الحدیث : ۷۳)

مزید فرماتے ہیں چار نبی زِندہ ہیں کہ اُن کو ( وَفات کی صُورت میں ) وَعدۂ الٰہِیَّہ ابھی آیا ہی نہیں ، یوں تو ہر نبی زِندہ ہے (جیسا کہ حدیثِ پاک میں آتا ہے ) ’’ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَأْکُلَ اَجْسَادَ الْاَنبِیَائِ فَنَبِیُّ اللّٰہِ حَیٌّ یُّرْزَقُ ۔  یعنی     بے شک اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ) نے حرام کیا ہے زمین پر کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصلٰوۃُوَالسَّلام کے جسموں کو خراب کرے ، تو اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ)کے نبی زندہ ہیں روزی دیئے جاتے ہیں ۔ ‘‘(اِبن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکروفاتہ ودفنہ، ۲ / ۲۹۱، حدیث : ۱۶۳۷)اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر ایک آن کومَحض تصدیقِ وعدئہ الہِٰیَّہ کے لیے موت طاری ہوتی ہے بعد اِس کے پھر اُن کو حیاتِ حقیقی حِسّی دُنیوی (یعنی دُنیا جیسی زِندگی) عطا ہوتی ہے ۔ خیر اِن چاروں میں سے دو آسمان پر ہیں اور دو زمین پر ۔ خِضَر و اِلیاس عَلَیہِمَا السَّلام زمین پر ہیں اور ادریس و عیسٰی  (عَلَیہِما السَّلام) آسمان پر ۔  (ملفوظات، ص۴۸۳تا ۴۸۴)

زمین والے دو نبی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!زمین پر جو دونبی ابھی تک حَیات ہیں یعنی خِضَر و الیاس  عَلَیہِما السَّلام ان کے بارے میں آتاہے کہ ہر سال حج میں یہ دونوں حضرات جمع ہوتے ہیں ، حج کرتے ہیں ، ختمِ حج پر زَمزم شریف کا پانی پیتے ہیں کہ وہ پانی سال بھر کے طَعام و شراب (یعنی کھانے ، پینے ) سے ان کو کِفایت کرتا ہے ۔ (ملفوظات، ص۵۰۵)

حضرتِ سَیِّدُناالیاس عَلَیْہِ السَّلام کے لئے اللّٰہ تعالیٰ نے تمام پہاڑوں اور حیوانات کومُسَخَّر فرما دیا اور آپ کو سترَّ اَنبیا عَلَیْھِمُ السَّلام کی طاقت بخش دی ۔  غَضَب و جَلال اورقُوَّت و طاقت میں حضرتِ سَیِّدُناموسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کا ہم پلّہ بنا دیا ۔  رِوایات میں آیا ہے کہ حضرت سَیِّدُنا اِلیاس اور حضرت سَیِّدُنا خضر عَلَیْہِمَا السَّلام ہر سال کے روزے بَیْتُ الْمَقْدِس میں اَدا کرتے ہیں اور ہر سال حج کے لئے مَکہ مُکرَّمہ جایا کرتے ہیں اور سال کے باقی دنوں میں حضرت سَیِّدُنا  اِلیاس عَلَیْہِ السَّلام تو جنگلوں اور میدانوں میں گَشْت فرماتے رہتے ہیں اور حضرت سَیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلام دریاؤں اور سمندروں کی سیر فرماتے رہتے ہیں اور یہ دونوں حضرات آخری زمانے میں وَفات پائیں گے ۔ (عجائب القران مع غرائب القران، ص۲۹۳)

آسمان والے دو نبی

اسی طرح دو اَنبیائے کرام آسمانوں میں زِندہ ہیں ان پر بھی وعدۂ الہٰی کے مطابق ابھی تک موت طاری نہیں ہوئی ۔ ان میں سے ایک حضرت سَیِّدُنا اِدریس عَلَیْہِ السَّلام ہیں ۔ آپ کااصل نام’’اخنوخ ‘‘ہے ۔ آپ کے والد حضرت  سَیِّدُنا شیث بن آدم عَلَیْہِمَا السَّلام ہیں ۔ سب سے پہلے قلم سے لکھنے والے آپ ہی ہیں ۔ کپڑوں کے سینے اور سلے ہوئے کپڑے پہننے کی اِبتدا بھی آپ ہی سے ہوئی ۔  اس سے پہلے لوگ جانوروں کی کھالیں پہنتے تھے ۔ سب سے پہلے ہتھیار بنانے والے ، ترازو اور پیمانے قائم کرنے والے اور علمِ نُجوم و حساب میں نظر فرمانے والے بھی آپ ہی ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ پر تیس صحیفے نازِل فرمائے اور آپ اللّٰہ تعالیٰ کی کتابوں کا بکثرت دَرس دیا کرتے تھے ۔ اس لئے آپ کا لَقَب ’’اِدریس ‘‘ ہو گیا اور آپ کا یہ لَقَب اس قَدر مشہور ہو اکہ بہت سے لوگوں کو آپ کا اَصلی نام معلوم ہی نہیں ۔

حضرت سَیِّدُنا کَعْبُ الاَحْبار  رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ  سے مروی ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا اِدریس عَلَیْہِ السَّلام نے ایک دن مَلکُ الْمَوت سے فرمایا کہ میں موت کا مزہ چکھنا چاہتا ہوں ، تم میری رُوح قبض کر کے دکھاؤ ۔  مَلکُ الْمَوت نے حُکم کی تعمیل کرتے ہوئے رُوح قَبْض کی اور اُسی وَقت آپ کی طرف لوٹا دی اور آپ زِندہ ہو گئے ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اب مجھے جہنَّم دکھاؤ تاکہ خوف ِ الٰہی زِیادہ ہو ۔  چُنانچہ ایساہی کیا گیا، جہنَّم کو دیکھ کر آپ نے داروغۂ جہنَّم سے فرمایاکہ دَروازہ کھو لو میں اس دروازے سے گزرنا چاہتا ہوں ، چُنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپ اس پرسے گُزرے ۔ پھر آپ نے مَلکُ الْمَوت سے فرمایا کہ مجھے  جَنَّت دکھاؤ، وہ آپ کو  جَنَّت میں لے گئے ۔ آپ دروازوں کو کھلوا کر  جَنَّت میں داخل ہوئے ۔ تھوڑی دیر اِنتظار کے بعد مَلکُ الْمَوت نے کہا کہ اب آپ اپنے مَقام پر تشریف لے چلئے ۔ تو آپ نے فرمایا کہ اب میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’ كُلُّ  نَفْسٍ   ذَآىٕقَةُ  الْمَوْتِؕ- ‘‘تو موت کا مزہ میں چکھ ہی چُکا ہوں اور اللّٰہ  تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ’’ وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ- ‘‘ کہ ہر شخص کو جہنَّم پر گزرنا ہے تو میں گزر چکا ۔ اب میں  جَنَّت میں پہنچ گیا اور  جنَّت میں پہنچنے والوں کے لئے خُداوند ِقُدُّوس نے یہ فرمایا ہے کہ ’’ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ ‘‘ کہ  جَنَّت میں داخل ہونے والے  جنَّت سے نکالے نہیں جائیں گے ۔ اب مجھے جَنَّت سے چلنے کے لئے کیوں کہتے ہو؟ اللّٰہ تعالیٰ نے ملک الموت کو وَحی بھیجی کہ حضرت اِدریس علیہ السَّلام نے جو کچھ کیا میرے اِذْن سے کیا اور وہ میرے ہی اِذْن سے جَنَّت میں داخل ہوئے ۔ لہٰذا تم انہیں چھوڑ دو ۔ وہ جَنَّت ہی میں رہیں گے ۔ چُنانچہ حضرت اِدریس  عَلَیْہ السَّلام  آسمانوں کے اُوپر جَنَّت میں ہیں اور زِندہ ہیں  ۔ (خزائن العرفان ، پ ۱۶، مریم، تحت الآیۃ :  ۵۷)

اوردوسرے نبی جو آسمانوں میں ہیں وہ حضرت عیسیٰ روحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامہیں ، انہیں بھی ابھی تک موت نہیں آئی ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے آپ کوبنی اِسرائیل کے پاس نبی بنا کر بھیجا تو آپ نے انہیں دِینِ خُدا وندی کی دَعوت دی ۔

جب حضرت عیسیٰ  عَلَیْہ السَّلام نے یہودیوں کے سامنے اپنی نَبُوَّت کا اِعلان فرمایا تو چونکہ یہودی توریت میں پڑھ چکے تھے کہ عیسیٰ عَلَیْہ السَّلام ان کے دِین کو منسوخ کردیں گے ۔ اس لئے یہودی آپ



Total Pages: 141

Go To