Book Name:Dancer Ban Gaya Sunnaton ka Paikar

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُوْدِ پاک کی فضیلت

                        شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ نازتالیف  ’’ غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘  میں اَ لْقَولُ البَدِیْع کے حوالے سے دُرُوْدِ پاک کی فضیلت نقل فرماتے ہیں :  حضرت علامہ مَجدُالدِّین فیروزآبادی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ الھَادِی سے منقول ہے:  جب کسی مجلس میں (یعنی لوگوں میں ) بیٹھو اور کہو:  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم وَ صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد تو  اللہ عزَّوَجَلَّتم پر ایک فرشتہ مقرر فرماد ے گا جو تم کو غیبت سے باز رکھے گا اور جب مجلس سے اٹھو تو کہو:  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم وَ صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد تو فِرِشتہ لوگوں کو تمہاری غیبت کرنے سے باز رکھے گا۔  (القول البدیع، ص۲۷۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {1}  ڈانسر، بن گیا سنّتوں کا پیکر

                        اورنگی ٹاؤن (کراچی) کے مقیم سید محمد ندیم عطاری مرحوم کے بیان کا خلاصہ ہے:  دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں دنیا کی رنگینیوں میں اس قدر کھویا ہوا تھا کہ قبر و آخرت کی تیاری کی کوئی فکر ہی نہ تھی۔ شب و روز گناہوں میں بسر ہو رہے تھے، ڈانس کرنا اور فلمی گانے گانا میرا معمول تھا۔ لوگوں میں ڈانسر کے نام سے مشہور تھا۔ قرب و جَوار میں ہونے والی شادی بیاہ کے فنکشنوں اور دیگر پروگراموں میں ڈانس کے لیے مجھے مَدعو کیاجاتا، جہاں رات بھر ناچ دکھاکر، گانے سناکر لوگوں کو محظوظ کرتا اور ان سے ملنے والی داد پر بہت خوش ہوتا۔ بظاہر زندگی کے دن بڑے سہانے گزر رہے تھے۔ شاید اسی موج مستی میں ایام زِیست کٹ جاتے۔ گناہوں کے انبار کے ساتھ مجھے اندھیری قبر میں اتار دیا جاتا مگرمجھ پر کرم ہوگیا، میری قسمت کا ستارہ چمک اُٹھا کہ اس پُر فتن دور میں دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول مل گیا جس کے فیضان سے ہزاروں مسلمان راہ ِسنّت کے مسافربن گئے ہیں۔ سبب کچھ یوں بنا  ایک دن دعوتِ اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول سے وابستہ عاشقِ رسول سے ملاقات ہو گئی جن کے سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج اور چہرہ داڑھی شریف کے نور سے پُر نور تھا۔ انہوں نے انتہائی محبت بھرے انداز میں سلام ومصافحہ کیا، تلاوتِ قراٰنِ مجید کے فضائل بتائے اور دُرُست مخارج سے قراٰنِ پاک پڑھنے کے لیے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں شرکت کامدنی ذہن بنایا۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تلاوتِ قراٰنِ مجید کے جذبے سے دل تو پہلے ہی سرشار تھا لہٰذامیں انکار نہ کرسکا اور شرکت کے لیے ہامی بھر لی اور نورِ قراٰن سے روشن و منور ہونے کے لیے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں پابندی سے شرکت کرنے لگا۔ مدنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی بڑی ہی محبت و لگن سے پڑھاتے، بار بار سبق کا تکرار کراتے، درست سبق سنانے پر حوصلہ بڑھاتے ، غلطی کرنے پر پیار سے سمجھاتے، ساتھ ہی ساتھ دعوتِ اسلامی کی بہاریں سناتے، ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دلاتے اور اکثر و بیشتر اجتماع میں حاضری کی بابت دریافت فرماتے، یوں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ سنّتوں بھرے اجتماع میں جانے کا میرامعمول بن گیا۔ دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعات کی برکت سے جہاں بے شمار گنہگارسنّتوں کے آئینہ دار بن گئے وہیں میرے اخلاق وکردار میں بھی مثبت تبدیلیاں رونماہونے لگیں ، پرسوز بیان اور رقت انگیز دعا نے دل پر چھائی گناہوں کی سیاہی دور کر دی اور دل یادِ الٰہی اور ذکرِ مصطفیٰ سے پرنور ہو گیا۔

                        مزید کرم بالائے کرم یہ کہ دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے مرحوم نگران حاجی محمد مشتاق عطاری عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ البَارِی کی صحبت پُراثر ملی۔ آپ جب بھی ملتے شفقت فرماتے، مدنی کاموں کی ترقی و عروج میں حصہ لینے کا جذبہ دلاتے، ایک دن مسجد میں درسِ فیضانِ سنّت دینے کی مجھے ترغیب دلائی، چونکہ میں پینٹ شرٹ پہنتاتھا اور چہرے پر داڑھی شریف بھی نہیں تھی لہٰذا میں نے  عرض کی! حضور:  مجھے اس حالت میں درس دیتے ہوئے شرم محسوس ہو گی، یہ سن کر فرمانے لگے ، آپ درس دینا تو شروع کریں  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّبہت جلدآپ کا  چہرہ داڑھی شریف سے روشن ہو جائے گا۔ یہ ترغیبی کلمات تاثیر کا تیر بن کر دل میں پیوست ہو گئے۔ میں نے جلد ہی اپنے علاقے کی مسجد میں درسِ فیضانِ سنّت دینا شروع کر دیا۔ درس دینے کی برکت سے میری داڑھی شریف



Total Pages: 10

Go To