Book Name:Guldasta e Durood o Salam

طبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نور کواپنی قدرتِ کاملہ سے پیدا فرمایا جیسا کہ حدیثِ جابر رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ ہے  :  ’’اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرَ نَبِیِّکَ یَا جَابر یعنی اے جابر! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے سب سے پہلے تیرے نبی کے نُور کو پیدافرمایا  ۔ ‘‘ (کشف الخفاء ، حرف الہمزۃ مع الواو، ۱ /  ۲۳۷)

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا

یادرکھئے ! جب خالقِ اَرض و سماوات عَزَّوَجَلَّنے کائنات بسا نے کا اِرادہ فرمایا تو اس نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نُور کی تخلیق فرمائی، اس وَقت نہ جن تھے نہ انسان، نہ لوح تھی نہ قلم، نہ جَنَّت و دوزخ، نہ حُورو مَلک تھے ، نہ زمین و فَلک اورنہ ہی یہ مہر و ماہ وجودمیں آئے تھے ۔ اس وقت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوب کے نُورسے لَوح و قلم اور عرش وکُرسی پیدا فرمائے پھر اس نُورِ پاک سے آسمان و زمین اور جَنَّت و دوزخ کوبنایا، غرض یہ کہ حُضُورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ پا ک ہی مَقْصَدِ تخلیق کائنات ہے جیسا کہ حدیثِ قُدسی کامفہوم ہے حضرت سَیِّدُنا عبدُاللّٰہبن عباس رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہما سے روایت ہے  :  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو وحی بھیجی  : اے عیسیٰ! محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لا! اور تیری اُمَّت میں سے جو لوگ اس کا زَمانہ پائیں انہیں بھی حکم کرنا کہ اس پر ایمان لائیں ’’فَلَوْلَامُحَمَّدٌ مَاخَلَقْتُ اٰدَمَ وَلَوْلَامُحَمَّدٌ مَاخَلَقْتُ الْجَنَّۃَ وَلَاالنَّارَ، یعنی اگر محمدِ عربی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ گرامی نہ ہوتی تو میں نہ آدم کو پیدا کرتا، نہ ہی جَنَّت و دوزخ بناتا ۔ ‘‘ جب میں نے عرش کو پانی پر بنایا تووہ اس وَقت جُنْبِش کررہا تھا میں نے اس پر ’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘لکھ دیا، پس وہ ٹھہر گیا ۔

(الخصائص الکبری، باب خصوصیتہ بکتابۃ اسمہ الشریف الخ ، ۱ /  ۱۴)

بیان کردہ گُفْتگُوسے یہ بات واضح ہوگئی کہ دُنیا کی تما م اَشیا کو وجودکی دولت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کے تَوَسُّل سے ملی ہے ، آپ ہی اَصلِ کائنات اور مَنْبَعِ موجودات ہیں اورخُداتعالیٰ کے بعد آپ ہی کی ذاتِ بابرکات بُزُرگ وبَرتَر ہے ۔

یَاصَاحِبَ الْجَمَالِ وَیَاسَیِّدَ الْبَشَر

مِنْ وَّجْہِکَ الْمُنِیْرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَر

لَایُمْکِنُ الثَّنَاء کَمَا کَانَ حَقُّہٗ

بَعْد اَزْ خُدا بُزُرگ تُوئی قِصّہ مُخْتَصر

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سب سے اَوْلٰی واَعْلٰی ہمارا نبی

حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولانا سَیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الہَادِی خَزائنُ العرفانمیں آیتِ کریمہ ’’وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍط‘‘ (اور کوئی وہ ہے جسے سب پر دَرجوں بلند کیا) کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’ آیتِ کریمہ میں حُضُور عَلَیْہ السَّلامکی رِفْعت مرتبت کابیان فرمایا گیا اور نامِ مُبارک کی تصریح نہ کی گئی اس سے بھی حُضُور اَقْدس عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام کے عُلوِّ شان کا اِظہار مقصود ہے کہ ذاتِ والا کی یہ شان ہے کہ جب تمام اَنبیاء پر فَضِیلَت کا بیان کیا جائے تو سِوائے ذاتِ اَقْدس کے یہ وَصْف کسی پر صادق ہی نہ آئے اور کوئی اِشْتِباہ راہ نہ پاسکے ، حُضُور عَلَیْہِ الصلٰوۃُوَالسَّلام کے وہ خَصائِص و کمالات جن میں آپ تمام اَنبیا پر فائق و اَفْضَل ہیں اور آپ کا کوئی شریک نہیں بے شُمار ہیں کہ قرآن کریم میں یہ ارشاد ہوا :  ’’دَرَجوں بُلَند کیا‘‘ ان دَرَجوں کی کوئی شُمار قرآنِ کریم میں ذِکر نہیں فرمائی تو اب کون حَد لگاسکتا ہے  ۔ ان بے شُمار خَصائِص میں سے بعض کا اَجمالی ومُخْتَصَر بیان یہ ہے کہ آپ کی رِسالت عامَّہ ہے تمام کائنات آپ کی اُمَّت ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا  : ’’وَمَآاَرْسَلْنَاکَ اِلَّاکَآفَّۃً لِّلْنَّاسِ بَشِیْراً وَّنَذِیْراً ‘‘ دوسری آیت میں فرمایا : ’’لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا‘‘ مُسلم شریف کی حدیث میں ارشاد ہوا :  ’’اُرْسِلْتُ اِلیَ الْخَلَائِقِ کَآفَّۃً ‘‘اور آپ پرنَبوَّت خَتْم کی گئی قرآنِ پاک میں آپ کو خا تَمُ النَّبیّین فرمایا حدیث شریف میں ارشاد ہوا ’’خُتِمَبِیَ النَّبِیُّوْنَ‘‘آیاتِ بیَّنات و مُعْجزاتِ باہرات میں آپ کو تمام اَنبیاء پر اَفْضَل فرمایا گیا، آپ کی اُمَّت کو تمام اُمَّتوں پر اَفْضَل کیا گیا، شفاعتِ کُبرٰی آپ کو مرحمت ہوئی ، قُربِ خاص شبِ مِعْراج آپ کو مِلا، علمی و عملی کمالات میں آپ کو سب سے اَعلیٰ کیا اور اس کے علاوہ بے اِنتہا خَصائِص آپ کو عطا ہوئے ۔ ‘‘(خزائن العرفان، پ۳، البقرۃ ، تحت الآیۃ  : ۲۵۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہعَزَّوَجلَّ ! ہمیں حُضُورِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ اَقدس پرکثرت کے ساتھ دُرُود وسلام پڑھنے کی توفیق عطا فرما اور اپنے حبیب کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃُوَالتسْلِیْم کے وسیلے سے ہمیں دُنیا و آخرت میں سُرخروئی عطا فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭

بیان نمبر : 50

قِیامت کی وَحْشتوں سے نَجات پانے والا

حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اﷲ تَعالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبیِّ اکر م ، نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ مُعَظَّم ہے  :  ’’یَا اَیُّہَاالنَّاسُ اَنْجَاکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ اَہْوَالِہَا وَمَوَاطِنِہَا یعنی اے لوگو! قیامت کے دن اس کی وَحْشتوں اور دُشوار گزار گھاٹیوں سے نَجات پانے والاتم میں سے وہ شخص ہوگا، اَکْثَرُکُمْ عَلَیَّ صَلَاۃًفِی دَارِ الدُّنْیا جو دُنیا میں مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھتا ہوگا ۔ ‘‘ (کنزالعمال ، کتاب الاذکار، باب السادس فی الصلاۃ علیہ وعلی آلہالخ، ۱ / ۲۵۴، حدیث : ۲۲۲۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 141

Go To