$header_html

Book Name:Ihtiram e Muslim

یہی محسوس ہوتا کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   مجھے سب سے زِیادہ چاہتے ہیں ٭ خد متِ بابرکت میں  حاضر ہوکر گفتگو کرنے والے کے ساتھ اُس وَقت تک تشریف فرما رہتے جب تک وہ خود نہ چلا جائے ٭جب کسی سے مصافحہ فرماتے(یعنی ہاتھ ملاتے)تواپناہاتھ کھینچنے میں پہل نہ فرماتے ٭ سائل (یعنی مانگنے والے) کو عطا فرماتے ٭آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی سخاوت وخوش خُلقی ہر ایک کے لئے عام تھی٭آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کی مجلس علم ،   بردباری،  حیا،  صبر اور اَمانت کی مجلس تھی٭ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مجلس میں  شوروغل ہوتا نہ کسی کی تذلیل(یعنی بے عزتی) ٭آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مجلس میں  اگر کسی سے کوئی بھول ہوجاتی تو اُس کوشہرت نہ دی جاتی([1]) ٭جب کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل توجہ فرماتے([2]) ٭ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کسی کے چہرے پر نظریں  نہ گاڑتے تھے([3])  ٭آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے([4])  ٭ سلام میں  پہل فرماتے ([5]) ٭بچوں  کو بھی سلام کرتے ٭ جوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو پکارتا،   جواب میں ’’ لَبَّیک‘‘(یعنی میں  حاضرہوں  )  فرماتے   ([6])  ٭اہل مجلس کی طرف پاؤں  نہ پھیلاتے ٭اکثر قبلہ رو بیٹھتے ٭اپنی ذات کیلئے کبھی کسی سے بدلہ نہ لیتے ٭ برائی کا بدلہ برائی سے دینے کے بجائے معاف فرما دیا کرتے ([7])٭راہِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  میں  جہاد کے سوا کبھی کسی کو اپنے مبارَک ہاتھ سے نہ مارا،   نہ کسی غلام کو نہ ہی کسی عورت(یعنی زَوجہ وغیرہ) کومارا ([8]) ٭ گفتگو میں  نرمی ہوتی،   ([9])  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    نے فرمایا :  ’’اللہ تَعَالٰیکے نزدیک بروزِ قیامت لوگوں  میں  سب سے براوہ ہے جس کو اُس کی بدکلامی کی وجہ سے لوگ چھوڑدیں  ‘‘([10]) ٭آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    بات کرتے تو (اِس قدر ٹھہراؤ  ہوتا کہ) لفظوں  کو گننے والا گن سکتا تھا ([11])٭ طبیعت میںنرمی تھی اور ہشاش بشاش رہتے ٭ نہ چلاتے ٭ سخت گفتگو نہ فرماتے ٭ کسی کو عیب نہ لگاتے ٭ بخل نہ فرماتے ٭ اپنی ذاتِ والا کو بالخصوص تین چیزوں ،   جھگڑ ے ،   تکبر اور   بے کار باتوں  سے بچا کر رکھتی٭کسی کا عیب تلاش نہ کر تے ٭صرف وہی بات کرتے جو(آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حق میں)باعث ثواب ہو ٭مسافریا اجنبی آدَمی کے سخت کلامی بھرے سوال پربھی صبر فرما تی٭کسی کی بات کو نہ کاٹتے البتہ اگر کوئی حد سے  تجاوز کرنے لگتا تواُس کو منع فرماتے یا وَہاں  سے اُٹھ جاتے ([12])٭ سادَگی کا عالم یہ تھا کہ بیٹھنے کیلئے کوئی مخصوص جگہ بھی نہ رکھی تھی([13])٭کبھی چٹائی پر توکبھی یوں  ہی زمین پربھی آرام فرما لیتے ([14])٭کبھی قہقہہ (یعنی اتنی آواز سے ہنسنا کہ دوسرے لوگ ہوں  تو سُن لیں )نہ لگاتے ([15])؎٭صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  فرماتے ہیں   :  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے زیادہ مسکرانے والے تھے(یعنی موقع کی مناسبت سے ) ([16])حضرت عبدُاللہ بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ میں  نے رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ  مسکرانے والاکوئی نہیں  دیکھا۔ ([17])

یا الٰہی !  جب بہیں  آنکھیں  حسابِ جرم میں

                       اُن تبسم ریز ہونٹوں  کی دعا کا ساتھ ہو            (حدائقِ بخشش شریف)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]    شمائل ترمذی ص۱۹۲۔۱۹۳ وغیرہ  مُلَخَّصاً ۔

[2]    شُعَبُ الْاِیمان حدیث۱۴۳۰ ۔

[3]    اِحیاء الْعُلوم ج ۲ ص ۴۴۲ ۔

[4]    شمائل ترمذی ص۲۰۳۔

[5]    شُعَبُ الایمان حدیث۱۴۳۰

[6]    وسائل الوصول ص۲۰۷۔

[7]    اِحیاء الْعُلوم ج ۲ ص ۴۴۸،   ۴۴۹ ۔ 

[8]

$footer_html