Book Name:Guldasta e Durood o Salam

مختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ خُوشبودار ہے  : ’’ ایک بار جبریل اَمین نے حاضر ہو کر مجھے یوں سلام کیا  : ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ظَاھِرُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بَاطِنُ‘‘ میں نے کہا :  ’’اے جبریل! یہ صفات تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ہیں کہ اسی کو لائق ہیں مجھ سی مخلوق کی کیونکر ہوسکتی ہیں ؟ ‘‘ جبریل امین (عَلَیْہِ السَّلام)نے عرض کی :  ’’اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ان صِفات سے فَضِیلت دی اور تمام اَنبیاء ومُرسلین عَلَیْہِمُ السَّلام پر آپ کوخُصُوصیَّت بخشی اپنے نام اور وَصف سے آپ کے اَسماء و اَوصاف مُشْتَق فرمائے ، ’’سَمَّاکَ بِالْاَوَّلِ لِاَنَّکَ اَوَّلُ الْاَنْبِیَائِ خَلْقًا‘‘ آپ کوصفتِ اَوَّل سے اس لئے موصوف فرمایا کہ آپ پیدائش میں سب اَنبیاء سے مُقَدَّم ہیں ، ’’وَسَمَّاکَ بِالْاٰخِرِ لِاَنَّکَ اٰخِرُالْاَنْبِیَائِ فِی الْعَصْرِ، ا ور آخراس لیے رکھا کہ آپ پیغمبروں میں ز مانے کے اِعتبار سے مُؤخَّر ہیں  ۔ ‘‘ آپ باطن اس وجہ سے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے نام پاک کے ساتھ آپ کا نامِ نامی سنہرے نور سے عرش پر حضرتِ آدم صَفِیُّ اللّٰہعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی پیدائش سے دو ہزار برس پہلے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لکھ دیا پھر مجھے آپ کی ذاتِ بابرکت پر دُرُود بھیجنے کا حُکم دیا تو میں دو ہزار سال تک دُرُود بھیجتارہا، حتّٰی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کو مبعوث فرمایا  ۔ ‘‘ (شرح الشفا، الباب الثالث، فصل فی تشریف اللّٰہ تعالٰی بماسماہالخ، ۱ / ۵۱۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس روایت میں سَیِّدُالْمَلائِکَہ حضرت سَیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلام نے سیّدُ الَانْبِیَائِ وَ الْمُرْسَلِینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو صفتِ اَوَّل و آخِر کے ساتھ مُتَّصِفْ کیا اور آپ پر سَلام بھیجا ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماَوَّل بھی ہیں آخِر بھی، ظاہر بھی ہیں باطن بھی ۔ ہمیں چاہیے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دَربارِگوہر بار میں ہدیۂ دُرود وسلام پیش کریں تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی صفاتِ طیبہ کیساتھ دُرُود و سلام عرض کیا کریں ۔

مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاقحضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مَدَارِجُ النُّبُوَّۃ میں اس آیۂ مبارکہ ’’ہُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَ الْبَاطِنُ‘‘ (وہی اَوّل ، وہی آخر ، وہی ظاہر ، وہی باطن ہے ۔ ) کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’ یہ کلماتِ اعجاز اللّٰہ تعالیٰ کے اَسمائے حُسنیٰ میں حَمدو ثنا پر بھی مُشْتمِل ہیں کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی کِبْرِیائی کے ذِکر و بیان میں ارشاد فرمائے اورحُضُور اکرم سَیِّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نَعْت و صِفت کو بھی شامل ہیں کیونکہ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے ان صفات کے ساتھ آپ کی تَوصِیف فرمائی باوجود یکہ یہ اسماء، اسمائے الٰہی بھی ہیں ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ان صفات کو اپنے حبیبِ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْمکا نامِ پاک قراردے کر آپ کے حلیۂ مبارک، حسن و جمال اور کمالِ خصال کا آئینہ دار بنایا ۔ اگرچہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے تمام اَسماء سے مُتَّصِفْ ہیں اس کے باوجود خُصُوصیَّت کے ساتھ ان میں سے کچھ صفات کو بطور خاص شُمار کیا ۔ انہی میں سے اَوَّل ، آخر ، ظاہر، باطن بھی ہیں  ۔ ‘‘

مزید فرماتے ہیں  :  ’’اب رہایہ سوال کہ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلام کا اسمِ صفت اَوَّل کیسے ہے ؟ تو یہ اَوَّلِیَّت اسی بناپر ہے کہ آپ کی تَخلیق موجودات میں سب سے اَوَّل ہے  ۔ ‘‘چُنانچہ

صفتِ اَوَّل کی وُجُوہات

حدیث شریف میں ہے  :  ’’اَوَّلُ مَاخَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِی ، یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے سب سے پہلے میرے نُور کووجود بخشا ۔ ‘‘

دوسری وجہ یہ کہ آپ مرتبۂ نَبُوَّت میں بھی اَوَّل ہیں ۔ چُنانچہ حدیثِ پاک میں ہے ’’کُنْتُ نَبِیًّا وَّاِنَّ اٰدَمَ لَمُنْجَدِلٌ ، یعنی میں اس وَقت بھی نبی تھا جب آدم عَلَیْہِ السَّلام اپنے خمیر میں ہی تھے ۔ ‘‘

آپ کے اَوّلُ الْخَلْق ہونے کی تیسری وَجہ یہ ہے کہ آپ ہی روزِ میثاق سارے جہان سے پہلے جواب دینے والے تھے جب حق تعالیٰ نے فرمایا :  ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ (کیا میں تمہارا رَبّ نہیں ؟) تو سب نے کہا ، ’’قَالُوْا بَلٰی (سب بولے کیوں نہیں ) ‘‘

اور آپ ہی سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں اور روزِ محشر بابِ شَفاعت سب سے پہلے آپ ہی کیلئے کُھلے گا اور جَنَّت میں بھی سب سے پہلے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی جائیں گے ۔

صِفَتِ آخِر کی وُجُوہات

حُضُور عَلَیْہِ السَّلام  کو صفتِ آخر کے ساتھ اس لئے موصوف فرمایا گیا کہ سَبْقَت و اَوَّلِیَّت (یعنی پہلے آنے )کے باوجود بعثت و رسالت میں آپ آخر ہیں ۔ چنانچہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے  : ’’ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ و خَاتَمَ النَّبِیّٖن ، ہاں اللّٰہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے ۔ ‘‘

دوسری وَجہ یہ ہے کہ تمام آسمانی کتابو ں میں آپ کی کتاب یعنی قرآنِ کریم آخری اور تمام دِینوں میں آپ کا دِین آخری ہے ۔ چُنانچہ ارشاد فرمایا :  ’’نَحْنُ الْاٰخِرُونَ السَّابِقُونَ یعنی تمام سبقتوں کے باوجود بعثت میں ہم آخری ہیں ۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ظاہر وباطن ہونے کی وَجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : ’’ آپ کا ظاہر ہونا اس وَجہ سے ہے کہ آپ ہی کے اَنوار و تَجَلیَّات نے پورے آفاق کو گھیررکھا ہے جس سے سارا جہاں روشن ہے اور آپ کی صفتِ باطن سے مُراد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وہ اَسرار ہیں جن کی حقیقت کا اِدراک مُمکن نہیں ۔  (مدارج النبوۃ، ۱ / ۲)

میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہْلسُنَّت، پروانۂ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حضرتِ علّامہ مولانا امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن شبِ معراج کا تذکرہ کرتے ہوئے سرکار  عَلَیْہِ الصلٰوۃُ وَالسَّلام کی ان صِفاتِ حمیدہ کے بارے میں کچھ یوں فرماتے ہیں  :

نمازِ اَقْصٰی میں تھا یہی سِرّ، عِیاں ہو معنی اوّل آخر

کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر، جو سلطنت آگے کر گئے تھے (حدائقِ بخشش، ص۲۳۲)

وہی ہے اَوَّل وہی ہے آخر، وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر

اُسی کے جلوے اُسی سے ملنے ، اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے (حدائقِ بخشش، ص۲۳۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے سب اَنبیائے کرامعَلَیْھِمُ السَّلام  حتّٰی کہ حضرت سَیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام بلکہ ساری مخلوق اور تمام کائنات سے پہلے اپنے حبیب اور طبیبوں کے



Total Pages: 141

Go To