Book Name:Guldasta e Durood o Salam

حضرتِ سَیِّدُنااسماعِیل بن علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِینے اپنے والد سے روایت کیا کہ خَواب میں ایک مُحدِّث کو دیکھ کر دَریافت کیا کہ حق تعالیٰ نے کیا سُلوک کیا؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ مجھے بخش دیا گیا ۔ پوچھا کس سبب سے ؟ فرمایا :  ’’جب میں نبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا نامِ مُبارک لکھتا تھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِسمِ گرامی کے بعدان دو اُنگلیوں سے ’’صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ لکھا کرتا تھا ۔  ‘‘ (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۶۸)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ دُرُودِپاک پڑھنے اور لکھنے والے کا بہت بڑا مَقام ہے ۔ اَدب کا تقاضا یہی ہے کہ جب بھی سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکانامِ اَقدس لکھا جائے تو اس کے ساتھ ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ ضرور لکھیں اور صِرف لکھنے ہی پر اِکتِفا نہ کریں بلکہ زبان سے بھی دُرُود شریف پڑھیں ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دُرُود شریف لکھناواجِب ہے

          دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہکی مطبوعہ 1250 صفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت، جلد1صفحہ 534پر ہے  :  ’’جب سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا نامِ اَقدس لکھے تو دُرُودِ پاک ضرور لکھے کہ بعض عُلماکے نزدیک اس وقت دُرُود شریف لکھنا واجِب ہے  ۔ ‘‘

(در المختارو ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب :  نصّ العلماء علی استحباب الصلاۃ ۔ ۔ ۔ إلخ، ۲ / ۲۸۱)

’’ص‘‘ یا صَلْعَمْ لکھنا سَخْت حَرام ہے

          اکثر لوگ آجکل دُرُود شریف کے بدلے صَلْعَم ، عم، ؐ، اور  ؑ لکھتے ہیں ۔ یہ ناجائز و سخت حرام ہے ۔ یونہی ’’ رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ‘‘ کی جگہ’’    رض‘‘ ’’رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ‘‘ کی جگہ’’   رح ‘‘ لکھتے ہیں یہ بھی نہ چاہیے ۔ جن لوگوں کے نام محمد، اَحمد، علی، حسن، حُسین وغیرہ ہوتے ہیں ۔ اُن ناموں پر’’  ؐ ‘‘ ، ’’  ؑ‘‘بناتے ہیں یہ بھی مَمْنوع ہے کہ اس جگہ یہ شخص مُراد ہے ۔ اس پر دُرُود کا اِشارہ کیا معنیٰ؟(فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۳۸۷ و بہارشریعت ۱ / ۵۳۴)

          اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے نامِ مُبارک کے ساتھ بھیعَزَّوَجَلَّ یا جَلَّ جَلَالہ پُورا لکھیں ۔ آدھے جیم (ج) پر اِکتفا نہ کریں  ۔

          میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!آج کل کیسا نازُک دور ہے ۔ فُضُول مَضَامِین میں تو ہزارہا صَفْحات سِیاہ کردیئے جاتے ہیں لیکن جب میٹھے مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پیارا اِسمِ گرامی آتا ہے ۔ لکھنے والے بھائی ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ کی مُختصَر عِبارت لکھنے میں سُسْتی کرجاتے ہیں ۔ امام ِ اَہلسُنَّت عاشقِ ماہِ رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰنکی خِدْمَت میں اِسْتِفْتاء پیش ہوا ۔  مُسْتَفْتِی نے سوال میں ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ کی جگہ ’’صَلْعَم‘‘ لکھ دیا تھا ۔  اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس پر تَنْبیہ فرمائی ۔  چنانچہ ’’فتاویٰ اَفرِیقہ‘‘ میں تحریر ہے  :

            سوال میں ’’صلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم‘‘ کی جگہ ’’صَلْعَم‘‘لکھا ہے اور یہ سخت ناجائز ہے  ۔ یہ بَلا عوام تو عوام ۱۴ ویں صدی کے بڑے بڑے اَکابِر و فُحُول کہلانے والوں میں بھی پھیلی ہوئی ہے ، کوئی ’’صَلْعَم‘‘ لکھتا ہے ۔ کوئی ’’صللم‘‘ کوئی فقط ’’  ؐ ‘‘ کوئی ’’عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام‘‘کے بدلے ’’عم‘‘ یا’’ع م‘‘ ایک ذَرّہ سیاہی یا ایک اُنگل کاغذ یا ایک سیکنڈ وَقت بچانے کے لیے کیسی کیسی عظیم بَرَکات سے دُور پڑتے اورمَحرومی و بے نصیبی کا ڈانڈا پکڑتے ہیں ۔     (فتاوی افریقہ، ص۵۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’صَلْعَم ‘‘کے مُوجِد کا ہاتھ کاٹا گیا

حضرتِ سیِّدُناعلّامہ جلالُ الدِّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْکافِیْ فرماتے ہیں  :  ’’پہلا شخص جس نے دُرُود شریف کا اِختصار ایجاد کیا اُس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ ‘‘ (تدریب الراوی للسُیوطی، ص۲۸۴)اللّٰہ اکبر!(عَزَّوَجَلَّ) کتنا مَحَبَّت بھرا دَور تھا کہ ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ کا مُخَفَّفاِیجاد کرنے والے کا ہاتھ ہی کاٹ دیا گیا ۔  کیوں نہ ہو کہ جوصِرف مال کی چوری کرتا ہے اُس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اُس بدنصیب نے تو مال نہیں بلکہ عَظْمَتِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی چوری کرنے کی کوشش کی تھی ۔  اور جس کے دل میں عَظْمَتِ مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمراسِخ ہے وہ بخُوبی سمجھتا ہے کہ مال کی چوری سے شانِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں چوری کرنا زیادہ سَنگین جُرم ہے ۔ اور مذکورہ بالا سزا پھر بھی کم ہے لیکن اَفْسوس کہ آج کل تو یہ چوری عام ہوچکی ہے ۔ ہر کتاب، ہر رِسالہ، ہر اَخبار’’ صَلْعَم ‘‘ اور’’  ؐ ‘‘سے بھرا پڑا ہے ۔ اب نوبت لکھنے ہی کی حَد تک نہیں رہی بلکہ اب تو لوگوں کی زبان پر بھی ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ کے بجائے ’’  صَلْعَم‘‘ ہی سُنائی دینے لگا ہے !

یاد رکھیئے !’’صَلعم ‘‘ایک مُہمَل کَلِمہ ہے ۔ اس کے کوئی مَعْنیٰ نہیں بنتے ۔ (فتاوی افریقہ، ص۵۰ملخصاً) لہٰذا محمد مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی مَحَبَّت رکھنے والے اِسلامی بھائیو! جلد بازی سے کام نہ لیا کریں ۔ پورا ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ لکھنے ، پڑھنے کی عادَت ڈالیں ۔

 

صَلْعَم لکھنا مَحْرُوموں کا کام ہے

          حضرتِ سَیِّدُنا شیخ احمد بن شَہابُ الدِّین بن حَجر ہیتمی مکِّی علیہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنی ’’فَتَاویٰ حَدِیْثِیَہ‘‘ میں لکھتے ہیں  : ’’وَکَذَا اِسْمُ رَسُوْلِہٖ بِاَنْ یُّکْتَبَ عَقْبَہٗ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَدْ جَرَتْ عَادَۃُ الْخَلَفِ کَالسَّلَفِ، رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسِم گرامی کے بعد’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ‘‘ لکھا جائے کہ یوں ہی تمام سَلَف صالحین کا طریقہ چلا آرہا ہے  ۔ ‘‘ ’’وَلَا یُخْتَصَرُ بِکِتَابَتِھَا بِنَحْو ِ’’صَلَْعَمْ‘‘ فَاِنَّہٗ عَادَۃُ الْمَحْرُوْمِیْنَ ، یعنی دُرُودلکھتے وقت اِس کو اِختصار کرکے ’’صَلْعَم ‘‘نہ لکھا جائے کہ یہ مَحروم لوگوں کا کام ہے  ۔ ‘ ‘ (الفتاوی الحدیثیہ، مطلب فی بیان کیفیۃ وضع الکتب، ص۳۰۶) اور جو خوش نصیب لو گ نام مبارک کے ساتھ دُرُود پاک لکھنا پڑھنا اپنی عادت بنالیتے ہیں وہ اسکی بَرَکات بھی حاصل کرتے ہیں  ۔

’’وَسَلَّم‘‘پرچالیس نیکیاں

 



Total Pages: 141

Go To