Book Name:Ameer e Ahlesunnat Kay Baray Main 1163 Ulama e Ahlesunnat Kay Tasurat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

163     امیرِ اہلسنت اورآپ کی علمی ودینی خدمات

کے بارے میں    ۱۱۶۳علماء اہلسنت کے تآ ثرات

دُرُود شریف لکھنے کی فضیلت

            سیِّدُناسفیان بن عُیَیْنَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :   ’’ میرا ایک اسلامی بھائی تھا ،  جسے  مرنے کے بعد میں  نے خواب میں  دیکھ کر اس سے  پوچھا: مَافَعَلَ اللہُ بِک؟  یعنی اللہ تعالٰی نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟  جواب دیا:   ’’ اللہ تعالٰی نے مجھے بخش دیا۔  ‘‘ میں  نے پوچھا: کس عمل کے سبب؟  کہنے لگا:   ’’  میں  حدیث لکھتا تھا جب بھی شاہِ خیرالانام علیہ الصلوٰۃوالسلا م کا ذکرِ خیر آتا،  ثواب کی نیت سے   ’’ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم  ‘‘  لکھتا،  اِسی عمل کی بَرَکت سے  میری مغفرت ہوگئی۔  ‘‘    (اَلْقَولُ البََدِیع ص۴۶۳مؤسّسۃ الریّان بیروت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد

بندہ دو ہی میں  مشغول رہے

      اللہ تعالٰی قران مجید فرقان حمید میں  فرماتا ہے:

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (۵۶)   (پ۲۷ الذاریٰت: ۵۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور میں  نے جن اور آدمی اتنے ہی اسی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں ۔

          میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوی فرماتے ہیں : یہ آیتِ کریمہ شرافتِ عبادت کے ثبوت کے لیے کافی ہے،  اس آیت سے  یہ معلوم ہوا کہ بندے پر اپنے ربّ کی بندگی لازم ہے،  تو اسے  علم و عبادت کو ہی سب سے  زیادہ عظمت والی چیز تصور کرنا چاہیے کیونکہ پیدائش ِکائنات سے  مقصود انہی دو چیزوں  میں  کمال حاصل کرنا ہے،  اس لیے بندے کو چاہیے کہ انہی دو کے ساتھ مشغول رہے… انہی دو کے حصول کے لیے مشقتیں  برداشت کرے … اور انہی دو میں  غور و فکر کرتا رہے۔

          اے عزیز! تو یقین کر کہ ان دو کے سوا جو کچھ دنیا میں  ہے سب باطل ہے کہ اس میں  کوئی بھلائی نہیں  اور انکے علاوہ جو کچھ ہے لغویات ہے جس سے  کچھ حاصل نہیں ،  جب تیرے ذہن میں  علم و عبادت کی اہمیت آگئی تو اب یہ بات سمجھ کہ علم عبادت سے  افضل واشرف ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم  نے فرمایا:

 ’’ اِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَی العابِدِ کَفَضْلِی عَلٰی اَدْنیٰ رَجُلٍ مِّن اُمَّتِی  ‘‘ عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی میری اپنی ادنیٰ اُمتی پر۔ (ترمذی ،  کتاب العلم ،  باب فضل الفقہ علی العبادۃ ،  رقم ۲۶۹۴ ، ج۴ ، ص ۳۱۳)

ایک جگہ آپصلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمنے فرمایا:

 ’’ نَظْرَۃٌ فِیْ وَجْہِ الْعَالِمِ اَحَبُّ اِلَی اللہ مِنْ عِبَادَۃِ سِتِّیْنَ سَنَۃٍ صِیَامًاوَّقِیَامًا  ‘‘ عالم کی طرف ایک بار نظر کرنا میرے نزدیک ساٹھ برس روزے رکھنے اور ساٹھ برس رات کو نوافل پڑھنے سے  بہتر ہے۔ (المقاصد الحسنہ رقم۱۲۵۱ص۴۵۴)

            ایک اور جگہ آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)  نے فرمایا:

 ’’ اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی اَشْرافِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ قَالُوْا بَلٰی یَارَسُولَ اللہ قَالَ ھُمْ عُلَمَآءُ اُمَّتِی  ‘‘ کیا میں  تمہیں  سب سے  زیادہ بلند مرتبہ والے جنتی نہ بتاؤں ؟  صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ! (صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)  بتائیے !تو آپ  (صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)  نے فرمایا کہ وہ میری اُمت کے علماء ہیں ۔ (تاریخ جرجان رقم۲۱۵ص۱۷۲عالم الکتب بیروت)

            مندرجہ بالا احادیث سے  ثابت ہوا کہ عبادت سے  علم افضل ہے لیکن علم کے ساتھ ساتھ عبادت بھی ضروری ہے بغیر عبادت علم کا کوئی فائدہ نہیں  کیونکہ علم درخت کی مانند ہے اور عبادت پھل کی طرح اور درخت کی قدر پھل سے  ہوتی ہے،  اگرچہ درخت اصل ہے،  لہذا بندے کے لیے علم وعبادت دونوں  کا ہونا ضروری ہے اسی لیے حضرت حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا  ’’  علم کو اس طرح حاصل کرو کہ عبادت کو نقصان نہ دے،  اور عبادت اس طرح کرو کہ علم کو نقصان نہ ہو۔  ‘‘  (منہاج العابدین ص۱۱)

            حضرتِ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے  روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین،  رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا: کہ ''اللہ تعالٰی قیامت کے دن بندوں  کو اٹھائے گا تو علماء کو ان سے  علیحدہ فرمادے گا۔ پھر فرمائے گا'' اے علماء کے گروہ!میں  نے تمہیں  عذاب دینے کے لئے اپنا علم عطا نہیں  فرمایا، جاؤ! میں  نے تمہیں  معاف فرمادیا۔''  (طبرانی اوسط ،  باب العین ،  رقم۴۲۶۴ ،  ج۳ ،  ص ۱۸۴)

امیرِ اہلسنت کی علمائے اہلسنت سے  عقیدت

           علماء حق سے  محبت وعقیدت رکھنے کی ترغیبات وفضائل سے  قران وحدیث مالامال ہیں  جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ارشاد فرمایا:   قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-  ( پ۲۳،  الزمر: ۹)

ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں  جاننے والے اور انجان۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:  اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-  (پ ۲۲، فاطر: ۲۸)

 



Total Pages: 283

Go To