Book Name:Guldasta e Durood o Salam

غیب کا یہ حال ہے تومکّے مدینے کے تاجدار، محبوبِ پروَرْدَگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِختیارات و علمِ غیب کی کیا شان ہوگی!وہ کیوں نہ اپنے غلاموں کو پہچانیں گے اور کیوں نہ اُن کی فریاد سُن کربِاِذنِ اللّٰہ تعالیٰ اِمداد فرمائیں گے !

فریاد اُمَّتی جو کرے حالِ زار میں

ممکن نہیں کہ خَیْر بَشر کو خبر نہ ہو (حدائقِ بخشش، ص۱۳۰)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !یقینا اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو غیب کا عِلم عطافرمایا ہے جبھی تو آپ اپنے ہراُ مَّتِی کے حالات سے باخبر ہیں اور وَقتًافَوقتًا انکی دَادرسی بھی فرماتے رہتے ہیں  ۔ اسکے علاوہ بھی اللّٰہ تَبارَکَ وتَعَالٰی نے اپنے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بے شُمارمُعْجِزات سے نَوازاہے اگر ہم عُمربھربھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَوْصاف وکَمالات نیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُود وسلام پڑھنے کے فَضائِل بیان کرتے اورسُنتے رہیں تو یہ خَتْم نہ ہوں  ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اَہلسنّت مُجدِّدِدین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰن بار گاہِ رِسالت میں عرض کرتے ہیں  :

تیرے تو وَصف عیبِ تَناہی سے ہیں بَرِی

حیراں ہُوں میرے شاہ میں کیا کیا کہُوں تجھے

لیکن رَضا نے ختمِ سُخن اس پہ کردیا

                      خالق کا بندہ خَلْق کا آقا کہوں تجھے (حدائق بخشش، ص۱۷۵)

            لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ خُوب خُوب حُضُور عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے فَضائِل وکمالات بیان کرتے رہیں اور ان سے حاصل ہونے والی بَرَکات سے مستفیض ہوتے رہیں  ۔ ان بَرَکتوں کو حاصل کرنے کا ایک ذَرِیعَہ آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ طیبہ پر دُرُود پاک پڑھنا بھی ہے آئیے ! ہم بھی دُرُود پاک کے کچھ فَضائِل سُنتے ہیں اور اسے اپنے روز و شب کا وَظِیفہ بنانے کی نِیَّت بھی کرتے ہیں ۔

آسمان کی مَسْجِد کا اِمام

حضرتِ سَیِّدُنا حَفْص بنعبدُاللّٰہ رَحِمَہُ اللّٰہکا بیان ہے کہ میں نے اِمام الْمُحَدِّثِینحضرتِ سَیِّدُنا اَبُو زُرْعَہ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو ان کی وَفات کے بعد خَواب میں دیکھاکہ وہ پہلے آسمان پرفِرِشتوں کو نَمازپڑھارہے ہیں  ۔ میں نے  دَریافت کیا :  اے اَبُو زُرْعَہ! کون سی عِبادت کے صِلے میں آپ کو یہ اِعْزازو اِکرام مِلا ہے  ۔ اُنہوں نے اِرشاد فرمایا : ’’ میں نے اپنے ہاتھ سے دس لاکھ حَدیثیں لکھی ہیں اور ہرحدیث میں ’’عَنِ النَّبِیِّ‘‘کے بعد ’’صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ ‘‘لکھا ہے اورتُم جانتے ہو کہ نبیِّ رَحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ جومُسلمان ایک مرتبہ مُجھ پردُرُود شریف بھیجتا ہے تو اللّٰہتَعَالٰیاس پر دس رَحمتیں نازِل فرماتاہے  ۔ یہ دُرُود شریف کی بَرَکت ہے کہ خُداوَندِ عالَم نے مجھے فِرِشتوں کا امام بنادیا ہے  ۔ ‘‘ (شرح الصدور، باب فی نبذ من اخبار من راٰی الموتی فی منامہالخ، ص  :  ۲۹۴ملخصًا)

            ایک شاعر نے دُرُود وسلام کے حوالے سے کیا خُوب کہا ہے  :

نظر کا نُور، دلوں کیلئے قَرار دُرُود                                      عَقِیدتوں کا چَمن، رُوح کا نِکھار دُرُود

چراغِ یاسِ مُسلسل کے گُھپ اَندھیروں میں                      غَموں کی دُھوپ میں ہے ابرِ سایہ دار دُرُود

دُرُود رُوح کی بالِیدگی کا ساماں ہے                                    جَبِینِ شوق کو دیتا ہے اک نِکھار دُرُود

دُرُود نغمۂ نعتِ نبی کا زِینہ ہے                                           سدا بہار دُعاؤں کا ہے وقار دُرُود

گُلاب ذِہن کے پردوں پہ کِھلنے لگتے ہیں                            زَباں پہ جب بھی مِری آتا ہے مُشکبار دُرُود

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حِکایت سے جہاں حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوزُرْعَہ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکی عَظْمَت وبُزُرگی ظاہر ہوتی ہے وہیں یہ دَرس بھی مِلتا ہے کہ جس طرح زبان سے دُرُودوسلام پڑھنے کابے شُماراَجروثواب ہے اسی طرح نبیِّ پاک، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نامِ نامی اسمِ گرامی کے ساتھ دُرُودوسلام کا لکھنا بھی مُوجِبِ برکات ہے ۔ چُنانچہ اس ضِمن میں چند رِوایات سُنئے اور دُرُودِپاک لکھنے کی عادَت بنائیے  ۔

فِرِشْتے صُبْح و شام دُرُود بھیجتے رہیں گے

          حضرتِ سَیِّدُنا جَعْفَر بن محمدرَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کَلام سے مَوْقُوفاً مَرْوی ہے  : ’’جس نے کتاب میں رسُول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود لکھا، جب تک آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا نام کتاب میں رہے گا فِرِشتے اِس شخص پرصُبح وشام دُرُود بھیجتے رہیں گے  ۔ ‘‘ (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۶۱ )

دواُنگلیوں کے سَبب مَغْفِرت ہوگئی

حضرتِ سَیِّدُنا ابُوالْفَضْل اَلکِنْدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی کو اِنتقال کے بعد عیسیٰ بن عَبَّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْجوَّادنے خَواب میں دیکھ کر دَریافت کیا کہ حق تعالیٰ نے کیا سُلوک کیا؟ اُنہوں نے جواب دیا، میرے ہاتھ کی صرف دو اُنگلیوں نے مجھے نَجات دلائی ہے  ۔ حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ بن عباد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجوَّادنے تَعجُّب و حیرانی سے پوچھا کہ اِس کا کیا مطلب ہے ؟اُنہوں نے فرمایا : ’’ بات یہ ہے کہ جب میں کِتاب میں نبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا نامِ مُبارک لکھتا تھا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِسمِ گرامی کے بعد ’’ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم‘‘ لکھا کرتا تھا ۔ ‘‘   (القول البدیع، الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص۴۶۸)

 



Total Pages: 141

Go To