Book Name:Guldasta e Durood o Salam

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!روزِقیامت نَفْسی نَفْسی کا عالَم ہوگا اور ایسے کڑے وَقت میں وہ شخص جس نے دُنیا میں حُضُورعَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام  کی ذات پر دُرُودِ پاک پڑھا ہوگا وہ قیامت کی ان سختیوں اور تکالیف سے محفوظ رہے گا  ۔ لہٰذا ہمیں بھی حُضُورِپاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عِشْق ومَحَبَّتمیں جُھوم جُھوم کردُرُود و سلام پڑھتے رہنا چاہیے اوراپنی زِندگی کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی قَبْر و حشر کی تیاری میں مشغول ہوجانا چاہئے ۔

یادرکھئے ! یہ دُنیا چند روزہ ہے اسکی راحت و مُصیبت سب فنا ہونے والی ہے ، یہاں کی دوستی اور دُشمنی سب خَتْم ہونے والی ہے ، دُنیاسے چلے جانے کے بعد بڑے سے بڑا رفیق و شفیق بھی ہمارے کام آنے والا نہیں ، مرنے کے بعد اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فَضْل و رَحمت اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شَفاعت کے صَدَقے میں ہماری بَخشِش فرمادے تو ہمارا بیڑا پار ، ورنہ قَبْر وحشر کا مُعامَلہ انْتِہائی سَخْت ہے ۔

قَبْر، جَنَّت کا باغ

ہماری نَجات اسی صورت میں ہے کہ ہم دُنیا میں رہتے ہوئے قَبروحشر کی تیاری میں مشغول ہوجائیں یاد رکھیں جس خُوش نصیب نے اپنی زِندگی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ او ر اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے احکامات کی بجا آوری میں بسر کی ہوگی جب مُنْکَر نَکیر قَبر میں اُس سے سُوالات کریں گے  : مَنْ رَّبُّکَ؟ ’’تیرا رَبّ کون ہے ؟ ‘‘تواسے جواب میں ثابت قدمی نصیب ہوگی کہے گا  :  رَبِّیَ اللّٰہ’’میرارَبّ اللّٰہعَزَّوَجَلَّہے  ۔ ‘‘ سُوال ہوگا :  مَادِیْنُکَ؟’’تیرا دین کیا ہے ؟ ‘ ‘  تو وہ کہے گا :  دِیْنِیَ الْاِسْلَام’’میرا دِین اسلام ہے  ۔ ‘‘

پھر نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا رُخِ اَنور دکھاکر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں اِسْتِفْسار ہوگا :   ’’مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِی ہَذَا الرَّجُلِ، اس ہستی کے بارے میں تُو کیا کہا کرتا تھا ؟‘‘ آپ کا چہرۂ اَنور دیکھ کر دل خُوشی سے جُھوم جائے گا اور بے ساختہ پُکار اُٹھے گا ’’ہُوَرَسُوْلُ اللّٰہ!‘‘یہ تو اللّٰہ کے رسول ہیں ، یہی تو میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں جن کے ذِکرِ خیر پر میں جُھوم جاتاتھا اور کیوں نہ ہوکہ ان کا ذِکر تو میرے دل کاسُرور اور میری آنکھوں کا نُور تھا اور جب اُن کانامِ نامی اسمِ گرامی سنتا تو عَقیدت سے انگوٹھے چُومتا اور دُرُودِ پاک پڑھا کرتا تھا، یہی تو میرے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں کہ جنکی یا د میرے لئے سرمایۂ حیات تھی ۔

تمھاری یاد کو کیسے نہ زندگی سمجھوں                                یہی تو ایک سہارا ہے زِندگی کیلئے

مرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رَحمتِ عالم                       میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کیلئے

 پھر جب سرکا رصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنا جلوۂ نور بار دکھا کرتشریف لے جانے لگیں گے تو کوئی بعید نہیں کہ وہ عاشقِ صادق آپ کے قدموں سے ایسے لپٹ جائے گویا عرض گزار ہو :

دل بھی پیاسا نظر بھی ہے پیاسی                                             کیا ہے ایسی بھی جانے کی جلدی

ٹھہرو، ٹھہرو! ذرا جانِ عالم!                                                   ہم نے جی بھر کے دیکھا نہیں ہے

یقینا ایسے میں ایک عاشقِ رسول کی یہی تمنا و خَواہش ہوگی کہ اے کاش! تاقیامِ قیامت میری قَبر میرے میٹھے میٹھے آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حسین جلووں سے مُنوَّر رہے ۔

خیرآخِری سُوال کا جواب دینے کے بعد جہنَّم کی کِھڑکی کھلے گی اور معاً (یعنی فوراً ہی) بند ہوجائے گی اور جنَّت کی کِھڑکی کُھل جائے گی پھر اس سے کہا جائیگا ، اگر تُو نے دُرُست جوابات نہ دئیے ہوتے تو تیرے لئے وہ دوزخ کی کِھڑکی ہوتی ۔  اب(تیرے لئے ) جَنَّتی کَفَن ہوگا ، جَنَّتی بچھونا ہوگا، قَبْر تاحدِّنظر وَسیع ہوگی اور مزے ہی مزے ہونگے  ۔

قبر میں گر نہ محمد کے نظارے ہوں گے                            حشر تک کیسے میں پھر تنہا رہوں گا یاربّ!

قبر محبوب کے جلووں سے بسا دے مالک                        تیرا کیا جائے گا میں شاد رہوں گا یاربّ !(وسائلِ بخشش، ص ۹۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ اِنعام و اِکرام تو اس خُوش نصیب کے لئے ہیں جس نے اپنی زِندگی قرآن و سُنَّت  کے مُطابق گزاری ہوگی ۔  لہٰذا ہمیں بھی شرعی اُصُولوں کے مُطابق اپنی زِندگی بسر کرنی چاہئے ۔ اگر ہمارے بُرے اعمال کی وَجہ سے اللّٰہ ربُّ العالمین جَلَّ جَلالہٗ ناراض ہوگیا اوراسکے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روٹھ گئے اورگُناہوں کے سبب مَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّایمان برباد ہوگیا تو ہمارا کیا بنے گا ؟ مُنْکَرنکیرکے سوالات کے جوابات کیونکر دے پائیں گے ؟

جَہَنَّم کا گڑھا

یادرکھئے ! مذکورہ تین سُوالات اُس بَد نصیب شخص سے بھی کیے جائیں گے کہ جس نے اپنی زِندگی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں بسر کی ہوگی ۔  فِرِشتے نہایت سخت لہجے میں اس سے سُوال کریں گے  :  مَنْ رَّبُّک ’’تیرا رَبّ کون ہے ؟‘‘آہ! ساری زِندگی تو رَبّ عَزَّوَجَلَّ کو یا د کیانہ تھا ! جواب نہیں بن پڑ رہا ہوگا اور جو بَدنصیب گناہوں کی وَجہ سے ا یمان برباد کر بیٹھا اُس کی زبان سے بے ساختہ نکل جائے گا :  ’’ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لَااَدْرِی ’’اَفسوس!اَفسوس! مجھے کچھ نہیں معلوم ۔ ‘ ‘ پھر پوچھا جائیگا  :  مَادِیْنُک ’’تیرا دِین کیا ہے ؟ ‘‘ جس بَد نصیب نے صرف اور صرف دُنیا ہی بسائی تھی، دُنیا ہی کے اِمتحان میں پاس ہونیکی فِکر اپنائی تھی ۔  قَبر کے اِمتِحان کی تیّاری کی طرف کبھی ذِہن ہی نہ گیا تھا ، بس صرف دُنیا کی رنگینیوں ہی میں کھویا ہوا تھا ، کچھ سمجھ نہیں آرہی اور زَبان سے نکل رہاہوگا ، ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لَااَدْرِی ’’اَفسوس ! اَفسوس! مجھے کچھ نہیں معلوم ۔ ‘‘پھراسے بھی وہی حَسین و جمیل نُور برساتا جلوہ دِکھایا جائے گا اور سُوال ہوگا  :  مَاکُنْتَ تَقُولُ فِی ہَذَا الرَّجُلِ ’’انکے بارے میں تو کیا کہتا تھا ؟‘‘ اس وَقت پہچان کیسے ہوگی! داڑھی سے تو اُنْسِیَّت تھی ہی نہیں ، انگریزی بال ہی اچھّے لگتے تھے ، اَغیار کا طریقہ ہی عزیز تھا، زِندگی بھر داڑھی مُنڈانے کا معمول رہاتھا ، یہ تو داڑھی شریف والی شخصیَّت ہے اور کبھی زِندَگی میں عِمامے کا سوچا بھی نہیں تھا یہ تشریف لانے والے بُزُرگ تو سرپر عمامہ شریف سجائے ہوئے خَمْدار مُعنبری زُلفوں والے ہیں ۔ مجھے توفَنکاروں اور گُلوکاروں کی پہچان تھی نجانے یہ کون صاحِب ہیں ؟ آہ ! جس کا خاتمہ ایمان پر نہیں ہُوا اس کے منہ سے نکلے گا  :  ھَیْھَاتَ ھَیْھَاتَ لَااَدْرِی ’’اَفسوس ! اَفسوس! مجھے کچھ نہیں معلوم ۔ ‘‘اتنے میں جنَّت کی کِھڑکی کُھلے گی اور فوراً بند ہوجائیگی پھرجہنَّم کی کھِڑکی کُھلے گی



Total Pages: 141

Go To