Book Name:Ihtiram e Muslim

آئے اور رشتے داروں  سے تعلقات تازہ کرلے،   اِس طرح کرنے سے مَحَبَّت میں  اِضافہ ہوگا۔ (رَدُّالْمُحتارج۹ ص ۶۷۸) فی زمانہ رابطہ نہایت آسان ہے،   خط پہنچنے میں  کافی دیر لگتی ،   ہوسکے تو فون اورای میل کے ذَرِیعے بھی رابِطہ رکھا جا سکتا ہے کہ یہ بھی اِزدِیادحب( یعنی محبت بڑھانے ) کے ذرائع ہیں  ۔

قطع رِحم کی ایک صورت

    جب اپنا کوئی رشتے دار کوئی حاجت پیش کرے تو اس کی حاجت روائی کرے،   اس کو رَد کر دینا قطع رِحم(یعنی رشتہ کاٹنا) ہے۔(دُرَر،    ص۳۲۳)یاد رہے !  قطع رحمیعنی رشتہ کاٹنا حرام ہے ۔

 صِلَۂ رِحم یہ ہے کہ وہ توڑے تب بھی تم جوڑو

           صِلَہ ٔرِحمی(رشتے داروں  کے ساتھ اچھا سُلوک ) اِسی کا نام نہیں  کہ وہ سلوک کرے تو تم بھی کرو،   یہ چیز تو حقیقت میں  مکافاۃ یعنی اَدلا بدلا کرنا ہے کہ اُس نے تمہارے پاس چیز بھیج دی تم نے اُس کے پاس بھیج دی،   وہ تمہارے یہاں  آیا تم اُس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتاً صِلَۂ رِحم (یعنی کامِل دَرَجے کا  رشتے داروں  سے حسنِ سلوک)یہ ہے کہ وہ کاٹے اور تم جوڑو،   وہ تم سے جدا ہونا چاہتا ہے،   بے اِعتنائی (بے۔اِع ۔ تے۔ نائی ۔ یعنی لاپرواہی) کرتا ہے اور تم اُس کے ساتھ رشتے کے حقوق کی مراعات (یعنی لحاظ ورعایت) کرو۔(رَدُّالْمُحتارج۹ص۶۷۸)

ناراض رِشتے داروں  سے صلح کرلیجئے

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! میری آپ سے مَدَنی اِلتجا ہے کہ اگر آپ کی کسی رِشتے دار سے ناراضی ہے تو اگرچہ رِشتے دارہی کاقصور ہوصلح کیلئے خود پہل کیجئے اورخود آگے بڑھ کر خندہ پیشانی کے ساتھ اُس سے مل کر تعلُّقات سنوار لیجئے۔ہاں  اگر کوئی شَرعی مصلحت مانع(یعنی رُکاوٹ) ہے تو بے شک صلح نہ کی جائے۔ عاشقان رسول کے مَدَنی قافلوں  میں  سنتوں  کی تربیت کے لیے سنتوں  بھرا سفر اورروزانہ’’ فکرِ مدینہ‘‘ کے ذَرِیعے مَدَنی اِنعامات  کارِسالہ پر کر کے ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن اپنے یہاں  کے ذِمے دار کو جمع کروانے کی   برکت سے  اِنْ شَآءَاللہ تعالیٰ بطفیلِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  احترام مسلم کا آپ کے اندر وہ دَرد پیدا ہوگا کہ تمام روٹھے ہوئے رشتے داروں  سے نہ صرف صلح ہوجائے گی بلکہ وہاِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ   دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے بھی وابستہ ہوجائیں گے۔   ؎ 

سب شکر رنجیاں                   دور ہوں  گی میاں

قافِلے میں  چلیں                    قافلے میں  چلو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی فضیلت

       جس بچے یا بچی کا باپ فوت ہوجائے اُس کو یتیم کہتے ہیں۔ جب بچہ بالغ یا بچی بالغہ ہوگئی تو اب یتیم کے اَحکام ختم ہوئے ۔یتیموں  کے ساتھ حسن سلوک کا بھی بڑا ثواب ہے۔چنانچہ رسولِ کریم ،   ر ء وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عظیم ہے :  ’’جو شخص یتیم کے سر پرمحض اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کے لئے ہاتھ پھیرے تو جتنے بالوں  پر اُس کا ہاتھ گزرا ہر بال کے مقابل میں  اُس کیلئے نیکیاں  ہیں  اور جو شخص یتیم لڑکی یا یتیم لڑکے پر اِحسان کرے میں  اور وہ جنت میں  (دوانگلیوں  کو ملا کر فرمایا)اس طرح ہو ں  گے۔‘‘(مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۸ ص۲۷۲ حدیث۲۲۲۱۵)

          یتیم کے سرپر ہاتھ پھیرنے اور مسکین کو کھانا کھلانے سے دل کی سختی دور ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدنا ابوہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی۔ نبیِّ رحمت،  شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔‘‘ (ایضاًج۳ص۳۳۵حدیث۹۰۲۸)

 



Total Pages: 14

Go To