We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Sirat ul Jinan jild 4

بِاَفْوٰہِہِمْ وَتَاۡبٰی قُلُوۡبُہُمْ ۚ وَاَکْثَرُہُمْ فٰسِقُوۡنَ ۚ﴿۸

ترجمۂکنزالایمان: بھلا کیونکر ان کا حال تو یہ ہے کہ تم پر قابو پائیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں  نہ عہد کا اپنے منہ سے تمہیں راضی کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں انکار ہے اور ان میں اکثر بے حکم ہیں۔

 

 

ترجمۂکنزُالعِرفان: بھلا کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی رشتے داری کا لحاظ کریں گے اور نہ ہی کسی معاہدے کا۔ وہ تمہیں اپنے منہ سے راضی کرتے ہیں اور ان کے دل انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر نافرمان ہیں۔

{ کَیۡفَ:کیسے ہوسکتا ہے۔} یعنی مشرکین کیسے عہد پورا کریں گے اور کیسے قول پر قائم رہیں گے حالانکہ ان کا حال تو یہ ہے کہ  اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی رشتے داری کا لحاظ کریں گے اور نہ ہی کسی معاہدے کا۔ وہ تمہیں ایمان لانے اور وفائے عہد کے وعدے کرکے اپنے منہ سے راضی کردیتے ہیں اور ان کے دل ایمان اور وفائے عہد کا انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر نافرمان یعنی عہد شکن ،کفر میں سرکش، بے مُرَوَّت اور جھوٹ سے نہ شرمانے والے ہیں۔(1)

کفار کا مسلمانوں کے ساتھ عمومی رویہ:

        کفار کا یہ حال عام طور پر رہا ہے کہ وہ مسلمان کے مقابلے میں نہ قرابت داری کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ معاہدے کا بلکہ جب کبھی موقع ملتا ہے تو کوئی بہانہ بنا کر عہد شکنی کردیتے ہیں جیسا کہ آج کے زمانے میں بھی کفار کی حکومتوں کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ دیکھا جاسکتا ہے اور ان کا حال تو اپنی جگہ لیکن افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ یہ سب کچھ جاننے، دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود مسلمان عبرت حاصل نہیں کرتے اور دفاعی، تجارتی اور دیگر امور میں مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کرنے کے مقابلے میں کفار کے ساتھ معاہدے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ اس میں انہیں کتنا ہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِہٖؕ اِنَّہُمْ سَآءَ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸، ص۴۲۷۔