We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

اَئِمَّۃَ الْکُفْرِ ۙ اِنَّہُمْ لَاۤ اَیۡمٰنَ لَہُمْ لَعَلَّہُمْ یَنۡتَہُوۡنَ ﴿۱۲

ترجمۂکنزالایمان: اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں  تو کفر کے سرغنوں سے لڑو بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگرمعاہدہ کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو کفر کے پیشواؤں سے لڑو، بیشک ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں (ان سے لڑو) تا کہ یہ باز آئیں۔

{ وَ اِنۡ نَّکَثُوۡۤا اَیۡمٰنَہُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ عَہۡدِہِمْ:اور اگرمعاہدہ کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑیں۔ } یہاں حکم دیا گیا کہ اگر کفار معاہدہ توڑ دیں اور مسلمانوں کے دین میں طعن و تشنیع کریں تو پھر کوئی عہد باقی نہیں بلکہ اب ان کا فیصلہ میدانِ جنگ میں ہی ہوگا۔ (1)

 دین میں طعنہ زنی سے کیا مراد ہے؟

        دین میں طعنہ زنی سے مراد یہ ہے کہ دینِ اسلام کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرنا جو دینِ اسلام کے شایانِ شان نہیں یا ضروریات ِدین میں سے کسی چیز کو ہلکا جان کر اس پر اعتراض کرنا۔اسی طرح نماز اور حج پر طعنہ زنی کرنا، قرآن اور ذکرِ رسول پر طعنہ زنی کرنا یا رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شانِ پاک میں گستاخی کرنا سب اس میں داخل ہے۔ (2)

آیت’’ وَ اِنۡ نَّکَثُوۡۤا اَیۡمٰنَہُمۡ ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

        اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں :

 (1)… جن مشرکین سے معاہدہ کیا گیا ہو تو اس معاہدے کے قائم رہنے کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ہمارے دین پر اعلانیہ طعنہ زنی نہ کریں اور اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں یا قرآن سے متعلق کسی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲/۲۲۰۔

2تفسیر قرطبی، براء ۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴/۱۷، الجزء الثامن، روح المعانی، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۵/۳۵۳، ملتقطاً۔