Book Name:Guldasta e Durood o Salam

بے گور و کَفَن گَندگی کے ڈھیر پر ڈال دیا ۔  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کی طرف وَحْی بھیجی کہ ہمارا ایک دوست فوت ہوگیا ہے اور لوگوں نے اسے گَندگی پر پھینک دیا ۔  تم اُسکو اُٹھاؤ اور عِزَّت واِحْتِرام کے ساتھ اس کی تَجْہِیْزو تَکْفِیْن کرو اور اس کا جَنازہ پڑھادو ۔  یہ سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ وہ تو ایک گُنہگار شخص تھا، آپ کو حیر ت تو بہت ہوئی لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حُکم کی تعمیل کرتے ہوئے آپ عَلَیْہِ السَّلام نے نہایت اِعزاز و اِکرام کیساتھ اس شخص کی تَجْہِیْزو تَکْفِیْن کی اور نمازِ جنازہ پڑھا کر دَفنا دیا ۔  بعد میں آپ عَلَیْہِ السَّلام نے دَربارِالہٰی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی :  ، یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! یہ شخص تو بڑا مُجرم و خَطا کار تھا ، ایسے اِعزاز کا حَقْدار کیسے ہوگیا ؟ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے فرمایا :  اے موسیٰ ! تھا تو یہ واقعی بہت گُنہگار اور سخت سزا کا حَقْدار مگر اسکی یہ عادت تھی کہ جب کبھی توریت کھولتا : وَنَظَرَاِلٰی اِسْمِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَبَّلَہٗ وَوَضَعَہٗ عَلٰی عَیْنَیْہِ وَ صَلّٰی عَلَیْہ، اور محمدِ عربی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے  نامِ پاک کو دیکھتا  تو فرطِ مَحَبَّت سے اس نامِ پاک کو چومتا، اسے آنکھوں سے لگاتا اور آپ کی ذاتِ طیبہ پر دُرُودِ پاک کے پھول نچھاور کرتا تھا، ’’فَشَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہٗ وَغَفَرْتُ ذُنُوْبَہٗ وَزَوَّجْتُہٗ سَبْعِیْنَ حَوْرَائَ، پس میں نے (اسی عمل کی وجہ سے ) اسے قدر و منزلت عطا کی اس کے گُناہوں کومُعاف کردیا اور ستَّر حُوریں اس کے نِکاح میں دیں  ۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء، وہب بن منبہ، ۴ / ۴۵، حدیث : ۴۶۹۵ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ جو شخص اِنتہائی گُنہگار اور لوگوں کی نظر میں حَقیر تھا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نامِ نامی اسمِ گرامی کی تَعْظِیم و تَوقِیر کرنے ، اس کو چوم کر آنکھوں سے لگانے اور آپ کی ذاتِ اَقدس پر دُرُودِپاک پڑھنے کی بَرَکت سے اس کے تمام گُناہ مُعاف فرمادئیے اور اس کایہ عمل اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو اس قَدر پسند آیا کہ اسے مقبولِ بارگاہ بنا لیا ۔  ہمیں بھی چاہیے کہ جب بھی حُضُورِ پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مُبارک نام پڑھیں یا سنیں تو تَعْظِیم کی نِیَّت سے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگا ئیں اور آپ کی ذاتِ پاک پر دُرُودِپاک پڑھیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَعیَّت میں داخلِ جَنَّت ہونگے ۔ چُنانچہ

اَذان کے وَقت اَنگوٹھے چُومنے کاثواب

          فتاوٰی شامی میں ہے کہ جب مؤذن اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہِکہے تو مستحب ہے کہ سننے والا کہے ’’صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‘‘اور جب دوسری مرتبہ یہ کلمات سنے تو یوں کہے ’’قَرَّتْ عَیْنِی بِک یَا رَسُولَ اللَّہِ اللّٰہُمَّ مَتِّعْنِی بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ ‘‘اور انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگائے ایسا کرنے والے کو نبیِ کریم، رَء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے ساتھ جنَّت میں لے جائیں گے ۔

            علامہ شامی قُدِّسَ سرُّہُ السَّامی کتابُ الْفِردوس کے حَوالے سے مزید فرماتے ہیں  : ’’ مَنْ قَبَّلَ ظُفْرَیْ اِبْہَامِہِ عِنْدَ سَمَاعِ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰہِ فِی الْاَذَانِ‘‘یعنی جوشخص اَذان میں ’’اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہ ‘‘سن کر اپنے انگوٹھوں کے ناخنوں کوچوم لیا کرے گا’’اَنَا قَائِدُہُ وَمُدْخِلُہُ فِی صُفُوفِ الْجَنَّۃِ‘‘میں ایسے شخص کی قِیادت کروں گااور اُسے جَنَّت کی صفوں میں داخل کروں گا ۔ ‘‘

(درمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ ، مطلب فی کراہۃتکرار الجماعۃفی المسجد، ۲  / ۸۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سرکار کے اَسمائے مُبارَکہ

          یاد رکھئے ! یوں تو حُضُور نبیِّ اکرم، نورِمُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُتَعدَّد اسمائے گرامی ہیں ۔ بعض محدثین کرام رَحِمہُم اللّٰہ السَّلام فرماتے ہیں  : ’’جس طرح اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کے نناوے (صفاتی )نام ہیں اسی طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھی نناوے (صفاتی)ناموں سے نوازا ہے ۔ اِبنِ عربی (مالکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی) نے عارِضَۃُ الاَحْوَذِی میں نقل کیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے ہزار  نام ہیں اور نبیِّ کریم رَء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بھی ہزار  نام ہیں ابنِ فارس سے منقول ہے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَسمائے شریفہ دوہزار سے زائد ہیں  ۔ ان میں سے ہر ایک نام آپ کی سیرت وکردار کے کسی نہ کسی پہلوکو اُجاگر کرتاہے ۔ یہ بھی ذِہن نشین رہے کہ جس طرح اللّٰہربُ العزَّت جَلَّ جَلَالُہٗ کے بے شُمار نام ہیں مگر ذاتی نام صرف ایک ہے یعنی ’’اللّٰہ‘‘ اسی طرح حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسماء کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے اور حُضُور عَلَیْہِ السَّلام کے بھی کثیر نام ہونے کے باوجودآپ کا ذاتی نام ایک ہی ہے اور وہ ’’محمد‘‘ ہے ۔ یہ وہ نام ہے جسیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے روزِاَوَّل ہی سے آپ کے لئے چُن لیا تھا ۔  (مطالع المسرات مترجم، ص ۱۹۳، ملتقطاًمفہوماً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسمِ محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکس قَدر پیارا ہے کہ اس کے سنتے ہی فرطِ تَعْظِیْم سے اہلِ مَحَبَّت جُھوم اُٹھتے ہیں اور عاشقانِ رسول کی زبان پر بے ساختہ دُرُود و سلام جاری ہوجاتا ہے اور یہ سب  تَعْظِیْم وتَوقیر کیوں نہ ہوکہ محمد تو کہتے ہی اُسے ہیں جو قابلِ صَد سَتائش و تعریف ہو کیونکہ لفظِ محمد ’’حمد ‘‘سے مُشْتَق (یعنی بنا )ہے اور حمد کے معنی مَدْح و ثَنا بیان کرنے کے ہیں تواس طرح لفظِ محمد کا معنی ہوا وہ ذات جس کی تعریف و توصیف بیان کی جائے ۔ امام راغب اَصْفَہانی  قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانیاسمِ محمد کے بارے میں فرماتے ہیں  :  ’’وَمُحَمّدٌ اِذَا کَثُرَتْ خِصَالُہٗ الْمَحْمُوْدَۃُ، محمد اس ذات کو کہا جاتا ہے جس میں قابلِ تعریف خَصْلَتیں بہت کثرت سے پائی جائیں ۔ ‘‘ (المفردات ، ص ۲۵۶)

آنکھوں  کا  تار ا  نام مُحمَّد

دل  کا  اُجالا نام  مُحمَّد

ہیں یوں توکثرت سے نام لیکن

سب سے ہے پیارا ناممُحمَّد   (قبالۂ بخشش، ص۷۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پیارے آقا، مکّی مَدَنی مُصْطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذات کی طرح آپ کا نام بھی ہر عیب و نَقْص اور خامی سے پاک ہے اور یہ نام اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ