Book Name:Ihtiram e Muslim

خوشبودار ہے : ’’قسم ہے اُس کی جس کے قبضۂِ قدرت میں میری جان ہے،   اگر قدم سے سر تک شوہر کے تمام جسم میں  زخم ہوں  جن سے پیپ اور کچ لہو(یعنی پیپ ملا خون) بہتا ہو پھر عورت اُسے چاٹے تب بھی حق شوہر ادا نہ کیا۔‘‘(مُسندِ اِمام احمد بن حنبل  ج۴ ص۳۱۸ حدیث۱۲۶۱۴)

شو ہر کا گھر نہ چھوڑ ے

    با ت بات پر رُوٹھ کر میکے چلی جانے والی عورَت اِس حدیثِ پاک کو بار بار اپنے کا نوں  پر دوہرائے اور دل کی گہرائیوں  میں  اُتارے ،  سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : اور (بیوی )بغیر اجازت اُس (یعنی شوہر ) کے گھر سے نہ جائے اگر(بلاضرورت ) ایسا کیا تو جب تک توبہ نہ کرے یاواپس لوٹ نہ آئے  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  اور فرشتے اُس پر لعنت کرتے ہیں۔(کَنْزُ الْعُمّال ج۱۶ ص۱۴۴ حدیث ۴۴۸۰۱  مُلَخَّصاً  )

اکثر عورَتیں  جہنّمی ہونے کا سبب

     بعض خواتین اپنے شوہروں  کی سخت نافرمانیاں اور نا شکریاں  کرتی ہیں  اور ذرا کوئی بات بری لگ جائے تو پچھلے تمام اِحسانات بھلا کر کوسنا شروع کردیتی ہیں۔ جو اسلامی بہنیں  بات بات پر لعنت ملامت کرتی اور پھٹکار برساتی رہتی ہیں ان کو ڈرجانا چاہئے کہ سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ایک بار عید کے روز عید گاہ تشریف لے جاتے ہوئے خواتین کی طرف گزرے تو فرمایا : ’’اے عَورَتو !  صدقہ کیا کرو کیونکہ میں نے اکثر تم کو جہنَّمی دیکھا ہے۔‘‘ خواتین نے عرض کی :  یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  اس کی وجہ  ؟  فرمایا :  ’’اس لئے کہ تم لعنت بہت کرتی ہو اوراپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ ‘‘ ( بُخاری ج۱ ص۱۲۳ حدیث۳۰۴)

پڑوسیوں  کی اَہَمِّیّت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے پڑوسیوں  کے ساتھ اچھا  برتاؤ کرے اور بلا مصلحت شرعی ان کے احترام میں  کمی نہ کرے۔ ایک شخص نے حضور سراپائے نور،  فیض گنجور،  شاہِ غیور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمتِ باعظمت میں عرض کی :   یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !   مجھے یہ کیوں  کر معلوم ہو کہ میں  نے اچھا کیا یا برا  ؟  فرمایا :  ’’جب تم پڑوسیوں  کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کیا،   تو بیشک تم نے اچھا کیا اور جب یہ کہتے سنو کہ تم نے برا کیا ،  تو بے شک تم نے برا کیاہے۔ ‘‘( اِبن ماجہ ج۴ ص۴۷۹ حدیث۴۲۲۳)

اعلٰی کردار کی سند

             اللہُ اکبر ! پڑوسیوں  کی اس قدر اَہَمِّیَّت کہ’’ کیریکٹر سر  ٹیفکیٹ‘‘ ان کے ذَرِیعے ملے ۔ افسوس  ! پھر بھی آج پڑوسیوں  کو کوئی خاطِر میں  نہیں  لاتا۔ عاشقان رسول کے مَدَنی قافِلے میں سفرکی سعادت اور ہر مَدَنی ماہمَدَنی اِنعامات کا رسالہ پر کر کے جمع کروانے کی برکت سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بطفیل مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پڑوسیوں  کی اَہَمِّیَّت دل میں  پیدا ہوگی اور ان کے احترا م کا ذِہن بنے گا اور  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  آپ کامحلہ باغِ مدینہ بن جائے گا۔     ؎

بہار آئے محلے میں  مرے بھی یَا رَسُولَ اللہ

اِدھر بھی تو جھڑی برسے کوئی رحمت کے بادل سے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

امیرِ قافِلہ کیسا ہو ؟

          سفر میں جو امیر قافلہ ہو اُس کواپنے رُفقا کا اِحترام اور ان کی بہت زیا د ہ خدمت کرنی چاہئے۔ چنانچِہ  فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  :  ’’سفر میں  وُہی امیر ہے جو اُن کی خدمت کرے،   جو شخص خدمت میں  بڑھ گیا تواُس کے رُفقا کسی عمل میں  اُس سے نہیں  بڑھ سکتے ہاں  اگر ان میں  سے کوئی شہید ہوجائے تو وُہی بڑھ جا ئے گا۔‘‘(شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۳۳۴ حدیث۸۴۰۷)

 



Total Pages: 14

Go To