Book Name:Guldasta e Durood o Salam

وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًاؕ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ (پ۱۲، ہود :  ۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان  :  اور اے قوم میں تم سے کچھ اس پر (یعنی تبلیغِ رسالت پر ) مال نہیں مانگتا  ۔

اسی طرح جب حضرت ہود عَلیہِ السَّلام نے اپنی قوم کو اَحکامِ خُداوندی اور عبادتِ الٰہی کی طرف راغب کرنے اور مَعْصِیَّتسے بچنے کے لئے نیکی کی دعوت پیش کی تو فرمایا  :

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاؕ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْؕ- (پ۱۲، ہود  : ۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان  : اے قوم میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میری مزدوری تو اسی کے ذمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا  ۔

مگر قربان جائیے سرکارِ دوعالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کہ آپ کی بارگاہ میں تو لوگوں نے تبلیغِ دین کے احسانِ عظیم کے پیشِ نظر کثیر مال و زر پیش بھی کردیا مگر آپ نے اسے ٹُھکراتے ہوئے اپنے اَہلِ بیت سے مَحَبَّت  کا مُطالَبہ کیا ۔ چُنانچہ

اہلِ بیت سے مَحبَّت کا مطالبہ

حضرت سَیِّدُناابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہُماسے مروی ہے کہ جب نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممَدینہ طیّبہ میں رونق اَفروز ہوئے اور اَنصار نے دیکھا کہ حُضُور عَلَیْہ الصَّلٰوۃُالسَّلام کے ذِمّہ مَصارِف بہت ہیں اور مال کچھ بھی نہیں ہے تو اُنہوں نے آپس میں مَشوَرہ کیا اور حُضُور کے حُقُوق و اِحسانات یاد کر کے حُضُورکی خِدْمَت میں پیش کرنے کے لئے بہت سا مال جمع کیا اور اس کو لے کر خِدْمتِ اَقدس میں حاضِر ہوئے اور عرض کی کہ حُضُور کی بدولت ہمیں ہدایت ہوئی، ہم نے گمراہی سے نَجات پائی ، ہم دیکھتے ہیں ، کہ حُضُور کے مَصارِف بہت زِیادہ، اس لئے ہم یہ مال خُدّامِ آستانہ کی خِدْمَت میں نذر کے لئے لائے ہیں ، قَبول فرما کر ہماری عِزَّت اَفزائی کی جائے ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔  (خزائن العرفان)

قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ- (پ۲۵، الشورٰی : ۲۳ )

ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ میں اس پر(یعنی تبلیغ رسالت اور ارشاد وہدایت )پر تم سے کچھ اُجرت نہیں مانگتامگر قرابت کی محبّت (تم پر لازم ہے ) ۔

گویا انہیں یہ باور کرا دیا گیا کہ اس تبلیغ و اِشاعتِ دین پر اگر تم سے کچھ مطلوب ہے تو محض یہ کہ میرے اَہلِ بیت کیمَحَبَّت کو لازِم کرلو اوران کا عِشق اپنے دل میں بسا کر ان کے دامنِ کرم سے وابستہ جاؤ ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ اس آیتِ کریمہ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے کس پیارے اَنداز میں نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کلمہ پڑھانے ، لوگوں کو دولتِ ایمان عطا فرمانے ، انہیں ضَلالت وگمراہی کے اَندھیروں سے نکال کر رُشدو ہِدایت کی روشنی میں لانے اور کُفر وشِرک کی طَلاطُم خَیز موجوں میں ڈوبنے والوں کو دِین و ایمان کی کشتی میں سوار کرکے انہیں کنارے لگانے کا صِلہ صرفمَحَبَّت اَہلِ بیت کی صورت میں طلب کیا جارہا ہے ۔

            اگر کوئی شخص قَبولِ اسلام کے بعد ساری زِندگی صوم و صلوٰۃ کا پابند رہے ، حج و زکوٰۃ کے فریضے کو بھی بحسن وخُوبی اَدا کرتا رہے اور ساری ساری رات عِبادت میں گزار دے لیکن اس کے دل میں مَحَبَّت ِرسول اورمَحَبَّتِ اَہلِ بیت نہیں ہے تو اس کاایمان قابل قَبول نہیں ۔ اس بات کی وَضاحت کرتے ہوئے سرکارِ نامدار، دوعالم کے مالِک و مختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشادفرماتے ہیں  : ’’ لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ نَفْسِہٖ ‘‘کوئی اس وَقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کی جان سے زِیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ’’وَتَکُوْنَ عِتْرَتِیْ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ عِتْرَتِہِ‘‘اورمیری اَولاد اس کو اپنی اَولادسے پیاری نہ ہو ۔  (شعب الایمان ، فصل فی براء ۃ نبینا الخ ، ۲ /  ۱۸۹، حدیث : ۱۵۰۵)

            حضرت سَیِّدُناعبدُاللّٰہ بن عباس  رضِی اللّٰہ تَعالٰیعنْہُما سے روایت ہے کہ حُضُور تاجدار مدینہ ، راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ باقرینہ ہے  :   ’’اَحِبُّوا اللّٰہَ لِمَا یَغْذُوْکُمْ مِنْ نِعَمِہِ، تم اللّٰہ عزّوجلّ سیمَحَبَّت رکھو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں میں سے کھلاتا ہے ، ’’واَحِبُّوْنِیْ بِحُبِّ اللّٰہِ وَاَحِبُّوا اَہْلَ بَیْتِی بِحُبِّیْ، اور اللّٰہ عزّوجلَّ سے مَحَبَّتکی وجہ سے مجھ سے مَحَبَّت کرواور میری مَحَبَّت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے مَحَبَّت رکھو ۔ (ترمذی ، کتاب المناقب باب مناقب اہل ببیت النبی ، ۵ / ۴۳۴، حدیث : ۳۸۱۴ )

باغ جنت کے ہیں بہر مدحِ خَوان اہلبیت                         تم کو مُژدہ نار کا اے دُشمنان اہلبیت

کس زباں سے ہو بیان عز وشان اہلبیت                          مدح گوئے مصطفی ہے مدح خوانِ اہلبیت

ان کی پاکی کا خدائے پاک کرتا ہے بیان                           آیۂ تطہیرسے ظاہر ہے شانِ اہلبیت

ان کے گھرمیں بے اجازت جبرئیل آتے نہیں                قدر والے جانتے ہیں قدر وشان اہلبیت

(ذوقِ نعت ، ص۷۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اے ہمارے پیارے اللّٰہ عزّوجلَّ! ہمیں حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر کثرت سے دُرُودِپاک پڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اہلِ بیت سے اُلفت و مَحَبَّترکھنے کی توفیق عطا فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 

٭٭٭٭

بیان نمبر : 47

دس دَرَجات کی بُلندی

 



Total Pages: 141

Go To