Book Name:Ihtiram e Muslim

بچی ہوئی چیزیں  دوسروں کو دینے کی ترغیب

          ایک موقع پر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے سفر میں  ارشاد فرمایا :  ’’جس کے پاس زائد سُواری ہو وہ بے سُواری والے کوعطا کردے اور جس کے پاس بچی ہوئی خُوراک ہو وہ بغیرخوراک والے کوکھلا دے‘‘ اور اِسی طرح دوسری چیزوں  کے متعلق ارشاد فرمایا۔ حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اِسی طرح مال کی مختلف اَقسام ذِکر فرمائیں  حتّٰی کہ ہم نے محسوس کیاکہ بچی ہوئی چیز میں  سے کسی کو اپنے پاس رکھ لینے کا حق ہی نہیں  ہے۔(مُسلِم ص۹۵۲ حدیث۱۷۲۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ما تَحْتوں  کے بار ے میں  سُوال ہوگا

          ایک امیرقافلہ ہی نہیں  ،  ہرایک کو اپنے ماتحتوں  کے ساتھ حسن سلوک کرنا ضروری ہے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے محبوب ،  دانائے غُیُوب،  مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا فرمانِ ہِدایت نشان ہے : ’’تم میں سے ہرایک نگران ہے اور نگرانی کے متعلق سب سے پوچھ گچھ ہوگی بادشاہ نگران ہے ،  اُس کی رَعایاکے بارے میں  اُس سے سُوال ہوگااور مرد اپنے گھر کا نگران ہے اور اس کی رَعایا کے بارے میں  اُس سے سوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر میں  نگران ہے اوراس کی رَعایا کے بارے میں  اس سے سوال ہوگا۔‘‘ ( بُخاری ج۲ ص۱۱۲ حدیث۲۴۰۹)

  میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافلے میں  مسلسل سفر کی سعادت اور مَدَنی انعامات کا رسالہ پر کر کے ہر ما ہ جمع کروانے کی برکت سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  بطفیل مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    اپنے ماتحتوں  کے احترام کا وہ جذبہ نصیب ہوگاکہ  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ   ہر فرد خوش ہوکر آپ کو’’ دعائے مدینہ‘‘ سے نوازا کر ے گا۔    ؎

میں  دنیا کی دولت کا منگتا نہیں  ہوں

مجھے بھائیو !  دو دعائے مدینہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کاموں  کی تقسیم

          دَورانِ سفر کسی ایک پر سارا بوجھ ڈالدینے کے بجائے کاموں  کی آپس میں  تقسیم ہونی چاہئے ۔چنانچِہ ایک مرتبہ کسی سفر میں  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا اورکام تقسیم کرلیا،  کسی نے اپنے ذِمے ذبح کا کام لیا تو کسی نے کھال اُدَھیڑنے کا نیز کوئی پکانے کا ذِمے دار ہوگیا ،  سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  لکڑیاں  جمع کرنا میرے ذمے ہے۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  عرض گزار ہوئے :  آقا ! یہ بھی ہم ہی کرلیں  گے ۔ فرمایا : ’’یہ تو میں بھی جانتا ہوں  کہ تم یہ کام (بخوشی) کر لو گے مگر مجھے یہ پسند نہیں  کہ تم لوگوں  میں  نمایاں  رہوں  اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ  بھی اِس کو پسند نہیں  فرماتا۔‘‘(خلاصۃ سیر سید البشر لمحب الدین الطبری ص۷۵ ملخّصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دوسروں  کو اپنی نشست پر جگہ د یجئے

           ٹرین یا بس وغیرہ میں  اگرنشستیں  کم ہوں  تو یہ نہیں  ہونا چاہئے کہ بعض بیٹھے ہی رہیں  اور بعض کھڑے کھڑے ہی سفر کریں  ۔ہونا یہ چاہئے کہ موقع محل کی مناسبت سے سارے باری باری بیٹھیں  اودوسروں  کیلئے اپنی نشست ایثار کرکے ثواب کمائیں اور سیٹ ایثار کرکے اس صورت میں  بھی ثواب کمایا جاسکتاہے جبکہ سیٹ کی بکنگ کروارکھی ہو کہ بکنگ کروانے سے ایثار کرنا کوئی منع نہیں  ہوجاتا۔حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  کہ غزوۂ بدر میں  فی اونٹ تین افراد تھے۔ چنانچِہ حضرتِ ابولبابہ اور حضرتِ علی  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی



Total Pages: 14

Go To