Book Name:Guldasta e Durood o Salam

محبوب ہے ۔ چُنانچہ

            صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامُفْتی محمد امجد علی اَعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  : ’’ حَبِیبِ مُکَرَّم، نَبِیِّ مُعَظَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسمِ پاک محمد و احمد ہیں اور ظاہر یہی ہے کہ یہ دونوں نام خود اللّٰہتعالیٰ نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے مُنْتَخَب فرمائے ، اگر یہ دونوں نام خُدا تعالیٰ کے نزدیک بہت پیارے نہ ہوتے تو اپنے محبوب کے لیے پسند نہ فرمایا ہوتا ۔ ‘‘ (بہارشریعت، ۳ /  ۶۰۱)

            اگر ہم بھی اس مُعزَّز و مُکرَّم نام سے بَرَکت حاصل کرنے کے لئے اپنے بیٹوں کا نام محمد رکھیں تویہ مُبارک نام ہماری بَخشش و مَغْفِرت کا ذَرِیعہ بن سکتاہے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی بَرَکت سے ہمیں  جَنَّت میں داخل فرمادیگا ۔  چُنانچہ

نامِ مُحمَّد کی بَرَکت

            سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و مختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمان خُوشبودار ہے  :  ’’مَنْ وَلَدَ لَہٗ مَوْلُوْدٌ فَسَمَّاہٗ مُحَمَّداً حُبّاً لِیْ وَتَبَرُّکاً بِاِسْمِیْ یعنی جس کے یہاں بچے کی وِلادت ہو اور وہ  مجھ سے مَحَبَّت اور میرے نام سے بَرَکت حاصل کرنے کے لئے اپنے لڑکے کانام محمد رکھ دے ، کَانَ ہُوَ وَمَوْلُوْدُہٗ فِی الْجَنَّۃِ تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جَنَّت کے حق دار قرار پائیں گے  ۔ ‘‘ (السیرۃ الحلبیہ، باب تسمیتہ محمداًواحمداً، ۱ /  ۱۲۱)

                ایک اور حدیثِ قُدسی میں ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمان باقرینہ ہے  :  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے  :  ’’وَعِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ لَا اُعَذِّبُ اَحَدًا تُسَمّٰی بِاِسْمِکَ فِی النَّارِ، یعنی اے محبوب! مجھے اپنی عزَّت وجَلال کی قسم!میں کسی ایسے بندے کو دَوزخ کا عذاب نہیں دوں گا جس نے اپنا نام تیرے نام پررکھاہوگا ۔ ‘‘ (ایضاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مُحَمَّد نام رکھو تو اس کی تَعْظِیم بھی کرو

            امیرُ الْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات ، علیُّ المُرتَضٰی شیرِخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  :  تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان عالیشان ہے  :  ’’اِذَا سَمَّیْتُمُ الْوَلَدَ مُحَمَّداً فَاَکْرِمُوْہ، یعنی جب تم کسی بچے کانام محمد رکھو تو پھر اس کی عزَّت کرو ، وَاَوْسِعُوْالَہٗ فِی الْمَجْلِسِ وَلَا تُقَبِّحُوْا لَہٗ وَجْہاً، اورمَجلس میں اس کیلئے جگہ کُشادہ کرو اور اس کے چہرے کی برائی بیان مت کرو ۔ ‘‘  (احکام شریعت، ص ـ۷۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            یادرکھئے ! جن کے نام محمد و احمد یا کسی مُقدَّس ہَسْتی کے نام پر رکھے جائیں تو ان کا اَدب بھی ہم پر لازِم ہے ۔ لیکن فی زمانہ ہمارے مُعاشَرے میں نام تو اچھے اچھے رکھے جاتے ہیں لیکن بَدقِسمتی سے ان مبارک اَسماء کا اِحْتِرام بالکل نہیں کیا جاتا اور انہیں بگاڑ کر عجیب و غریب ناموں سے پکارا جاتا ہے حالانکہ ہمارے اَسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام کی یہ عادت کریمہ تھی کہ مُقدَّس ناموں کا حتّی الامکان اَدب واِحْتِرام بجا لایا کرتے ۔ چُنانچہ

بے وضو نام مُحَمَّد نہ لینے والے بُزُرگ

            مشہور بادشاہ، سُلطان محمود غَزنوی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقوی ایک زَبر دَست عالمِ دین اور صوم و صلوٰۃ کے پابندتھے اور باقاعدگی کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کیا کرتے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی ساری زِندگی عَین دینِ اسلام کے مُطابق گزاری اور پرچمِ اسلام کی سربُلَندی اور اِعلائے کلمۃُ اللّٰہ کے لئے بہت سی جنگیں لڑیں اورفتحیاب ہوئے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ شُجاعت وبہادری کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عَظِیْم مَنْصَب پر بھی فائز تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فرمانبردار غلام ایازکا ایک بیٹا تھا جس کا نام محمد تھا ۔  حضرت محمود غزنوی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقوی جب بھی اس لڑکے کو بُلاتے تو اس کے نام سے پُکارتے ، ایک دن آپ نے خِلافِ معمول اُسے اے اِبنِ ایاز ! کہہ کر مُخاطب کیا ۔  ایاز کو گمان ہوا کہ شاید بادشاہ آج ناراض ہیں اس لئے میرے بیٹے کو نام سے نہیں پکارا ، وہ آپ کے دَربار میں حاضِر ہوا اور عرض کی :  حُضُور! میرے بیٹے سے آج کوئی خَطا سَرزد ہوگئی جو آپ نے اس کا نام چھوڑ کر اِبنِ ایاز کہہ کر پکارا؟ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا  : ’’میں اسمِ محمد کی تَعْظِیْم کی خاطِر تمہارے بیٹے کا نام بے وضونہیں لیتا چُونکہ اس وَقت میں بے وضو تھا اس لیے لفظِ محمد کو بِلا وضو لبوں پر لانا مناسب نہ سمجھا ۔ ‘‘

لو جُھوم کے نام محمدکا، اس نام سے راحت ہوتی ہے

اس نام کے صَدقے بٹتے ہیں ، اس نام سے بَرَکت ہوتی ہے

اپنے تونیازی اپنے ہیں ، غیروں نے بھی ہم سے پیار کیا

سب نامِ نبی کا صَدَقہ ہے ، اپنی جو یہ عزَّت ہوتی ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجلَّ! ہمیں حُضُورِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تَعْظِیم کرنے اور آپ کی ذاتِ پاک پر کثرت کیساتھ دُرُود و سلام پڑھنے کی توفیق عطا فرما ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

بیان نمبر : 49

وہی اوَّل وہی آخِر

حضرت عَلَّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْبارِی شَرْحُ الشِّفَائمیں ایک حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں ، حضرت سَیِّدُنا عبدُاﷲبن عباس  رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰیعَنْہُماسے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، دو عالم کے مالِک و



Total Pages: 141

Go To