Book Name:Guldasta e Durood o Salam

ہونی چاہئے اور کیوں نہ ہو کہ قُرآنِ پاک کے ساتھ یہی تو وہ دوسری چیز ہے جسے مَضْبُوطی سے تھامنے کا سرکار عَلیْہ السَّلام نے ہمیں دَرس دیاہے ۔ چُنانچہ

دوبڑی اور اَہَمّ چیزیں

            حضرت سَیِّدُنازید بن اَرقم رضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نَبُوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ ہدایت نشان ہے  :  ’’اَنَا تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ‘‘ میں تمہارے دَرمیان دو بڑی اَہم چیزیں چھوڑ رہا ہوں ،  ’’اَوَّلُہُمَا کِتَابُ اللّٰہِ، فِیہِ الْہُدٰی وَالنُّورُ‘‘ان میں سے ایک تو کتابُ اللّٰہیعنی قرآنِ پاک ہے ، جس میں ہدایت بھی ہے اور نُور بھی ‘‘ ’’فَخُذُوا بِکِتَابِ اللّٰہِ وَاسْتَمْسِکُوْا بِہِ ‘‘، پس تم کتابُ اللّٰہ کو مَضْبُوطی سے تھامے رکھو ۔  وَاَہْلُ بَیْتِیْ‘‘اور دوسری چیز میرے اَہلِ بیت اور پھر تین مرتبہ ارشاد فرمایا :  ’’اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَہْلِ بَیْتِیْ، اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَہْلِ بَیْتِیْْ، اُذَکِّرُکُمُ اللّٰہَ فِیْ اَہْلِ بَیْتِیْ، یعنی میں تم کو اپنے اَہل بیت کے مُتَعلِّق اللّٰہ سے ڈراتا ہوں  ۔ ‘‘(مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل ابی بکرالصدیق، ص۱۳۱۲)

            مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مُفْتی احمد یار خان  عَلَیْہ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِس حدیثِ پاک کے تَحت فرماتے ہیں  :  ’’(ثَقَلَیْن سے مُراد)دو بھاری بھرکم چیزیں یا نفیس ترین چیزیں جو مَتاعِ ایمان میں سب سے زِیادہ قیمتی ہیں ، (ان میں سے پہلی قرآن مجید ہے ۔ )یعنی قرآنِ مجید میں عَقائد و اَعمال کی ہِدایت ہے اور یہ دُنیامیں دل کا نُورہے قیامت میں پُلصراط کا نُور(مزیدفرماتے ہیں  : ) اِسْتِمْسَاک کے معنی ہیں مَضْبُوتی سے تھامنا کہ چُھوٹ نہ جائے قرآن کریم کو ایسی مَضْبُوطی سے تھامو کہ زِندگی اس کے سایہ میں گزرے (اور)موت اس کے سایہ میں آئے ۔

خیال رہے کہ کتابُ اللّٰہمیں سُنَّتِ رسُول اللّٰہبھی داخل ہے کہ وہ کتابُ اللّٰہکی شرح اور اس پر عمل کرانے والی ہے سُنَّت کے بغیر کتابُاللّٰہ پر عمل ناممکن ہے لہذا یہ نہیں کہاجاسکتا کہ صرف قرآن کافی ہے ۔ حدیث کی ضَرورت نہیں بلکہ فقہ بھی کتابُ اللّٰہ کی ہی شرح یا حاشیہ ہے (اور دوسری چیز ’’میرے اَہل بیت ہیں ‘‘ اسکی شرح میں فرماتے ہیں ) یعنی میری اَولاد میری اَزواج جنابِ علی وغیرہم ان کی اِطاعت ان سیمَحَبَّتکرو ۔ ( حدیث پاک کے اس جز ’’میں تم کو اپنے اَہلِ بیت کے متعلق اللّٰہ سے ڈراتا ہوں ‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں ) ان کی نافرمانی بے اَدَبی بھول کر بھی نہ کرنا ورنہ دِین کھو بیٹھو گے خیال رہے کہ حضراتِ صحابہ اور اہلِ بیت کی لڑائیاں جھگڑے عَداوت وبُغْض کے نہ تھے بلکہ اِختلاف رائے کے تھے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بیان کردہ حدیثِ پاک میں نسلِ انسانی کی ہِدایت ورَہنمائی کے لیے سیِّدُ الْمُرسلین، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جن دو چیزوں کا ذِکر فرمایا ہے ان میں ایک قرآنِ پاک اور دوسری اَہلِ بیت اَطہار، تو جو مسلمان قرآنِ پاک پڑھ کے اس کے حلال وحرام پر عمل کرے اورساتھ ہی ساتھ اَہلِ بیت کی مَحَبَّت کو بھی اپنے دل میں بسالے تو وہ  Vکبھی گمراہ نہ ہوسکے گا ۔ غرضیکہ قرآنِ پاک کی  عَظْمَت کے ساتھ ساتھ اہلِ بیت کی تَعْظِیم وتَکریم ، اُلفت ومَحَبَّت اور ان کی غُلامی بھی ایک مسلمان کے لیے نہایت ضَروری ہے ۔ اگر کوئی ان دونوں میں سے کسی ایک چیز مثلاً قرآنِ پاک کو تو مرکزِ ہِدایت مانے مگراس کے دل میں اَہلِ بیت کی عَقیدت نہیں توایسا شخص راہ یاب نہیں ، یونہی اگر کوئی قرآنِ پاک کو چھوڑ کر صرف اَہلِ بیت ہی کو مَنْبعِ حق و صَداقت جانے تو اس کے لئے بھی نَجات کی کوئی صورت نہیں ۔ حقیقی معنوں میں وہی عاشقانِ رسول دُنیاو آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہیں جو قرآنِ پاک کو بھی راہِ نَجات مانتے ہیں اور اَہلِ بیت کیمَحَبَّت کو بھی اپنی رَہنمائی کے لیے مَشْعلِ راہ جانتے ہیں ۔

اَہلِ سُنَّت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور

نَجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسُول اللّٰہ کی  (حدائقِ بخشش، ص۱۵۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تین باتوں کی تعلیم

امیرُ الْمُؤمِنِینحضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتضٰی شیرِ خدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے کہنبیِّ کریم ، رء ُوْفٌ رّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیمکا فرمانِ دلنشین ہے  :  ’’اَدِّبُوْا اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلاثِ خِصَالٍ ، یعنی اپنے بچوں کو تین چیزیں سکھاؤ ، حُبِّ نَبِیِّکُمْ وَحُبِّ اَہْلِ بَیْتِہِِ وَقِرَائَ ۃِ الْقُرْاٰنِ ، اپنے نبی کی مَحَبَّت، اَہل بیت کی مَحَبَّتاور قرآنِ پاک پڑھنا ۔  ‘‘

(الصواعق المحرقہ، المقصد الثانی فیماتضمنتہ تلک الآیۃ من طلب محبۃ آلہ ، ص۱۷۲)

میٹھے میٹھے  اسلامی بھائیو ! ذِکر کردہ روایت سے بخوبی اَندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اپنے اَہلِ بیت سے کس قَدر مَحَبَّت فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام عَلَیْھِم الرِّضْوانکو اس بات کی تعلیم ارشاد فرما رہے ہیں کہ تم تو مجھ سے اور میرے اَہلِ بیت سے مَحَبَّت کرتے ہی ہو اپنی آنے والی نسلوں کے دلوں میں بھی میری اور میرے اَہل بیت کی مَحَبَّت راسخ کردینا تاکہ ان کا شُمار بھی نَجات یافتہ لوگوں میں ہوجائے ۔ چُنانچہ

سفینۂ نُوح

حضرت سَیِّدُناابوذَر غِفاری  رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ’’حُضُور نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا  :  ’’ اِنَّ مَثَلَ اَہْلِ بَیْتِیْ فِیْکُمْ مَثَلُ سَفِیْنَۃِ نُوْحٍ ، میرے اَہلِ بیت کی مثال نُو ح عَلَیْہِ السَّلام  کی کشتی کی طرح ہے ، ’’مَنْ رَکِبَہَا نَجَا، جو اس میں سوار ہوا اس نے نَجات پائی ، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْہَا ہَلَکَ، اور جو رہ گیا وہ غَرق ہوا ۔ ‘‘ (الصواعق المحرقہ، المقصد الخامس، الفصل الثانی فی سرد احادیث واردۃ فی اہل البیت، ص ۱۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قرآنِ پاک میں مُختلف انبیا ورُسل عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلامکے بارے میں آیا کہ اُنہوں نے توحیدِباری تعالی، احکامِ خداوندی اور اپنی رِسالت ونَبُوَّت کی تبلیغ فرمائی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ اس تبلیغ و اِشاعت پر ہم تم سے کسی مُعاوَضے اور بدلے کا مُطالَبہ نہیں کرتے ، اس نیک کام کا صِلہ اور ثواب تو ہمارا رَبّ عَزَّوَجلَّ ہی عطا فرمائے گا چنانچہ حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلام نے جب اپنی قوم کو عذابِ الہی سے ڈراتے ہوئے اَحکامِ خُداوندی کے مُعاملے میں اپنی اِطاعت کا دَرس دیاتو ارشادفرمایا :  

 



Total Pages: 141

Go To